30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ(۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اپنے رب سے دُعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ بے شک حد سے بڑھنے والے اُسے پسند نہیں۔
اِسآیتِ مُبارَکہ کے تحت حضرتِ علّامہ محمد بن احمد انصاری قُرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں : لفظ “ خُفْیَۃً “ سے مُراد دِل میں دُعا کرنا ہے تاکہ ریاکاری کی تباہی سے بچا جا سکے ۔ اسی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے برگزیدہ بندے حضرتِ سَیِّدُنا زکریا عَلَیْہِ السَّلَام کے متعلق خبر دیتے ہوئے ان کی تعریف قرآنِ پاک میں کچھ اس طرح بیان فرمائی : (اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا(۳))([1]) (پ۱۶ ، مریم : ۳) ترجمۂ کنز الایمان:جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا۔
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عظیم ہے : آہستہ دُعا کرنا بلند آواز کی ستَّر دُعاؤں کے برابر ہے۔ ([2])
رہی بات دُعا میں اِخلاص پیداکرنے کی تو اس کے لیے ضَروری ہے کہ پہلے ان اَسباب کودورکیاجائے جو اِخلاص ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ دُعامانگتے وقت حتَّی الْاِمکان دل کو دوسروں کے خیالات سے پاک کرے کہ دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خاص نظرِ کرم فرمانے کی جگہ ہے۔ دُعا میں ظاہری بدن کی عاجزی وانکساری کے ساتھ ساتھ دل بھی حاضر ہو اور دُعا کی قبولیت کا یقین بھی کہ حدیثِ پاک میں ہے : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کرو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے اور جان رکھو کہ بے شکاللہ عَزَّوَجَلَّکسی غافل کھیلنے والے دل کی دُعا قبول نہیں فرماتا۔ ([3]) اِجتماعی دُعا کروانی ہو تو اس میں بھی اِخلاص کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی جائے ، لوگوں کو دِکھانے اور سُنانے کے لیے رِقَّت پیدا کرنے سے اِجتناب کیا جائے ، ہاں! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاؤں اور اپنی خطاؤں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے خود بخود رِقَّت پیدا ہو جائے تو اس میں حرج نہیں۔ اس طرح دُعا مانگیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِخلاص بھی نصیب ہو گا اور دُعا بھی قبول ہو گی۔
ہمیشہ نگاہوں کو اپنی جھکا کر
کروں خاشِعانہ دُعا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
نیکیوں کو چھپانے کے ليے جھوٹ بولنا کیسا؟
عرض : کسی کے پوچھنے پر اپنی نیکیوں کو ظاہر کر دیا جائے یا نیکیوں کو چھپانے کےلیے جھوٹ بولنے کی اجازت ہے؟
اِرشاد : اپنی نیکیوں کو رِیاکاری کی تباہ کاری سے بچانے کے لیے پوشیدہ رکھنا ضروری ہےمگر نیکیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی دوسرا پوچھے تو اس کے پوچھنے پر بقدرِ ضَرورت اپنی نیکی کا اِظہار کر دیجیے ، مثلاً کسی نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا کہ کیا آپ نے حج ادا کر لیاہے؟ اگر آپ نے حج کیا ہوا ہے تو جواباً کہہ دیجیے کہ جی ہاں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اس کو اپنے حج وعمرہ کی تعداد گنوانا شروع کر دیں ۔ ایسے ہی اگر آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے تو کسی نے آپ سے روزے کے متعلق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع