30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبادات کو پوشیدہ طور پر ادا کر نا بہتر ہے تاکہ عمل باطل ہونے سے محفوظ رہے اور اگر رِیا سے دل بالکل صاف ہو اور رِیا کے شائبہ سے محفوظ ہونے کا پختہ یقین ہو تو اس کے حق میں اِظہار افضل ہے تاکہ اس کی اِقتدا کا فائدہ حاصل ہو۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں : فرض عبادات میں اِظہار افضل ہے پس فرض نماز مسجد میں ادا کرنا گھر میں ادا کرنے سے افضل ہے اور نفل نماز گھر میں ادا کرنا مسجد میں ادا کرنے سے افضل ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ ظاہر کر کے دینا پوشیدہ دینے سے افضل ہےاور پوشیدہ نفلی صدقہ عَلانیہ سے افضل ہے۔ اسی پر دیگر عبادات کو قیاس کر لیجیے(یعنی فرض عبادات میں اِظہار اور نفلی عبادات میں اِخفا افضل ہے۔ ) ([1])
تفسیرِ قرطبی میں ہے : خَلق کے رہبر ، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ مبارَک ہے : بہتر ذِکر وہ ہے جو پوشیدہ ہو اور بہتر رِزْق وہ ہے جو کفایت کر جائے۔ ([2])شریعت میں یہ بات ثابت ہے کہ وہ اعمال جن کو دِکھا کر کرنا لازم نہیں انہیں چھپا کر کرنے میں عَلانیہ سے زیادہ ثواب ہے۔ حضرتِ سَیِّدُناامام حسن بن ابوالحسنرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اِرشاد فرمایا کہ ہم نے زمین پر چند ایسے لوگوں کو پایا جو اپنے اعمال کو چھپانے کی اِنتہائی کوشش کرتے ہیں مگر ہمیشہ ان کا عمل ظاہر ہو جاتا ہے۔ ([3])
پوشیدہ عبادت کے بارے میں ہادیٔ راہِ نَجات ، سرورِ کائناتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : وہ ذِکر جس کو نگہبان فرشتے بھی نہ سُن سکیں ، اس ذِکر پر جس کو وہ فرشتے سُن سکیں ستر درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ([4]) ایک اور حدیث میں اِرشاد فرمایا : ظاہِری عمل کے مُقابلے میں پوشیدہ عمل افضل ہے۔ ([5]) مگر ایسا شخص کہ جس کی پَیروی کی جاتی ہو وہ لوگوں کو رَغبت دِلانے کی نیّت سے ایسا عمل ظاہِر کر سکتا ہے جبکہ اِس اِظہار میں رِیا کی آمیزش نہ ہو۔ اِس طرح اِخلاص کے ساتھ عمل کے اِظہار سے وہ ثوابِ عظیم کا حقدار ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے : جب عَلانیہ عمل کی پَیروی کی جائے تو وہ(ظاہر کیا جانے والا عمل )چُھپ کر کیے جانے والے عمل سے افضل ہے۔ ([6])
پوشیدہ دُعا افضل ہے یا عَلانیہ؟
عرض : پوشیدہ دُعاافضل ہے یا عَلانیہ ؟نیزدُعا میں اِخلاص کیسے حاصل ہو ؟
اِرشاد : دُعا اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنے اور مُناجات کرنے کا نام ہے لہٰذا اس میں پوشیدگی ہی بہترہے ۔ پوشیدہ طور پر دُعا کرنے میں یکسوئی اور اِخلاص کی نعمت میسر ہوتی ہے نیز ریاکاری سے بھی حفاظت ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں پوشیدہ طور پر دُعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے چُنانچہ پارہ 8 سورۃُالاعراف کی آیت نمبر55 میں اِرشاد ہوتا ہے :
[1] تفسيرِ خازن ، پ ۸ ، اَلاعراف ، تحت الآیة : ۵۵ ، ۲ / ۱۰۳
[2] مسندِ امام احمد ، مسند ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص ، ۱ / ۳۶۴ ، حدیث : ۱۴۷۷
[3] تفسیرِ قرطبی ، پ ۸ ،اَلاعراف ، تحت الآیة : ۵۵ ، ۴ / ۱۶۲
[4] کنزُالعُمّال ، من حرف الھمزة فی الاذکار...الخ،الباب الاوّل فی الذکر و فضیلته، الجزء : ۱ ، ۱ / ۲۲۷ ، حدیث : ۱۹۲۵
[5] شُعَبُ الْاِیمان ، باب فی السرور بالحسنة والاغتمام بالسیئة ، ۵ / ۳۷۶ ، حدیث : ۷۰۱۲
[6] شُعَبُ الایمان ، باب فی السرور بالحسنة والاغتمام بالسیئة ، ۵ / ۳۷۶ ، حدیث : ۷۰۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع