30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمارے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ظاہِری کے ساتھ ساتھ باطِنی طور پر بھی نیکی کی دعوت کی تَرکیب فرمایا کرتے تھے، چُنانچِہ امامُ الطّائِفہ حضرتِ سیِّدُنا جُنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیکے ایک مُرید جو کہ بَصرہ شریف میں گوشہ نشین تھے، اُن کے دل میں ایک روز کسی گناہ کا خیال آیا ، اِس بُرے خیال کی نُحوست سے اُن کا چِہرہ سیاہ پڑ گیا، وہ بڑے گھبرائے ، تین دن کے بعد سیاہی ختم ہو گئی ، اُسی دن اُن کے پیرو مرشِد کارُقعَہ موصول ہوا، اُس میں مَرقُوم (یعنی لکھا) تھا :اپنے دل کو قابو میں رکھو، چِہرے کی سیاہی (کالک)دھونے کیلئے تین دن تک مجھے دھوبی کاکام کرنا پڑا ہے۔ (تَذْکِرۃُ الْاَولِیاء، الجزءُ الثّانی ص۱۸)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حِکایت سے معلوم ہوا کہ سیِّدُنا جُنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیپِیرِروشن ضمیر تھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کو بَہُت دُور کی نظر سے نوازا تھا جبھی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بصرہ شریف میں موجود مُرید کے دل کی کیفیَّت مُلاحَظہ فرمالی، سیاہ چِہرہ بھی دیکھ لیا اور دورہی سے باطِنی توجُّہ ڈال کر مُرید کے چِہرے کی سیاہی بھی دھوڈالی ! اس حِکایت سے یہ بھی درس ملا کہ کامل پیر کی بدولت انسان گناہوں سے بچا رہتاہے اور اگر کوئی لغزِش واقِع ہو بھی جائے تو بِاِذْنِ اللّٰہ تَعَالٰیپیرو مرشِد کی توجُّہ کے سبب اس کا تدارُک(یعنی اِصلاح کا سامان) بھی ہو جاتا ہے لہٰذا ضَرورکسی کامل پیر کا مُرید ہو جانا چاہئے اور یہ بھی معلو م ہوا کہ خُدا عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے منہ پر ایک خاص نُورانیَّت کاجلوہ نظر آتا ہے جبکہ گناہوں کے اِرتِکاب سے دل بھی سیاہ ہو جاتا اورمُنہ پر بھی نُحوست چھا جاتی ہے۔
تِرے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے تِرے ہاتھ ہے لاج یا غوثِ اعظم
مُریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے کہ بیڑے کے ناخدا غوثِ اعظم
نکالا تھا پہلے تو ڈوبے ہوؤں کو
اور اب ڈوبتوں کو بچا غوث اعظم(ذوقِ نعت )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کسی جامِعِ شرائط پیر کامُرید ہوجانے میں اور کسی کے ہورہنے میں نفع ہی نفع ہے چُنانچِہ مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکی اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی سیرت پر مبنی کتابِ مستطاب، ’’ اَخبارُ الْاَخْیار‘‘ میں حضرتِ سیِّدُنا شیخ حُسامُ الدّین عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ المُبِیْنکے حالات میں بیان کردہ دو دلچسپ فرضی حکایتوں کے ذَرِیعے پیرِ کامل کے ذَرِیعے مُرید کو پہنچنے والے فوائد سمجھے جا سکتے ہیں ۔چُنانچِہ فرماتے ہیں : ایک اونٹ کو چوہے نے جنگل میں چرتے دیکھ کر کہا: اے اُونٹ تم کسی کے ہو رہو۔ اونٹ نے جواب دیا:’’ میں تمہارا ہو گیا۔‘‘ ایک دن اُونٹ کسی دَرَخت کے ہرے ہرے پتّے کھارہا تھا کہ اُس کی نکیل (نَ۔کِیل یعنی ناک کی رسی) دَرَخت کی شاخ میں بُری طرح اٹک گئی اور اُونٹ پھنس کر عاجِز ہوگیا۔ اُس نے اِس بُرے وَقت میں چوہے کو پکارا!چُنانچِہ وہ چوہا اپنے دوسرے چوہوں کے ساتھ آ یا۔سب نے مل کر دَرَخت میں پھنسی ہوئی رسّی کُتَر دی،اِس طرح اونٹ نے نَجات پائی ۔ (اخبارُ الاخیار ص۱۷۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس فرضی حِکایت میں نہایت دلچسپ پیرائے میں سمجھایا گیاہے کہ ’’آزاد ‘‘رہنے کے بجائے ’’ کسی کے ہو رہو۔‘‘ توجو کوئی شخص کسی پیرِ کامل کا ’’ہو رہتا ہے‘‘ توآڑے وَقت کامل پیر کی بَرَکت سے نَجات کا سامان ہوجاتا ہے۔ اِس ضِمن میں ایک اور دلچسپ حِکایت سماعت فرمایئے: ایک مجلس میں چند اشخاص جمع تھے ، اچانک ایک مینڈک پُھَدکتا ہواآنکلا، یہ دیکھ کر ایک دانا شخص اُس مجلس سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ لوگ ( اُس کو بزدل سمجھ کر ) ہنسنے لگے ۔ جب اُس سے مینڈک سے ڈرنے کاسبب دریافت کیاگیاتو اُس دانا نے کہا کہ میں مینڈک سے نہیں ڈرتا ، البتّہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اس کے پیچھے کہیں کوئی سانپ نہ آ رہاہو! اسی طرح اگر کوئی دَرویش خود کمزور ہو مگر اُس کا سلسلہ نہایت مضبوط ہو تو اُس سے ڈرنا چاہئے کیونکہ اُ س کورنجیدہ کرنے سے اُس کے سلسلے کے تمام مشائخ کِبیدہ خاطر اور رنجیدہ دل ہو جائیں گے ۔ (اخبارُ الاخیار ص۱۷۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مینڈک کوسانپ کھا جاتا ہے اِسی لئے وہ دانا شخص مینڈک کودیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کا شکار کرنے کیلئے پیچھے سانپ لگا ہو جومجھے ڈس لے۔ یہ مثال دیکر حضرتِ سیِّدُنا شیخ حُسَامُ الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ المُبِیْنے کمزور دَرویش اور اُس کے قوی مُرشِدِین کی مثال دی ہے تو واقِعی جو آدمی کسی پیرِ کامل کامُرید ہو جاتا ہے اُس کی ’’ پیٹھ مضبوط‘‘ ہو جاتی ہے کہ اگر اس کا اپنا پیر ’’ کمزور‘‘ ہو ابھی تو کیا ہو ا!اپنے پیر کاپیر یاپھر اُس کا پیر تو مضبوط ہو گا اور یوں دنیا و آخِرت کی بھلائیاں ہاتھ آئیں گی۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ صَفْحَہ260تا263پر سے بعض دلچسپ و معلوماتی عرض و ارشاد پیش کئے جاتے ہیں سنئے اور ایمان تازہ کیجئے:
عرض : بَیعَت کے کیا معنیٰ ہیں ؟
ارشاد : بیعت کے معنی ’’بِک جانا ۔‘‘
سزاۓ موت کے موقع پر ایک مرید کی اپنے پیر سے عقیدت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع