30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے: اَلدُّعَاءُ سِلاحُ الْمُؤْمِن یعنی دُعا مؤمِن کا ہتھیار ہے۔(اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۲ ص ۱۶۲ حدیث۱۸۵۵) شیطان کے خلاف جنگ میں یہ ہتھیار استعمال کرتے ہوئے خُدائے غفّار کے دربارِ کرم بارمیں یوں دُعا کیجئے : یاربِّ مصطَفٰے!مجھے رِیاکاری کی بیماری سے شِفا عطافرما،میری خالی جھولی اِخلاص کی لازوال دولت سے بھر دے۔میرا سامنا اُس دشمن (یعنی شیطان)سے ہے جو مجھے دیکھتا ہے مگر خود دکھائی نہیں دیتا لیکن تُو اُس کو مُلاحَظہ فرما رہا ہے، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے اس دشمن کے مکروفَریب سے بچا لے ،اےاللہ عَزَّ وَجَلَّمیں اِس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کی نظر میں تومیرا حال بَہُت اچّھا ہو،وہ مجھے نیک اور پرہیز گار سمجھتے رہیں مگر تیرے دربار میں سزاکا حقدار ٹھہروں ۔
مِرا ہر عمل بس ترے واسِطے ہو
کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی (وسائلِ بخشش ص۷۸)
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{دوسرا علاج}رِیاکاری کے نقصانات پیشِ نظر رکھئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ رِیاکاری کی آفات اور اس کے نقصانات اپنے پیشِ نظر رکھیں کیونکہ آدمی کا دل کسی چیز کواُس وقت تک ہی پسند کرتا ہے جب تک وہ اسے نَفع بخش نظر آتی ہے مگر جب اُسے اُس شے کے نقصان دِہ ہونے کا پتا چلتا ہے تو وہ اُس سے بچتا ہے مَثَلاً کسی اسلامی بھائی کو لذَّت اورمِٹھاس کی وجہ سے شَہْد بَہُت پسندہو لیکن اگر اسے یہ بتادیا جائے کہ یہ شَہد جسے تم پینے جارہے ہو،اِس میں زَہر ملاہوا ہے تو وہ اُس میں موجودلَذَّت ومِٹھاس نہیں زَہرکودیکھے گا اور اسے ہرگزہرگز نہیں پئے گا ۔اِسی طرح لوگوں پر اپنا نیک عمل ظاہِر کرنے اور ان کی طرف سے واہ واہ ہونے میں یقینا نفس کو بڑی لذَّت ملتی ہے بلکہ اُس لَذَّت کے سبب عبادت کی مشقّت بھی آسان ہوجاتی ہے ، لیکن ہم اِس لذَّت کے بجائے رِیاکاری کے ذریعے ہونے والے زہرسے بھی خطرناک نقصانات ذِہن میں رکھیں تو اس سے بچنا ہمارے لئے قدرے آسان ہوجائے گا کیونکہ زہرکا نقصان صِرْف دُنیاکی حدتک ہے جب کہ ’’رِیا ‘ ‘ آخِرت کیلئے تباہ کار ہے۔کیا رِیاکاری کا یِہی نقصان کچھ کم ہے کہ نیک عمل میں مَشَقَّت اُٹھانے کے باوُجُود ثواب سے محرومی رہے ! اُس مزدور کا کیا حال ہوگا جو سارا دن دھوپ میں پسینہ بہائے اور جب مزدوری ملنے کا وقت آئے تو اُس کی مزدوری یہ کہہ کر روک لی جائے کہ تم نے فُلاں فُلاں غَلَطیکی ہے اس لئے تمہیں مزدوری نہیں ملے گی ۔ مگرآہ! رِیاکار تو ثواب سے محرومی کے ساتھ ساتھ عذابِ نار کابھی حقدار ہے، وہ انسان کتنا نادان ہے کہ جس شے سے وہ لاکھوں کماسکتا ہے اُسے صِرف وقتی خوشی کی خاطر مُفت کے داموں بیچ دے ،بالکل اِسی طرح وہ عبادت گزار کتنا ناسمجھ ہے جو عبادت کے ذَرِیعے خالقعَزَّ وَجَلَّکا قُرب چاہنے کے بجائے مخلوق کو اپنا بنانے کی کوشش کرے ،ایسے رِیاکار نے گویا اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی گوارا کر لی اور اس کے بدلے لوگوں سے اُن کی مَحَبَّت چاہی ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ہونے والی مَذَمَّت کے بدلے لوگو ں کی مِدحت (یعنی تعریف) کا طالِب ہوا،اللہعَزَّوَجَلَّکی ناراضی کے بدلے لوگوں کی رِضا وخوشنودی طلب کی اورباقی رہنے والی جنَّتی نعمتیں فانی دُنیا کے بدلے بیچ ڈالیں ! پھر سب لوگوں کو راضی رکھنا دُودھ کی نَہْر کھودنے کے مُتَرادِف(مُ۔تَ۔را۔دِف) ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک بات سے خوش ہوتے ہیں تواُسی بات سے ناراض ہونے والوں کی بھی ایک تعداد ہوتی ہے ۔
عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت
نہ نزدیک آئے رِیا یاالٰہی(وسائلِ بخشش ص۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دکھاوے کے لئے عمل کرنے والے کی مثال
لوگوں کودِکھانے اور سنانے کے لئے عمل کرنے والے کی مِثال اُس شخص کی طرح ہے جو اپنی جیب میں خوب کنکریاں بھر کر اُسے نُمایاں کرتے خریداری کے لئے بازار چلا گیا،جب لوگوں نے اُس کی اُبھری ہوئی جیب دیکھی تو حیرت سے کہنے لگے:’’واہ بھیٔ !دیکھو تو سہی!اس کی جیب کس قدر رقم سے بھری ہوئی ہے!‘‘ مگر اُسے لوگوں کی اِس و اہ واہ کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ملے گاکیوں کہ وہ جُوں ہی دُکاندار کودام ادا کرنے کے لئے اپنی جیب سے رقم کے بدلے پَتّھر نکالے گا، ذلیل ورسوا ہو جائے گا۔ اسی طرح دِکھانے اور سنانے کے لئے عمل کرنے والے رِیاکارکو لوگوں کی طرف سے بولے جانے والے تعریفی کلمات کے علاوہ کوئی نَفع حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی اُسے قِیامت کے دن کوئی ثواب ملے گا۔ (اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۱ ص۸۶ بِتَصَرُّفٍ)
بڑی کوششیں کی گنہ چھوڑنے کی
رہے آہ! ناکام ہم یاالٰہی (وسائل بخشش ص۸۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{تیسرا علاج}رِیاکے اسباب کا خاتِمہ کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر بیماری کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے اگر سبب مٹادیا جائے تو بیماری بھی رخصت ہوجاتی ہے۔ اِسی طرح رِیاکاری کے بھی بُنیادی طور پر تین اَسباب ہیں ،اگر اِن تین چیزوں سے جان چُھڑا لی جائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّرِیاکاری سے بچنا بے حدآسان ہوجائے گا ۔ وہ تین اسباب یہ ہیں :(۱)حُبِّ جاہ یعنی شُہرت کی خواہِش (۲)مَذَمَّت کا خوف اور(۳) مال ودولت کی حِرص ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع