30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شَرحِ کلامِ رضا: میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اِس شِعر میں فرماتے ہیں :جو لوگ آج دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیاروں کو ’’بے اختیار‘‘ سمجھتے ہیں ، بروزِ محشر ہم بھی ان کا خوب تماشا دیکھیں گے کہ کس طرح بے بسی او ر بے چینی کے ساتھ انبیاءکرام عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے پاک درباروں میں شَفاعت کی بھیک لینے کیلئے دھکّے کھا رہے ہوں گے! مگر ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔ جبھی تو کہا جا رہا ہے: ؎
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قِیامت میں اگر مان گیا (حدائقِ بخشش شریف)
شَرحِ کلامِ رضا:یعنی آج اختیاراتِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اِعتراف کرلے اور ان کے دامنِ کرم کی پناہ میں آ جا اور اِن سے مدد مانگ ۔ اگر تُو نے یہ ذہن بنا لیا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے بھی مدد نہیں کر سکتے تو یاد رکھ! کل بروزِ قِیامت جب اللہ تعالٰیکے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شانِ محبوبی ظاہر ہو گی او ر تُو اختیارات تسلیم کر لے گا اور شَفاعت کی صورت میں مدد کی بھیک لینے دوڑے گاتو اُس وَقت سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہیں ’’ مانیں ‘‘ گے کہ دنیا ’’ دارُ العمل ‘‘(یعنی عمل کی جگہ) تھی اگر وَہیں ’’مان لیتا ‘‘ تو کام ہو جاتا ،اب’’ماننا ‘‘ کام نہ دے گا کیوں کہ آخِرت دارالعمل نہیں ’’دارُالجَزا‘‘ (یعنی دنیا میں جو عمل کیا اُس کا بدلہ ملنے کی جگہ )ہے۔
شفاعت کی امید پر گناہ کرنے والا کیسا ہے؟
شَفاعت کی اُمّید پر گناہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اچّھا ڈاکٹر مل جانے کی اُمّید پر کوئی زَہر کھالے یا ہڈّیوں کے ماہِر ڈاکٹر کے ملنے کی اُمّید پرگاڑی کے نیچے خود کو گراکر سارے بدن کی ہڈّیاں تُڑوالے۔اور یقینا کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا ۔ لہٰذا ہر دم گناہوں سے بچتے رہنا ضَروری ہے۔ شَفاعت کی اُمید پر اللہ و رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نافرمانیاں کر کے خود کو جہنَّم کے عذاب کیلئے پیش کرتے رہنا نہایت خطرناک ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ہر وَقت ڈرتے رہنا چاہئے اگر گناہوں کی نُحوست سے ایمان ہی برباد ہو گیاتو شفاعت کیسی! خدا کی قسم! ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوزخ کی بھڑکتی آگ اور گُونا گُوں عذابوں کاسامنا ہو گا ۔ وَالعِیاذُبِاللّٰہ (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ) ہاں بچنے کی لاکھ کوشش کے باوُجُود نہ چاہتے ہوئے بھی بسا اوقات جو آدَمی گناہوں میں پھنس جاتا ہے، اُسے چاہئے کہ توبہ استِغفار بھی کرتا رہے اور شفیعِ روزِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے شفاعت کی خیرات بھی مانگتا رہے۔
اے شافِعِ اُمَم شہِ ذی جاہ لے خبر لِلّٰہ لے خبر مِری لِلّٰہ لے خبر
مجرم کو بارگاہِ عدالت میں لائے ہیں تکتا ہے بیکسی میں تِری راہ لے خبر
اہلِ عمل کو اُن کے عمل کام آ ئیں گے
میرا ہے کون تیرے سوا آہ! لے خبر (حدائقِ بخشش شریف)
شَرحِ کلامِ رضا! اے تمام اُمَّتوں کی شَفاعت فرمانے والے عزّت والے شہنشاہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَخدارا!مجھ گنہگار کی خبر لیجئے! اے پیارے آقا ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمجرم کی عدالت میں پیشی ہو چکی ہے، گنہگار غلام نہایت بے کسی کے عالم میں شَفاعت کی امّید لئے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تشریف آوَری کا منتظر ہے۔یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبے شک نیک بندوں کیلئے اُن کی نیکیاں کار آمد ہوں گی ، آہ! مجھ نیکیوں سے تہی دامن( یعنی بالکل خالی) اور سرتاپا گناہوں سے لِتھڑے ہوئے غلام کا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سوا کون ہے جو شَفاعت کر کے عذابِ نار سے بچا لے!
تسلّی رکھ تسلّی رکھ نہ گھبرا حشر سے عطّارؔ
تِرا حامی وہاں پر آمِنہ کا لاڈلا ہوگا (وسائل بخشش ص ۱۸۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا نُعمان بن بَشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولوں کے سالار ،نبیوں کے سردار، دو عالم کے مالک و مُختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ مُشکبار ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حُدُود میں سستی کرنے والے اور اُن میں مبتَلا ہونے والے کی مِثال اُن لوگوں جیسی ہے جنہوں نے کَشتی میں قُرعہ اندازی کی،تو بعض کے حصّے میں نیچے والا حصّہ آیااور بعض کے حصّے میں اُوپر والا۔پس نیچے والوں کو پانی کے لیے اُوپر والوں کے پاس جانا ہوتا تھا،تو اُنہوں نے اِ سے زحمت شمار کرتے ہوئے ایک کُلہاڑ ی لی اورکشتی کے نِچلے حصّے میں ایک شخص سوراخ کرنے لگا ، تو اوپر والے اُس کے پاس آئے اورکہاکہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟کہا کہ تمہیں میری وجہ سے تکلیف ہوتی تھی اور پانی کے بِغیر گزارہ نہیں ۔اب اگر اُنہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اُسے بچا لیا او ر خود بھی بچ جائیں گے اور اگر اُسے چھوڑے رکھا تو اُسے ہلاک کریں گے اور اپنی جانوں کو بھی ہلاک کریں گے۔ (صَحیح بُخاری ج ۲ ص ۲۰۸ حدیث۲۶۸۶)
گناہوں کی نحوست دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی ہے
اس حدیثِ پاک کے تَحتمِرْاٰۃُ الْمَناجِیْحمیں ہے:اِس حدیث شریف میں ایک مثال کے ذَرِیعے بُرائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اَہَمِّیَّت کوواضِح کیا گیا اور بتایا گیا کہ اگر یہ سمجھ کر اَمرٌ بِا لمَعرُوف وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے مَنع کرنے ) کا فریضہ ترک کردیا جائے کہ بُرائی کرنے والا خود نقصان اُٹھائے گا ہمارا کیا نقصان ہے ! تو یہ سوچ غَلَط ہے، اِس لیے کہ اُس کے گناہ کے اَثرات تمام مُعاشَرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور جس طرح کَشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جو کَشتی میں سُوار ہیں اِسی طرح بُرائی کرنے والے چند افراد کا یہ جُرم تمام مُعاشَرے میں ناسُور بن کر پھیلتا ہے۔ (مِراۃُ المناجیح ج۶ص۵۰۴ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’یاشیخ! اپنی اپنی دیکھ!‘‘ کے تَحت صِرف اپنی اِصلاح کی فِکر میں لگے رہنے کے بجائے دُوسروں کی دُرُستی کی طرف بھی تَوَجُّہ دینی چاہئے، کیونکہ کثیر گناہ ایسے ہیں کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع