30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چوتھی فصل: مبلغ کے اوصاف
قوم کے خطیب اور مبلغ اس صبح کی طرح ہوتے ہیں جس کے طلوع ہونے سے شبستانِ وجود لرز اٹھتاہے، اندھیرے بوریا بستر لپیٹ لیتے ہیں، تاریکی اجالے سے بدل جاتی ہے؛ یوں ہی مبلغ کے بیان سے مایوسوں کے لیے امید کی کرن پھوٹتی ہے، زندگی کی دوڑ میں اپنی ہار کا اعتراف کرنے والوں کے دل جینے کی تمنا کرنے لگتے ہیں، نافرمانی کے اندھیروں میں بھٹکنے والے ہدایت کے نور کو پالیتے ہیں، کفر کی آندھیوں کے جھکڑ ایمان کی ٹھنڈی ہواؤں سے بدل جاتے ہیں؛ عُلَمائے دین اور مبلغینِ اسلام کے کاندھوں پر اتنی ہی بڑی ذمہ داری ہوتی جتنی سرحد کی حفاظت کرنے والے سپاہیوں کے کاندھوں پر؛ سپاہی ملکی سرحد کے محافظ ہوتے ہیں اور عُلَمائے دین و مبلغین نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، جس طرح ایک وفادار سپاہی اپنی پسند نا پسند کو ملکی اور منصبی قوانین پر قربان کردیتا ہے بلکہ اس قربانی کے لیے سرتوڑ کوشش کرتا ہے بالکل یہی صورتِ حال خطیب اور مبلغ کی بھی ہونی چاہیے کہ اپنے منصبی تقاضوں پر ذاتی خواہشات کو قربان کردے بلکہ اس قربانی کی خواہش رکھے اور مکمل تیاری کے ساتھ خدمتِ دین کے لیے میدانِ عمل میں قدم رکھے۔
بیان سے متعلق تربیتی معلومات کے ضمن میں مبلغ کے حوالے سے کافی کچھ بیان کیاجاچکا ہے؛ یہاں پر اس حوالے سے مزید معلومات فراہم کی جارہی ہیں ملاحظہ کیجیے:
(1) مبلغ کو کامیاب کرنے والی چیزیں (2) مبلغ کے ظاہری و باطنی آداب
(3) مبلغ کو ناکام کرنے والی چیزیں (4) مبلغ کے لیے قابل مشق چیزیں
(1) مبلغ کو کامیاب بنانے والی چیزیں
جب ایک انسان اپنے ملکۂ وہبی کی تحریک اورپر خلوص جذبے کے زیرِ اثر بیان کو نیکی کی دعوت کا ذریعہ بناتا ہے تو اس کادماغی ارادہ اور قلبی شغف ہی ایسے کئی امور پر راہ نمائی کرتا ہے جو اس کی کامیابی کا ضامن ہوتے ہیں، یہ ایسے عمدہ اوصاف سے مزین ہوجاتا ہے جن کے رنگا رنگ جلوے لمحہ لمحہ اپنی رنگینی کا اثرپیدا کررہے ہوتے ہیں، اس کو اپنی سرخ رُوئی کی بنیاد کا پتا لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ تو خدائی عطیہ کی طرح اس کی جھولی میں آگرتی ہے۔ لیکن پھر بھی ایک پُرجوش مبلغ کے لیے ضروری ہے وہ اپنے اندر ایسے اوصاف اور صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوشش کرے جو اس کے منصبی تقاضوں کو پورا کرنے میں معاون ہوں۔ ذیل میں ایسی چند چیزوں کے حوالے سے راہ نمائی کی جارہی ہے جن کا مبلغ کی ذات میں ہونا ضروری ہے:
معلوماتِ دینیہ:
مبلغ کے دل و دماغ میں دینی معلومات کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے دودھ میں مکھن کا ہونا کہ اس کے بغیر دودھ اپنی افادیت کھودیتا ہے؛ بالکل اسی طرح اگر مبلغ کو دینِ اسلام کی ضروری معلومات نہیں ہوگی تو اس کے بیان کا اثر نہیں ہوگا بلکہ یہ دین کی اساس کو متأثر کرنے کا سبب بنے گا! ایک مبلغ کے لیے درج ذیل دس چیزوں کا جاننا بے حد ضروری ہے:
(1) ضروریاتِ دین اور ضروریاتِ اہلِ سُنَّت سے مع دلائل واقف ہو تاکہ تبلیغ و تشویق میں کسی قسم کی کمزوری نہ آسکے۔
(2) فرض علوم کے علاوہ نماز، امامت، خطابت اور نیکی کی دعوت کے ضروری مسائل جانتا ہو۔
(3) قرآنِ کریم حفظ ہو تو سونے پہ سہاگا ورنہ کم از کم اتنا قرآن یاد ہونا چاہیے جو نماز کی تمام رکعات میں مختلف مقامات سے پڑھ سکے، نیز جس موضوع پر بیان کرنا ہو اس سے متعلقہ آیات کو بھی حفظ کرلے تاکہ ارتجالی بیان میں انہیں بآسانی پڑھ سکے۔ اس طرح آہستہ آہستہ قرآنِ کریم کے بہت سے مضامین اور آیات مُسْتَحْضَر ہوجائیں گی۔
(4) قرآنی واقعات کا مع جزئیات مطالعہ کرے کہ ان میں عبرت کی باتوں اور فکر کی روشنی کا زبردست سامان ہے۔ قرآنی واقعات کو درس اور نصیحتوں کے ساتھ بیان کیا جائے تو سامعین بہت دلچسپی لیتے ہیں۔
(5) غزواتِ نبویہ کے حالات، اسباب اور وجوہات کا علم حاصل کیا جائے اور ان سے ملنے والے درس پر توجہ دے۔
(6) سیرتِ صحابہ کی کافی معرفت رکھتا ہو اور بطورِ دلیل اسے بیان کرنے پر قادرہو۔
(7) سلاطینِ اسلام کے کارناموں سے واقف ہو کہ یہ معلومات اس کے اندر شجاعت پیدا کردے گی۔
(8) اپنے زمانے سے ابتدائے اسلام تک کی درست تاریخ سے واقف ہو۔
(9) سابقہ امتوں کے حالات اور ان کے عروج و زوال کے اسباب و وجوہات وغیرہ سے واقف ہو۔
(10) اپنے زمانے میں عالَمِ اسلام کے حالات سے باخبر ہوکہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور انسان اپنے تمام جسمانی اعضا کی خبر رکھتاہے۔ اس کے علاوہ عالمی منظر نامے سے بھی واقف ہو کہ یہ معلومات غیر محسوس طور پر اس کی گفتگو میں پختگی اور وزن پیدا کردے گی۔
معلوماتِ عامہ:
مبلغ کے لیے ضروری ہے وہ اپنے شعبے کے علاوہ دیگر علوم و فنون اور مختلف شعبہ جات کے بارے میں بنیادی سدھ بدھ رکھتا ہو تاکہ کسی بھی طرح کے سامعین کے درمیان بات کرسکے، اس چیز کا لحاظ اس وقت اور زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے جب مبلغ کو کسی خاص شعبے سے وابستہ افراد کے مابین بیان کرنا ہو؛ کبھی کبھی معمولی باتیں معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مبلغ کی ساری محنت ضائع ہوجاتی ہے بلکہ اس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے، مثلاً کوئی مقرر فصلوں کے موسموں سے واقف نہ ہو اور کسانوں کے درمیان اِن کی تباہ حالی کے اسباب پر بیان کرتے ہوئے یہ جملہ کہہ جائے: ”اس بار تو برسات کا موسم یوں ہی گزر گیا کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے گیہوں کی فصل لگ سکی نہ چنے کی!“ تو یقیناً کم پڑھے لکھے کسان بھی اس کی معلومات پر ہنس پڑیں گے کہ ما بدولت کو یہ بھی نہیں معلوم کہ چنے اور گیہوں برسات میں پیدا ہی نہیں ہوتے!
مبلغ کے لیے معلوماتِ عامہ کاکوئی دائرہ نہیں ہے جس تک وہ محدود ہوسکے، لہٰذا وہ بیان کے لیے مطالعہ کے علاوہ دیگر موضوعات پر لکھی گئی مستقل کتب کا بھی مسلسل مطالعہ کرتا رہے یہ تسلسل ہی اس کی معلوماتِ عامہ کو بڑھانے کا سبب بنے گا۔
اچھے برے افعال کی پہچان:
مبلغ کے لیے ضروری ہے دینی، معاشرتی اور علاقائی سطح پر اچھے یا برے شمار کیے جانے والے افعال کی مکمل پہچان حاصل کرے تاکہ قابلِ تعریف افعال کو اختیار کرے اور نفرت انگیز حرکات سے بچ سکے اور ان کی ترغیب و ترہیب میں اپنا کردار ادا کرسکے۔
کئی افعال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواز شریعتِ اسلامیہ میں موجود ہوتا ہے لیکن معاشرے یا مخصوص علاقے میں انہیں برا سمجھا جاتا ہے، بعض اوقات اس کااُلٹ بھی ہوتا ہے کہ شریعت میں کسی فعل سے متعلق سخت حکم ہوتا ہے اور کسی سے متعلق زیادہ سختی نہیں ہوتی لیکن معاشرے یا مخصوص علاقے کے لوگوں کا اختیار کردہ کام ہوتا ہے؛ کہاں کس طرح کا انداز اختیار کرنا ہے یہ جاننا ایک مبلغ اور داعی کے لیے انتہائی اہم ہے تاکہ اس کا بیان بلکہ اس کی اپنی شخصیت شرپسندوں کے ہاتھ کا کھلونا نہ بن سکے؛ اس حوالے سے درج ذیل ضابطہ کلیہ ذہن نشین کرلیا جائے تو کئی مقامات پر معاملہ حل کرنے میں آسانی رہے گی:
پر توئے امامِ اعظم جامع العلوم و الحکم امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فعلِ فرائض و ترکِ محرمات کو اِرْضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقا پروانہ کرے اور اتیانِ مستحب و ترکِ غیرِ اولی پر مداراتِ خلق و مراعاتِ قلوب کو اہم جانے اور فتنہ و نفرت و ایذا و وحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے۔ اسی طرح جو عادات و رسوم خلق میں جاری ہوں اور شرعِ مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے تَرَفُّع و تَنَزہ کے لئے خلاف و جدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد و محبوبِ شارع کے مناقض ہیں ہاں وہاں ہوشیار و گوش دار کہ یہ وہ نکتۂ جمیلہ و حکمتِ جلیلہ و کوچۂ سلامت و جادۂ کرامت ہے جس سے بہت زاہدانِ خشک واہلِ تکشف غافل و جاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط و دین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغزِ حکمت و مقصودِ شریعت سے دور پڑتے ہیں۔ خبردار و محکم گیر یہ چند سطروں میں علمِ غزیر وَ بِاللہ التَّوْفِیْقِ وَاِلَیْہِ الْمَصِیْر ۔ (1)
متأثر کن امور کی معلومات:
مبلغ کو چاہیے ان چیزوں کاعلم ضرور حاصل کرے جن کی وجہ سے سامعین متأثر ہوسکتے ہیں اور اس معلومات کو کسی نہ کسی طرح اپنے بیان کا حصہ بنائے ، مثلاً سائنسی ایجادات و عجائبات کے بارے میں جان کاری لیتا رہے اور موقع کی مناسبت سے قدرت کے عجائبات کو ذکر کرتے ہوئے بطورِ استعارہ، تشبیہ یا تمثیل بیان کرے کہ اس سے سامعین پر گہرا اثر پڑتا ہے یا تاریخی مقامات، شخصیات، واقعات خصوصاً سلطنتوں کے عروج و زوال کی داستانوں وغیرہ پر گہری نظر رکھنا بھی مقرر کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
متأثر کُن معلومات سے فائدہ اٹھانے کے لیے سامعین کی نفسیات اور ان کی ذہنی سطح کا علم ہونا ضروری ہے؛ جس طرح ہر چیز کی ایک حقیقت اور ہر جگہ کا راستہ ہوتاہے اسی طرح ہر شخص کی ایک طبیعت ہوتی ہے اگر اس کی طبیعت اور مزاج کے مطابق بات کی جائے تو وہ ضرور متأثر ہوتا ہے، نیز طبیعتوں کے ساتھ ساتھ ذہنی سطح میں بھی قدرے اختلاف ہوتا ہے کہ ہر طبقے، ہر عمر اور ہر شعبے کے لوگوں کی ذہنی سطح مختلف ہوتی ہے، متأثر کن معلومات فراہم کرتے ہوئے ان دونوں چیزوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، ظاہر ہے جن چیزوں سے بچہ متأثر ہوتا ہے وہ نوجوان کو متأثر نہیں کرسکتیں اور جو مزاج ایک تجربہ کار پکی عمر کے شخص کا ہوتا ہے وہ ناتجربہ کار غیر تربیت یافتہ شخص کا نہیں ہوتا، لہٰذا مبلغ متأثر کُن امور سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اسے نفسیات شناس ہونا پڑے گا، ورنہ اس کی اہم ترین گفتگو ضائع ہوجائے گی۔
فکر انگیز جملے:
مبلغ اپنے بیان کی تیاری کے دوران موضوع کے مطابق مختلف ماہرینِ فن کے معنیٰ خیز اقوال شامل کرے بلکہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں منطق و بلاغت کی چاشنی لیے فکر انگیز جملے مرتب کرنے کی کوشش کرے پھر ان کے مطلوبہ ردھم اور خاص لہجے میں اس طرح ادا کرے جو سامعین کے لیے متأثر کُن ثابت ہوسکے۔
حاضر جوابی:
مبلغ اور داعی کوحاضر جواب ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اسے کئی مرتبہ ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کی بات سن کر اپنے خیالات کے دفاع میں دلائل پیش کرتے ہیں یا حاسدین اس سے طرح طرح کے لغو سوالات کرکے اس کی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ سامعین پر یہ تأثر قائم ہوسکے کہ وہ جس مبلغ کو سننا پسند کرتے ہیں یا جس داعی کی بات کو قبول کررہے ہیں وہ تو ان سے غلط بیانی کرتا ہے! اگر مبلغ بروقت ایسی صورتِ حال کو بھانپ جائے اور مناسب جوابی کاروائی کردے تو اس وقت کی گفتگو اور مجلس پر حاوی ہوسکتا ہے!
حاضر جوابی علمی،ملامتی، مزاحی یا گفتگو کی نزاکت کے مطابق کسی بھی طرح کی ہوسکتی ہےاس کی دو مثالیں ملاحظہ کیجیے:
(1) خلیفہ اعلیٰ حضرت فقیہ اعظم حضرت علامہ ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی رحمۃُ اللہ علیہ ایک محفل میں بیان کرنے کے لیے تشریف لے گئے، دورانِ بیان آپ نے نیک اعمال کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ ”بالخصوص ساداتِ کرام کو اچھے کام اپنانا اور برے کاموں سے بچنا چاہیے۔“ اس بات کو آپ نے زور دے کر بیان کیا تو ایک بزرگ سید صاحب اٹھے اور پوچھنے لگے: مولوی صاحب! مرغی حلال ہے یا حرام؟ حضرت فقیہ اعظم نے فرمایا: ”حلال ہے۔“ سَیِّد صاحب کہنے لگے اگر مرغی نجاست کھالے تو کیا وہ حرام ہو جائے گی؟ اس سُوال سے شاہ صاحب کا مقصد یہ تھا کہ مرغی چاہے نجاست کھاتی پھرے وہ مرغی ہی رہےگی اور حلال بھی، اسی طرح اگر کوئی سید صاحب برے کام کرتے پھریں تو وہ سید ہی رہیں گے اور احترام کے قابل بھی۔ فقیہ اعظم علامہ ابویوسف محمد شریف کوٹلوی رحمۃُ اللہ علیہ اس کا مقصد سمجھ گئے اور فرمایا: شاہ صاحب! ایسی مرغی جو نجاست کھانے کی عادی ہو اس کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ اسے چند دن باندھ کر رکھیں تاکہ نجاست کے اثرات جاتے رہیں اس کے بعد اسے ذبح کریں؛ تو شاہ صاحب! جو سید برے کاموں کا ارتکاب کریں گے انہیں قیامت کے روز کچھ دیر کے لیے باندھا ضرور جائے گا تاکہ برے کاموں کے اثرات دور ہو جائیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ قیامت کے روز تھوڑی دیر کے لیے باندھے جانے سے ڈرا جائے اور اچھے کام اپنا کر برے کاموں سے بچا جائے۔ (2)
(2) پیلی بھیت میں ایک دعوت میں حضرت مُحدّث صاحب اور اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ تشریف فرما تھے، دسترخوان بچھانے سے پیشتر میزبان نے آفتابہ و تشت لیا کہ ہاتھ دھلایا جائے، حضرت محدث صاحب نے عام عرفی دستور کے مطابق میزبان کو اشارہ کیا کہ اعلیٰ حضرت کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں، اعلیٰ حضرت نے برجستہ فرمایا: آپ مُحدّث ہیں اور اعلم بالسنۃ ہیں آپ کا فیصلہ بالکل حق اور آپ کی شان کےلائق ہے، کیونکہ سُنَّت یہ ہے کہ اگر ایک مجمع مہمانوں کا ہو تو سب سے پہلے چھوٹے کا ہاتھ دھلایا جائے اور آخر میں بڑے کا ہاتھ دھلایا جائے تاکہ بزرگ کو ہاتھ دھونے کے بعد دوسرے کے ہاتھ دھلنے کا انتظار نہ کرنا پڑے اور کھانا ختم ہوجانے کے بعد سب سے پہلے بڑے کا ہاتھ دھلایا جائے۔ میں شروع میں ابتدا کرتا ہوں لیکن کھا چکنےکے بعد آپ کو ابتدا کرنی ہوگی۔ (3)
ظرافت/ خوش طبعی:
موضوع کی مناسبت اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے دورانِ بیان مزاح کی ذراسی شمولیت وہی کام کرتی ہے جو کڑوے منہ میں تازے لیموں کا ایک قطرہ کرتا ہے! دلائل و براہین کے بھاری وزن سے طبیعتیں بوجھل ہوجائیں، تقریر کی معمولی سی طوالت سامعین پر گراں گزرنے کا اندیشہ ہو، سامعین کی توجہ اپنی جانب کھینچنی ہو، وقت کی کمی کا شکوہ ہو اور مبلغ اپنی بات بھی پوری کرنا چاہتا ہو یا مخالفین کے منطقی دلائل میں کمزوری پیدا کرنی ہو تو ضرورتاً ابتدائے بیان ، دورانِ بیان یا آخری لمحات میں ہلکی پھلکی ظرافت گوہرِ مقصود حاصل کرنے کے لیے بہترین معاون ثابت ہوتی ہے؛ سامعین کوئی بھی ہوں بر محل اور موزوں مزاح کو سب پسند کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجیے:
(1) تحریک آزادیِ ہند کے ایک مبلغ ہندوستان کی ترجمانی کرنے کے لیے انگلستان تشریف لے گئے، تقریر کا موقع ملا تو وقت صرف پانچ منٹ دیا گیا، آپ نے بھانپ لیا کہ اتنے مختصر وقت میں اپنا مقدمہ نہیں رکھا جاسکتا تو تقریر شروع کی اور تمہید یوں باندھی: ”میں چھ ہزار میل کی مسافت طے کرکے 30 کروڑ آبادی کی نمائندگی کرنے آیا ہوں؛ اب آپ خود حساب لگائیے کہ ایک ایک منٹ نہیں ایک ایک سیکنڈ بلکہ ہر سیکنڈ کی کسر میں مجھے کتنی ترجمانی کا وقت ملتا ہے!“
سارا مجمع ہنس پڑا کُرسیٔ صدارت سے لے کر ایوان تک سب ہی متأثر ہوئے اور اس مبلغ نے اپنی اس جوہری ظرافت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پانچ منٹ کے بجائے 30 منٹ تقریر کی۔
(2) ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کی بات ہے کہ مسلسل بیانات کرنے کے باعث ایک مبلغ کی آواز کافی متأثر ہوگئی تھی تو انہوں نے لاہور کی ایک تقریب میں بیان کی ابتدا کرتے ہوئے کس خوبصورتی سے مزاح فرمایا اور اپنا عذر پیش کرتے ہوئے سامعین کو توجہ اور خاموشی کے ساتھ بیان سننے کی طرف مائل کیا ملاحظہ کیجیے:
میری آواز ہندوستان آنے کے بعد مسلسل تقریریں کرتے کرتے بالکل پڑ گئی ہے (بیٹھ گئی ہے)... اگر آپ چاہتے ہیں کہ میری آواز آپ تک پہنچے تو آپ یہ خیال رکھیے کہ آپ کی آواز مجھ تک نہ پہنچنے پائے!
(2) مبلغ کے ظاہری و باطنی آداب
ظاہری و باطنی آداب در حقیقت فکر و خیال اور زبان و بیان کی آبرو کا اِسْتِعارہ ہیں؛ بے شک جسموں کی عصمت ہوتی ہے لیکن نیت، فکر اور عمل کی عصمت اس سے کہیں زیادہ اہم ہےجو مبلغ اپنے فکر و خیال اور زبان و بیان کی آبرو نہ رکھ سکتا ہو وہ دینِ اسلام کی آبرو کیا رکھے گا! یہ ایک بنیادی تُخْم ہے جس کو اپنے دل کی زمین پر بوئے بنا مبلغ اور داعی کی کوششیں کبھی بھی ثمر بار درخت نہیں بن سکتیں؛ ذیل میں مبلغ کے لیے جن ظاہری و باطنی آداب کا لحاظ ضروری ہے انہیں بیان کیا جارہا ہے ملاحظہ کیجیے:
باطنی آداب:
اس سے مراد وہ آداب و اخلاق ہیں جن کا تعلق قلب اور نفس کے ساتھ ہوتا ہے؛ مبلغ کے لیے ایسے سات ضروری آداب بیان کیے جارہے ہیں ملاحظہ کیجیے:
اخلاص: نیکی کی دعوت کے خاطر کیا جانے والا بیان بہترین عبادت ہے بلکہ قربِ خداوندی کا سبب بننے والے اہم امور میں سے ایک ہے، لہٰذا مبلغ کو چاہیے اپنے بیان سے صرف اللہ تعالیٰ کی رِضا کا قصد کرے شہرت پسندی یا چاہے جانے کا احساس اپنے قریب بھی نہ آنے دے اور نہ ہی اپنے بیان سے کسی شخص کی خوشنودی کا ارادہ کرے کہ یہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت و شرمندگی کا باعث ہوگا۔ سامعین کچھ سیکھنے اور پانے کی چاہ لے کر بیان سننے کے لیے آتے ہیں، ان کا ارادہ مبلغ کی تسکین کے لیے تماشا دیکھنانہیں ہوتا!
ورع و تقویٰ: مبلغ تقویٰ و پرہیز گاری کا پیکر، احکام شرع کا سختی سے پابند اور ممنوعاتِ شرعیہ بلکہ شبہات والی چیزوں سے بھی بچنے والا ہو تو اس کے احوال اس کے اقوال سے زیادہ دلوں پر اثر انداز ہوں گے بالفاظ دیگر ” مبلغ اور داعی کی اصل نیکی کی دعوت اس کی اپنی عملی زندگی ہے۔“ اس کی کئی مثالیں کتبِ سیر و تراجم میں آسمان کے تاروں کی مانند جگمگا رہی ہیں۔
تواضع: مبلغ عاجزی کا خوگر ہو اور اسے اپنی بندگی کا اقرار اور بڑی ذمہ داری کا احساس ہو تو اس کے بیان میں ایسی کشش پیدا ہوجاتی ہے کہ ہر شخص اس کی بات سننا چاہتا ہے اس کا ایک ایک لفظ اپنی مکمل کیفیات کے ساتھ سننے والوں کے دلوں پر دستک دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر مبلغ مجمع کو دیکھ کر خود پسندی کا شکار ہوجائے اور دو چار آؤ بھگت کرنے والوں کی وجہ سے شیطان کے دامِ فریب میں آجائے اور اس کی گفتگو اور لہجے سے شجاعت و بہادری کی خوشبو کے بجائے تکبر کی بد بو تحقیر آمیز لہجے میں لتھڑی ہوئی محسوس ہو تو کوئی بھی اس کی بات سننا گوارا نہیں کرے گا کیونکہ تحقیر اور عزتِ نفس کی پامالی کوئی بھی برداشت نہیں کرتا۔
حلم اور کشادہ قلبی:عالم یا مبلغ بردبار اور حلیم نہ ہو تو اس کےعلم سے دوسروں کو فائدہ پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ عین ممکن ہے بغیر حلم کے علم انسان کو مسخرہ بنادے! لہٰذا مقرر کے اندر حلم اور برد باری ہونی چاہیے کہ یہ علم کا کمال اور عالم کی خوبصورتی ہے اور صاحب ِعلم کی شخصیت میں لوگوں کے لیے عجیب کشش پیدا کرنے والا ہے۔ بردباری کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی کہ کم علم لوگوں کی بے سر و پا بات بھی انسان خندہ پیشانی سے سننے پر قادر ہوتا ہے اور عام بیانات کرنے والے مبلغین کو اس کا بہت سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر مبلغ میں حلم کا مادہ نہ ہوا تو وہ سخت آزمائش کا شکار ہوجائے گا عوام کی باتیں اور عجیب و غریب معاملات دیکھ کر یہ کوفت کا شکار ہوسکتاہے، لہٰذا حلم اور بردباری کے لیے خداوندِ قدوس کی جناب میں دعا کرتا رہے۔
توکل اور مخلوق سے بے نیازی: لوگ داعیانِ اسلام اور مبلغین سے بہت محبت کرتے ہیں ان کی خدمت کو سرمایۂ آخرت گردانتے ہیں، لیکن یہ مبلغ کے لیے بہت ہی نازک معاملہ ہے؛ اسے کبھی بھی لوگوں کی جیبوں یا ان کی طرح طرح کی خدمتوں کا خوگر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیشہ خود داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی پر اکتفا کرنے والا مقرر بہت برکتیں پاتا ہے اور اس کے بیان میں پختگی اور شجاعت کی جھلک واضح نظر آتی ہے؛ مبلغ اور عالم امت کے طبیب ہیں جبکہ لوگوں کی جیبوں پر نظر ایک بیماری ہے جب طبیب خود بیمار ہوگا تو مریضوں کا علاج کیسے کرے گا؟ لہٰذا مبلغ کے دل میں ذرہ برابر بھی مال کا لالچ یا کسی قسم کی خدمت کی ہوس نہیں ہونی چاہیے اور حقیقی خود داری و اِسْتِغنا کے ساتھ گزر بسر کرنا چاہیے۔
خیالات کی سچائی:بیان میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ مبلغ سے لے کر بیان تک کوئی چیز مصنوعی نہ ہو، کسی بھی پہلو سے کوئی چیز مصنوعی ہوگی تو یقیناً بھونڈی لگے گی خصوصاً بیان کی جانے والی گفتگو کہ اگر یہی مصنوعی اور غیر یقینی ہوگی یا مبلغ کا خود اس پر عمل نہیں ہوگا اور وہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان کررہا ہوگا تو یقین کیجیے کسی کے دل پر بھی اس کا بیان اثر انداز نہیں ہوگا وقتی طورپر مصنوعی جوش و خروش کا سحر ضرور طاری ہوسکتا ہے لیکن یہ بھی شرابی کے نشے کی طرح اتر جائے گا اور پھر سامعین بجائے تر و تازگی کے تھکن اور اکتاہٹ محسوس کریں گے۔
بلند ہمتی و بہادری: مبلغ کے لیے ضروری ہے وہ بلند ہمت، بہادر اور حوصلہ مند ہو کہ اس کا بیان بزدل کو بہادر، کمزور کو باہمت اور ہارے ہوئے کو حوصلہ مند بنادے۔ بہادری و شجاعت کی خیرات بانٹنے والے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب کی ایسی ہی تربیت فرمائی تھی اور خوش بختوں کو دربارِ نبویہ سے ایسی شجاعت نصیب ہوئی تھی کہ میدانِ تقریر کے ساتھ ساتھ جس معرکہ میں ان کے قدم پڑجاتے وہ میدان ان کا ہوتا تھا۔
ظاہری آداب:
اس سے مراد وہ آداب و اخلاق ہیں جن کا تعلق ظاہری احوال کے ساتھ ہوتا ہے؛ مقرر کے لیے ایسے چند ضروری آداب بیان کیے جارہے ہیں ملاحظہ کیجیے:
حلیہ: عوام پر سب سے پہلے جو چیز اثر انداز ہوتی ہے وہ مبلغ کے حلیہ سے نمودار ہوتی شخصیت ہے اگر حلیہ میں اونچ نیچ ہوئی تو مبلغ جتنا اونچا نیچا ہوتا رہے وہ اثر نہیں ڈال سکتا جو کسی بھی معیاری تقریر کا ہونا چاہیے تھا۔ مبلغ لوگوں کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے اور ان کے مُقْتَدا کی حیثیت سے جانا جاتا ہے تو اسے چاہیے بیان سے پہلے اپنی حالت درست کرے اور حدودِ شرع میں رہتے ہوئے زینت اختیار کرے مثلاً غسل کرے، سر اور داڑھی میں تیل لگائے،داڑھی، مونچھ اور ہاتھ پیر کے ناخنوں کی تراش خراش اور ان کی صفائی کا التزام کرے، عطریات کا استعمال کرے، اچھا اور صاف ستھرا لباس زیب تن کرے ، اچھی سواری کا اہتمام کرے اور بقدرِ استطاعت ہر وہ چیز اپنائے جو اس کی شخصیت کے لیے موزوں ہو کیونکہ امام کا زینت اختیار کرنا غیر امام کے مقابلےمیں زیادہ مستحسن ہے۔ (4)
ظاہری تیاری میں حدِ اعتدال سے تجاوز نہ کیا جائے اور اس چیز کو بھی ملحوظ رکھا جائے کہ جن لوگوں کے درمیان بیان کے لیے جانا ہے وہ کس سطح کے لوگ ہیں اگر وہ متوسط درجے کے ہیں تو تیاری بھی متوسط درجے کی ہونی چاہیے، یہ بھی دیکھ لے جو لباس وہ ان کے درمیان پہن کر جارہا ہے وہ ان کی ثقافت میں تمسخُر والا لباس تو نہیں کہلاتا یا وہ اپنے پیشوا اور مقتدا کو اس لباس میں دیکھنا معیوب تو نہیں سمجھتے؟ اگر سامعین اس کے حلیے سے ہی اجنبیت محسوس کرنے لگیں گے تو اس کی تقریر کا ان پر اثر ہونا مشکل ہوگا۔
وقار اور سنجیدگی: مبلغ کو چاہیے اپنے تمام کاموں میں پُر وقار انداز اختیار کرے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے؛ غیر سنجیدہ باتیں، بے مقصد گفتگو، مسخرہ پن ، چھچوری حرکتوں اور چوراہوں پر بیٹھنے سے بچے کہ یہ چیزیں مبلغ کا وقار مجروح کردیتی ہیں اور لوگوں کے دلوں سے اس کی عزت ختم کرکے پھیکے پکوان کی طرح ذلیل کردیتی ہیں۔ اس کے بر عکس اگر مبلغ سنجیدہ ہوگا تو لوگوں کے دلوں میں اس کی بزرگی بڑھ جائے گی اور اس کی بات دلوں پر اثر کرے گی۔
سنجیدگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مبلغ تکبر یا خود پسندی کا شکار ہوجائے اور خلق ِ خدا کو معاذ اللہ حقیر سمجھنے لگے یا خیالی سلطنت کا اکلوتا فرد بن کر رہ جائے؛ نہ خود کسی سے محبت کرے نہ لوگ اس سے محبت کریں اور اس غیر فطری رویے کی وجہ سے کسی کے اندر اس سے بات کرنے کی ہمت نہ رہے! بلکہ مبلغ یا داعی سنجیدگی اور تکبر، خود پسندی اور وقار میں فرق سمجھتا ہو اور اس کا اپنے افعال و کردار سے اظہار بھی کرتا رہے، اس نازک اور باریک مرحلے کے لیے صاحبِ وقار و عظمت شہنشاہِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک سیرت پر غور کرے خصوصاً حضور کی حیاتِ طیبہ کے معاشرتی پہلوؤں کا مطالعہ کرے تو اس پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ کے محبوب سب سے زیادہ با وقار اور ذی وجاہت تھے، بڑے بڑے بہادر اور شجاع صحابۂ کِرام کے دلوں میں آپ کا رعب تھا اس کے باوجود آپ کا مبارک انداز ایسا تھا کہ صحابہ آپ کے پاس آتے مصافحے کا شرف پاتے اور آپ کی صحبت میں حاضری کو ہر چیز سے عزیز جانتے تھے۔
آواز: مبلغ کی آواز صاف ستھری،نکھری ہوئی اور موضوع کے مطابق ہونی چاہیے، روکھی پھیکی یا بہت باریک آواز عام طورپر تقریر کے لیے موزوں نہیں ہوتی، لہٰذا اپنے گلے اور آواز کی خوب حفاظت کی جائے اور اساتذہ کی راہ نمائی میں اس کو بیان کے لیے موزوں بنانےکی کوشش کی جائے۔
(3) مبلغ کو نا کام کرنے والی چیزیں
مبلغ کو کامیاب یا نا کام بنانے میں الفاظ اور مواد سے زیادہ اندازِ بیان کا ہاتھ ہوتاہے، بیسیوں بار کِیا ہوا بیان ایک بار اور نئے انداز سے کیا جائے تو سننے والے اس سے محظوظ ہوتے اور کچھ نہ کچھ سیکھ کر ہی جاتے ہیں۔ اگرچہ ایک ہی موضوع پر یکساں مواد بیان کرتے رہنا خود ایک بہت بڑا عیب ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف نئے مواد پر سو فیصد توجہ دی جائے اور اندازِ بیان کی بہتری اور اس کے نتائج و اثرات کو فراموش کردیا جائے؛ بیان کے تین بنیادی عناصر ” مبلغ ، اسلوبِ بیان اور مواد“ ان میں سب سے کم اہمیت کا حامل ”مواد“ ہوتا ہے! لیکن مبتدئین ہمیشہ مواد پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہیں جبکہ انہیں خامیوں اور نا کام کردینے والے عیوب کو ختم کرکے بیان کو بہتر کرنا چاہیے۔ ذیل میں مبلغ کو ناکام بنانے والی باتیں اور چند عیوب کو دو عنوانات کے تحت ذکر کیا جارہا ہے ملاحظہ کیجیے:
فطری عیوب:
اس سے مراد وہ عیوب ہیں جو مبلغ کی ذات میں موجود ہوتےہیں ان میں سے بعض عیوب کوشش کرکے دور کیے جاسکتے ہیں اور بعض کا ختم کیا جانا بس میں نہیں ! ان کی تفصیل ملاحظہ کیجیے:
بے ڈھنگی آواز: مبلغ کی آواز وہ آلہ ہے جس کے ذریعے اس کا بیان لوگوں تک پہنچے گا اگر آواز میں کسی بھی قسم کی کمزوری ہوگی تو اس کا بیان بھی کمزور ہوگا اور مقصود حاصل نہیں ہوسکے گا۔ صرف آواز کا بھاری یا پتلا ہونا نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اگر وہ بھونڈی بھی ہو تو سخت عیب ہے؛ آواز کا بھاری پن یا پتلا پن ختم کرنا کسی کے بھی بس میں نہیں ہوتا البتہ اس کی عجیب جھلملاہٹ اور بے سری یا حروف کو چبانے اور واضح نہ ہوسکنے یا اس میں غُنودگی کی سی کیفیت کو ختم کرنے کی کوشش ضرور فائدہ دے سکتی ہے۔
تنگیٔ صدر: اکثر مبتدئین کے ساتھ یہ عیب لاحق ہوتا ہے کہ دورانِ بیان ان کا دل و دماغ سُن ہوجاتا ہے، ان کی زبان بار بار بند ہوتی رہتی ہے ، ان کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ہمیں کیا ہورہا ہے ایک عجیب لرزہ طاری ہوتا ہے وہ ایک مجبور پن محسوس کرنے لگتے ہیں اور انہیں شدید بے چینی لاحق ہوجاتی ہے؛ یہ صورتِ حال مبلغ کے ساتھ اس وقت ہوتی ہے جب اس نے از خود بیان کی تیاری نہ کی ہو یا اس مقام کے لیے بیان کی مشق نہ کی ہو یا پھر اس پر ایک نا دیدہ دباؤ یا مجمع کے رعب یا کسی صاحبِ علم کی موجودگی کا خوف طاری ہو۔ کبھی کبھی یہ صورتِ حال مَشّاق مبلغین کے ساتھ بھی ہوجاتی ہے مثلاً ان کو پتا ہو کہ سامعین میں فلاں فلاں شخص بھی موجود ہے جس کا شخصی یا علمی رعب مبلغ کے دل و دماغ پر حاوی ہے تو یہ خیال اس کے اعصاب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بہرحال اس کیفیت کو خود اعتمادی کی مشق کے ذریعے اور اپنے اساتذہ کے سامنے مسلسل بیان کرکے ختم کیا جاسکتا ہے۔
عجلت پسندی یا سست روی: مبتدئین کو اپنے بیان کی رفتار کا صحیح اندازہ نہیں ہوپاتا اور اپنی غیر تربیتی رفتار پر بیان کے عادی ہوجاتے ہیں جو بعض اوقات بہت تیز ہوتی ہے گویا ریکارڈ شدہ آواز کی رفتار بڑھادی گئی ہو اس طرح سامعین بیان کا ایک جز بھی یاد نہیں رکھ پاتے اور بعض اوقات ایسی سُست روی پر مشتمل ہوتی ہے گویا زبان بَل کھائی ہوئی ہے اس طرح سامعین اکتا جاتے ہیں اور طبیعتیں بوجھل ہوجاتی ہیں، ان دونوں صورتوں کے درمیان رہتے ہوئے اس رفتار پر بیان ہونا چاہیے کہ حرف حرف موتی کی طرح چمکتا ہوا معلوم ہو اور ہر ایک بات کو سمجھتا چلا جائے۔
موضوع سے موافقت نہ ہونا: مبلغ کا اپنے موضوع سے ہم آہنگ نہ ہونا بہت بڑا عیب ہے، چونکہ فنِ تقریر مختلف فنون کا مجموعہ ہے کبھی یہ فن ترغیب و ترہیب کی جانب متوجہ ہوتاہے کبھی اِنْذار و تَبشیر پر مشتمل ہوتا ہےاور کبھی غور و فکر کو جِلا بخش رہا ہوتاہے، کسی بھی مبلغ کا اپنی آواز، لہجے اور حرکات و سکنات کے ذریعے موضوع کے تقاضوں کو نباہنا ہی سب سے بنیادی فن سمجھا جاتا ہے اگر اس میں مبلغ کامیاب نہ ہوسکا تو اس کا بیان ناکام ہوجائے گا بلکہ سخت نقصان کا باعث بنے گا۔ یہ اگرچہ بہت بڑا عیب ہے لیکن مسلسل بیان کرتے رہنے سے دورانِ بیان احساسات کے مطابق خود کو ڈھالنا آسان ہوتا چلا جائے گا۔
بیٹھا ہوا گلا: اکثر یہ عیب کسی عارضے کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن بعض لوگوں کا گلا ہمیشہ بیٹھا رہتا ہے جب وہ بولتے ہیں تو ان کی آواز گھستی ہوئی معلوم ہوتی ہے ، یہ کسی عارضے کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ پیدائشی ہوتا ہے، انہیں چاہیے بیان کو نیکی کی دعوت کا ذریعہ بنانے کے مقابلے میں تحریری میدان میں اپنی خدمات انجام دیں۔
زبان میں لکنت: یہ عیب بھی بہت زیادہ تکلیف کا باعث ہے، اس مرض میں مبتلا شخص عام گفتگو میں بھی اپنی بات آسانی سے نہیں کرپاتا، اسے بھی بیان کے بجائے تحریر کو نیکی کی دعوت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
اکتسابی عیوب:
اس سے مراد وہ عیوب ہیں جو غیر اختیاری طور پر مبلغ سے صادر ہوتے ہیں اگر انہیں دور کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو آہستہ آہستہ وہ عیوب عادت بنتے چلے جاتے ہیں اور پھر ان کو دور کرنے میں دشواری ہوتی ہے، ایسے چند عیوب کی نشاندہی کی جارہی ہے، ہر مبتدی ان سے اور ایسے کسی بھی عیب سے بچنے کی ضرور کوشش کرے:
غیر ضروری حرکات: بعض مبلغین دورانِ بیان بار بار مختلف حرکات کررہے ہوتے ہیں جو ان کی عدمِ اعتمادی، موضوع پر گرفت کی کمزوری یا ان کے خیالات کے منتشر ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں مثلاً بار بار اپنی داڑھی کو چھونا، عمامہ یا ٹوپی درست کرتے رہنا، آنکھیں مسلنا، کان میں انگلیاں ڈالنا، انگلیاں چٹخانا، ہاتھوں سے بار بار ایک ہی اشارہ کرنا، چشمہ درست کرتے رہنا یا واسکٹ درست کرنے کا تأثر دینا وغیرہ، اس طرح کرنے سے مبلغ کی اہمیت کم ہوجاتی ہے جو اس کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ البتہ ایسی حرکت جو الفاظ اور گفتگو کے تأثر کو ادا کرنے والی ہو وہ عیب نہیں بلکہ نہایت کار آمد ہوتی ہے مثلاً مبلغ کہہ رہا ہو: ”یہ بات مضبوط دلائل سے ثابت ہے“ مضبوط دلائل کا اشارہ کرنے کے لیے مٹھی بند کرکے مضبوطی کے ساتھ ہاتھ بڑھانا مفید ہوگا۔
کھنکارنا اور کھانسنا: یہ اس وقت عیب ہے جب مبلغ بار بار کھانستا یا کھنکارتا رہے؛ سامعین پر کھانسنے کی کثرت بہت ہی زیادہ برا اثر ڈالتی ہے لہٰذا کوئی بھی ایسا عارضہ جو بیان میں خلل ڈالے مبلغ کو اس کا علاج کرنا چاہیے اور جب تک اس سے مکمل سکون میں نہ آجائے بیان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔
غیر ضروری طوالت: بعض مبلغین مطالعے کی کمی یا فکری کمزوری کو چھپانے کے لیے خواہ مخواہ اپنا بیان لمبا کرتے ہیں انہیں یہ حقیقت پتاہونی چاہیے کہ فکر میں گہرائی کی کمی کو بیان کی لمبائی سے کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا،ایسے مبلغ تاریخی شکست سے دو چار ہوسکتے ہیں۔ مبلغ اپنا مطالعہ وسیع کرے اور اہلِ علم و دانش کی صحبت میں بیٹھے یوں اس کے خیالات اور افکار میں وسعت پیداہوگی اس کے ساتھ ساتھ بیان کو مقررہ وقت میں ختم کرنے کی بھی کوشش کرتا رہے۔
دوسرے مبلغ کی نقل: بعض مبلغین اندازِ بیان، آوازکے اتار چڑھاؤ اور حرکات و سکنات بلکہ لباس میں بھی کسی دوسرے مبلغ کی نقل کرتے ہیں یہ مبلغ کی شخصی کمزوری یا اس مبلغ کا گرویدہ ہونا ہے جس کی وہ نقل کررہا ہے۔ نقل مبلغ کے لیے اس طور پر نقصان دہ ہے کہ ایسا کرنےسے بیان صوری حیثیت اختیار کرجاتا ہے مبلغ کی حیثیت صرف ناقل اور نمائندے کی ہوتی ہے اور وہ بیان سے زیادہ نقل پر توجہ دیتاہے، اسے شُعوری یا لا شُعوری طورپر سامعین کی اصلاح یا تبلیغِ دین کے بجائے اپنی واہ وا مقصود ہوتی ہے بلکہ یہ جس کی نقل کررہا ہے اگر وہ کوئی مشہور مبلغ ہے تو سامعین یقیناً اس سے واقف ہوتے ہیں اور اس کی نقل دیکھ کر ان کی حیثیت ممتحن والی ہوجاتی ہے اور بیان کے بعد ایک دوسرے کے درمیان اس کی درست یا غلط نقل پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں! لہٰذا مبلغ ہرگز کسی کی بھی نقل نہ کرے بلکہ خود اپنی صلاحیتوں کو جانچے اور ان کے مطابق بیان کرنا سیکھے تاکہ درست طریقے سے خدمتِ دین کرسکے۔
سامعین سے مطالبات: بعض مبلغین انجمنِ ستائشِ باہمی کے ممبر ہوتے ہیں انہیں اپنی ہر بات بلکہ ہر چھوٹے چھوٹے جملوں پر داد چاہیے ہوتی ہے اگر ان کی تسکین نہ ہو تو سامعین پر بلاوجہ برس پڑتے ہیں اگر یہ مبلغ کی عادت ہے تو بڑا عیب ہے! اس کو ختم کرنا چاہیے اور بیان میں اس قدر فکری عروج پیدا کرنا چاہیے کہ پس ماندہ عقل و شُعور کے کھوکلے طاقچوں پر جمی سیاہی خود بخود دھلنا شروع ہوجائے اور مبلغ کا حرف حرف آبِ گلاب کے قطرے کی طرح ایسی خوشبو بکھیرتا چلا جائے کہ سننے والے بے ساختہ تسبیح و تہلیل کرنے لگیں۔
منصب کا ذاتی استعمال: مبلغ کا اپنے منصب یا محراب و منبر کی ذمہ داریوں کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا انتہائی گھٹیا حرکت، بد اخلاقی اور بد ترین عیب ہے، ایسے کام وہی مقرر کرتے ہیں جو علمی یتیم اور ذہنی مفلوج ہوتے ہیں! اپنی ذاتی رنجشوں، جنگ و جدال کے معموں، بے سرو پا الزام تراشیوں اور فضائل و برکات اپنی جیبیں گرم کرنے کے لیے بیان کرنے والے ایسے ہی گھٹیا اوصاف سے یاد کیے جانے کے لائق ہیں، کیونکہ یہ چور ہیں اور چور بھی وہ جو لوگوں کا وقت چراتاہے یہ چور مال کے چور سے زیادہ برا ہے ، اس کی وجہ سے دعوتِ دین متأثر ہوتی ہے، شرعی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خلل پڑتا ہے اور منصبِ دعوت مجروح ہوتا ہے۔ ایسا شخص یا تو اپنا عیب دور کرے یا پھر اس منصب سے دور ہوجائے ورنہ یہ دین کے لیے کسی بھی فتنے سے کم نہیں ہوگا۔
وہ مقرر جو مال داروں کی موجودگی میں صدقہ کے فضائل بیان کرے اور اہلِ علم و مبلغین پر خرچ کرنے کی ترغیب دلائے اور چاہت یہ ہو کہ مال دار اپنا پیسا اس پر لٹائیں، اسی طرح وہ خطیب جو خرید و فروخت کرتے ہوئے اپنے منصب کا اظہار اس نیت سے کرے کہ اسے مال سستا یا مفت مل جائے، ایسے مقررین دین کو کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں ان کو دعوتِ دین سے کوئی غرض نہیں ہوتی ان کا مقصود ِاعظم خدمتِ بطن ہی ہوتا ہے۔
(4) مبلغ کے لیے قابلِ مشق چیزیں
کسی بھی اہم کام کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے اس کے اہم گوشوں کی مشق کرلینا اور ان کو اپنے انداز کا حصہ بنالینا مفید ہوتا ہے؛ مبلغ کے لیے مذکورہ تمام باتوں پر عمل کرنا یقیناً کامیابی کی ضمانت ہے لیکن ان کے علاوہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی مشق اور تجربہ ہونا مبلغ کےلیے بہت ضروری ہے؛ تجربہ تو اسی وقت ہوسکتاہے جب مبلغ بیان اور نیکی کی دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے، مختلف محافل و اجتماعات میں بیان کرے ، کہیں کامیاب ہو کہیں ناکامی کا منہ دیکھے،کسی جگہ اس پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کیے جائیں اور کہیں ملامت کا ہار اس کے گلےمیں ڈالا جائے! لیکن مشق ایک ایسی چیز ہے جو بیان سے پہلے کی جاسکتی ہےاس سے دل نہیں چرانا چاہیے بہت ممکن ہے دس منٹ کی مشق کے بعد کیا گیا بیان بغیر مشق کے بیان سے کئی گنا فائدے کا سبب بن جائے۔ ایسی چیزیں جن کی مشق بیان سے پہلے کرنی چاہیے انہیں بیان کیا جارہا ہے ملاحظہ کیجیے:
چال ڈھال کی مشق:
مبلغ کو چاہیے اپنی اس چال کی مشق ضرور کرلے جس چال سے اسے اجتماع گاہ اور منچ تک جانا ہے۔ بعض مبلغین کے چلنے یا اٹھ کر منچ تک پہنچنے کا انداز نہایت نازیبا اور بھونڈا ہوتا ہے نہ انہیں اپنے لباس کی درستی کی خبر ہوتی ہے نہ اپنے ہاتھوں کے ہوا میں عجیب انداز سے لہرانے کا ہوش ہوتا ہے وہ ایک تھکے ہوئے مستری کی طرح چلتے ہیں اور ہارے ہوئے جواری کی طرح منچ تک پہنچتےہیں! یہ انداز مناسب نہیں بلکہ مقرر کی چال ڈھال اس کی ہمت، چستی اور حوصلے کا آئینہ ہونی چاہیے۔
بے خوفی اور خود اعتمادی کی مشق:
بلا خوف و خطر اور بغیر کسی تصنع کے نہایت خود اعتمادی کے ساتھ منچ پر بیٹھنے کی باقاعدہ مشق ضروری ہے۔ منچ کا خوف ایک ایسی چیز ہے جس کا سامنا کسی بھی ماہر و منجھے ہوئے مبلغ کو ابتدا میں ضرور ہوا ہوتا ہے بلکہ یوں کہیے کہ ہر ماہر و نامور مبلغ خوف، گھبراہٹ اور پریشانی کا بخوبی سامنا کرنے کے بعد ہی ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ہر چیز ابتدائی تجربے میں ہراس پیدا کرتی ہے لیکن یہ خوف کوئی سانحہ یا پریشانی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک فطری اضطراب کی وجہ سے ہوتاہے کیونکہ ہر نیا تجربہ دماغ کو ایسی کشمکش میں مبتلا کرتا ہے کہ انسان کی زبان لڑکھڑا جاتی اور افکار ذہن میں لٹکتے یا اٹکتے معلوم ہوتے ہیں ! لیکن تین چار مرتبہ کے تجربے کے بعد یہ کیفیت ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے، لہٰذا مقرر کو چاہیے اس عجیب و غریب سیمابی کیفیت پر قابو پانے کے لیے اپنے اساتذہ اورہم درسوں کے سامنے تقریر کرے اور اس کیفیت پر غالب آنا سیکھے۔
دورانِ بیان اشاروں کی مشق:
بیان میں زور، گرمی اور کشائش پیدا کرنے کے لیے موقع کی مناسبت سے ہاتھوں اور دیگر اعضا مثلاً آنکھوں، بھنووں اور پیروں کے اشارات کی معقول مشق بھی کرلینی چاہیے ورنہ بات آسمان کی ہورہی ہوگی اور اشارے زمین کی طرف کیے جارہے ہوں گے!
بذلہ سنجی/خوش طبعی کی مشق:
متانت اور سنجیدگی کے ساتھ خوبصورت، دلچسپ اور واضح مزاح کرنے، مناسب مواقع پر چھوٹے چھوٹے چٹکلے شامل کرنے اور خود مسکرائے بغیر دوسروں کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کی مشق ہونی چاہیے کہ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب مبلغ کی اپنے خیالات کی لگاموں پر مضبوط گرفت ہوگی اور لگامیں گھوڑوں کی ہوں یا خیالوں کی گرفت کے لیے مشق ضروری ہے، کیونکہ بغیر گرفت کے کی جانے والی بذلہ سنجی بعض اوقات مبلغ کی رسوائی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔
مختلف الفاظ کے استعمال کی مشق:
حسبِ موقع اپنے مطلب کو نہایت سلیس اور سادہ یا پُرشکوہ الفاظ میں ادا کرنے کی مشق ہونی چاہیے، خصوصاً اظہارِ خیال وغیرہ جیسے مواقع پر۔
*****
درد مندانہ نصیحت
صدر الافاضل رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ستم ہے کہ جاہل عالم نما عالم بن کر میدان میں آئیں اور ان کی تعداد سے دنیا کو دھوکا دیا جائے اور ان کی خود رائی و نفس پرستی کو علما کی رائے قرار دیا جائے اور علما کا پورا کا پورا طبقہ ساکت و خاموش بیٹھا یہ سب کچھ دیکھا کرے؛ نہ اس کے منہ میں زبان ہو نہ زبان میں حرکت نہ ہاتھ میں قلم نہ قلم میں جنبش، اب آپ کا یہ تقاعد زہد و انکسار کی حد سے گزر کر غفلت و تکاسل کا دائرہ میں آگیا ہے۔ اور اس انداز سکوت سے اسلام و مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہے ہیں۔ اب آپ اس عقیدے کو چھوڑ دیجئے کہ آپ کے فرائض ایک مجلس میں وعظ کہہ کر یا ایک حلقہ میں درس دے کر یا اپنے خلوت خانہ میں فتوی لکھ کر ادا ہوجاتے ہیں اور آپ کو اس پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ اور بد خواں اسلام تخریب کے لیے کیا کیا تدابیر عمل میں لا رہے ہیں؟ یقیناً یہ آپ کا فرض ہے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا! اٹھیے اور فرض کو ادا کیجیے۔ (مقالات صدر الافاضل، ص393)
مشقی و عملی سوالات
1 مبلغ کے لیے دینی معلومات میں سے کن کن چیزوں کا جاننا ضروری ہے؟ اپنا جائزہ لیجیے!
2 ایک مبلغ کے لیے معلوماتِ عامہ کی اہمیت بیان کیجیے۔
3 معاشرے میں رائج رسم و رواج کے حوالے سے مبلغ کے لیے کیا اصول ہے بیان کیجیے۔
4 حاضر جوابی کی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔
5 مبلغ کے ظاہری اور باطنی آداب کا چارٹ بنائیے اور ہر ایک کی مختصر جملوں میں وضاحت کیجیے۔
6 مبلغ کو ناکام کرنے والے فطری و اکتسابی عیوب کا چارٹ بنائیے اور ہر ایک کی مختصر جملوں میں وضاحت کیجیے۔
7 مبلغ کو کن چیزوں کی مشق کرنا ضروری ہے؟
8 فصل میں بیان کردہ عملی چیزوں کی مشق کیجیے۔
9 فصل میں آنے والے اپنے پسندیدہ الفاظ، جملے، تراکیب اور محاورے الگ صفحے پر نوٹ کیجیے۔
اہم نوٹ
1…… فتاوی ٰرضویہ، 4/ 528۔
2…… سنی علماء کی حکایات، ص59۔
3…… حیات اعلیٰ حضرت، 1/202۔
4…… المجموع شرح مہذب، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، 4/538۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع