30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری فصل : دورانِ تحریر
خدمتِ دین کا جذبہ رکھنے والا لکھاری جب پہلی فصل میں بیان کی گئی تمام چیزوں کی مکمل تیاری کرلے گا تو اب عملاً اپنے مقصد کی جانب متوجہ ہوگا اور تحریر کا آغاز کرے گا؛ اس دوران لکھاری کو چاہیے ایک ایسی تحریر معرضِ وجود میں لانے کی کوشش کرے جو قارئین کے لیے علم و معلومات میں اِضافہ، اِنفرادی و اِجتماعی اصلاح اور خدمتِ دین کے لیے گراں قدر کارنامہ شمار ہوسکے، یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب لکھاری اِبلاغ کے ساتھ ساتھ دیگر آدابِ تحریر کا مکمل لحاظ رکھے۔ ذیل میں چار عنوانات کے تحت وہ چند اَہم باتیں ذکر کی جارہی ہیں جن کا ایک رائیٹر کو لحاظ رکھنا ضروری ہے:
(1) الفاظ، جملے اور پیرا گراف (2) قارئین سے وابستگی
(3) اِبتداء و اِنتہاء (4) عنوانات/ ذیلی سرخیاں
(1) الفاظ،جملے اور پیرا گراف
ذخیرۂ الفاظ کے بغیر تحریر کی کوشش بالکل ایسے ہے جیسے بغیر انجن، بغیر بادبان یا بغیر چَپُّوؤں کے کشتی چلانا! ظاہر ہے اِفادہ اور اِستفادہ الفاظ کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور الفاظ ہی کتاب یا مضمون کی اِکائی ہوتے ہیں؛ الفاظ سے جملے،جملوں سے پیرا گراف، پیرا گرافوں سےمضمون اور مضامین سے کتاب وجود پاتی ہے۔ الفاظ اور جملوں وغیرہ سے متعلق ضروری اُمور کو عنوانات کی صورت میں بیان کیا جارہا ہے مُلاحَظہ کیجیے:
ذخیرۂ الفاظ جمع کرنے کے طریقے:
الفاظ کا ذخیرہ جمع کرنے کے مختلف ذرائع ہیں ان میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:
مطالعہ : ”تحریر کا آغاز لکھنے سے نہیں پڑھنے سے ہوتا ہے!“ مطالعہ جہاں رائیٹر کو بہت سے موضوعات فراہم کرتا ہے وہیں اس کی قوتِ بیان کو بھی بحال کرتا ہے بلکہ وسیع کردیتا ہے۔ تحریر کے لیے الفاظ کا ذخیرہ جمع کرنا ہو تو مطالعے کی اَہمیت مزید بڑھ جاتی ہے؛ مختلف مضامین اور خیالات کو ادا کرنے اور یکساں مفاہیم کو الگ الگ الفاظ میں ڈھالنے کے لیے مُتَرادِف کلِمات کی ضرورت کو پورا کرنا ہو تو لکھاری کو کتبِ ادب کی طرف مُراجَعَت کرنا پڑے گی؛ عمدہ ذوق کے حامل شُعَرا کے کلام کے ساتھ ساتھ بہت سی ادبی کتابوں کو پڑھنا ہوگا مثلاً طنز و مزاح، سفر نامے، کتبِ تواریخ اور فرضی کہانیوں پر مشتمل ادبی کتب وغیرہ ۔ دورانِ مطالعہ نظر میں آنے والے خوبصورت جملے اور نئے الفاظ نوٹ کرنے سے الفاظ کا ذخیرہ ہوجائے گا۔
البتہ کتبِ ادب کے مطالعہ کے لیے اپنے استاذِ محترم سے راہ نمائی لینا بے حد ضروری ہے کیونکہ ان میں ایسے ادیبوں کی کتب بھی موجود ہیں جنہوں نے ”خدمتِ ادب“ کی آڑ میں رومانوی لب و لہجہ اور عشقِ مجازی کو فروغ دیا ہے! ایسا نہ ہو مبتدی ذخیرۂ الفاظ جمع کرنے جائے اور اپنا تقویٰ و پارسائی ہی لٹوا آئے!
علما کے بیانات: جب آپ لکھنے کے لیے قلم اٹھائیں گے تو ابتداءً وہی الفاظ نوکِ قلم پر آنے کی کوشش کریں گے جو آپ روز مرہ گفتگو میں سنتے یا بولتے ہیں، یہ الفاظ عام طور پر تحریر کا حصہ بننے کے قابل نہیں ہوتے! اگر آپ چاہتے ہیں آغازِ تحریر کے وہ چند لمحات کہ جن میں مضامین کا ایک سَمُنْدَر دِل و دماغ میں موجیں مار رہا ہوتا ہے اس کے تھمنے سے پہلے ہی اسے نفیس الفاظ میں لکھ کر قاری کو حیرت میں ڈال دیں تو کسی بھی مضبوط عالمِ دین کے بیانات سماعت کیجیے اور نہایت یَک سُوئی کے ساتھ غور کیجیے کہ وہ کس انداز سے سَمُنْدَرِ علم کے طوفان کا سامنا کرتے ہوئے زبردست لب و لہجہ اور خوبصورت الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار فرمارہے ہیں، اس سے ناصرف الفاظ کا خزانہ ہاتھ آئے گا بلکہ لکھتے اور بولتے وقت ہمت اور حوصلہ محسوس ہوگا اور زبان و قلم کی گِرہیں کُھلنے لگیں گی۔
معمر اَفراد کی صحبت: ذخیرۂ الفاظ کے لیے ایک عام فہم ذریعہ عمر رسیدہ اَفراد کی صحبت میں بیٹھنا بھی ہے کہ یہ عمر کے اس حصہ میں موجود ہیں جس میں زبان پختہ اور خیالات یقین کی منزل پاچکے ہوتے ہیں، ان کی زبان سےنکلنے والے الفاظ اپنے زمانے کے سب سے زیادہ مستعمل اور قابلِ فہم ہونے کے علاوہ فصیح بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ خیال رہے کہ معمر اَفراد کے ذریعہ ملنے والے الفاظ ان کے مخصوص لب و لہجہ کی وجہ سے بعض اوقات تبدیل ہوجاتے ہیں، البتہ لُغات میں ان کی درست صورت موجود ہوتی ہے لہٰذا یہاں سے الفاظ چننے کے بعد لُغَت کی طرف مُرَاجَعَت ضرور کرلینی چاہیے۔
الفاظ کا استعمال:
تحریر میں رونق اور زندگی پائی جانی چاہیے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب لکھاری اپنی تحریر کے لیے ایسے الفاظ کا چناؤ کرے جو مطلوبہ مفہوم موزوں ترین انداز میں بیان کرتے ہوں، جنہیں قارئین رَیت کی طرح روند کر نہیں، گلاب کی طرح چن کر آگے بڑھیں! تحریر میں جگہ پانے والے الفاظ جتنے عمدہ اور خوبصورت ہوں گے مضمون اور کتاب کی مقبولیت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
تحریر میں نا مانوس قدیم و متروک الفاظ یا جدید غیر مشہور کلِمات کے بجائے رائج الوقت واضح اور معروف کلِمات استعمال کرنے چاہئیں۔ الجھی باتیں اور بھونڈی تشبیہات تحریر کو خشک، بے جان، غیر مؤثر اور قاری کو خواہ مخواہ ذہنی مشقت میں ڈالنے کا سبب بنتی ہیں؛ یہ ہموار راستے میں پڑے ہوئے اس پتھر کی طرح ہیں جس کی وجہ سے لکھاری خود تو ٹھوکر کھائے گا ہی اس کے ساتھ چلنے والا بھی بہت جلد تھکاوٹ بلکہ اکتاہٹ کا شکار ہوجائے گا۔
تحریر میں غیر زبان کا استعمال خود کی تحقیر کرنے کے زُمرے میں آتا ہے لہٰذا جس زبان میں لکھا جارہا ہے حتَّی الامکان کوشش کی جائے کہ پوری تحریر میں اس زبان کے علاوہ دوسری زبان کا لفظ استعمال نہ ہو مثلاً اردو کتاب میں انگریزیت یا عربیت کی جھلک اچھی بات نہیں۔ البتہ اصل تحریر میں استعمال شدہ کسی لفظ کی تسہیل کے خاطر دوسری زبان کا سہارا لینا پڑے تو یہ الگ بات ہے۔
تحریر میں تنوّع کا پایا جانا خوبی کی دلیل ہےجبکہ لفظی تکرار یا ایک ہی فقرے کا بار بار دہرایا جانا کمزور اور محدود لفظی خزانے کا پتا دیتا ہے، اگرچہ یہ معاملہ لکھاری کی بے پروائی یا سُستی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو؛ یہ تکرار لفظوں میں بھی ہوسکتی ہے، جملوں میں بھی اور مفہوم میں بھی، لیکن ایک اچھے قلم کار کا ان تینوں سے بچنا ضروری ہے۔ لفظوں کی تکرار سے بچنے کا ایک آسان حل دورانِ تحریر مُتَرادِف کلِمات پر مشتمل لُغات کا بار بار استعمال کرنا ہے۔ بعض اوقات لکھاری لفظ کی تکرار سے تو محفوظ ہوجاتا ہے لیکن اسی لفظ کی شکلی مُشابَہَت والے لفظ سے بچنا مشکل ہوتا ہے، ایسی صورت میں اسے چاہیے دو ایسے الفاظ جو معنیٰ میں مختلف اور شکل و صورت میں مُشابِہ ہوں اور ان کو ایک ہی جملہ میں استعمال کرنے کی نوبت آن پڑے تو ان کے مابین کم از کم دو لفظوں کا فاصلہ رکھے، زیادہ فاصلہ ہو تو اور بہتر ہوگا،مثلاً:
(1) ”میں“ نے سِن 2016 ”میں“ درسِ نظامی مکمل کیا (2) سِن 2016 ”میں میں“ نے درسِ نظامی مکمل کیا
ان دونوں جملوں کا مفہوم بلکہ الفاظ کی تعداد بھی یکساں ہے، لیکن پہلا جملہ دوسرے کے مقابلے میں زیادہ رواں ہے۔ یہی صورتِ حال دیگر الفاظ میں بھی پیش آجاتی ہے، مثلاً:کیا کِیا،بھی ابھی، سے اسے اور بھی کبھی وغیرہ۔ البتہ اَشعار میں اس کی بھرپور گنجائش ہوتی ہے،مثلاً اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کا مبارَک شعر:
یوں ملائک کریں معروض کہ اک مجرم ہے
اس سے پرسش ہے بتا تونے ”کیا کیا کیا“ ہے
(حدائقِ بخشش)
شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ کا شعر:
گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہوگا
کیا بغیر کیا بے ”کیا کیا“ ہوگا
(ذوقِ نعت)
اِصطِلاحی الفاظ:
جس موضوع پر لکھا جارہا ہے اس کی اِصطِلاحات سے واقف ہونا ضروری ہے تاکہ موضوع سے متعلق تمام مفاہیم اور علمی مَباحِث مصنف کی گِرفت میں رہیں۔
دورانِ تحریر اِصطِلاحات کا ذکر ضرور کیا جائے لیکن نئی اِصطِلاح کی وضاحت ضرور کردی جائے،اس وضاحت کے تین طریقے معروف ہیں:
(1) چلتے جملے کے دوران جہاں وہ قابلِ وضاحت اِصطِلاح آجائے وہیں اس کی وضاحت لکھ دی جائے؛ اس کا طریقہ یہ ہو سکتا ہے: وضاحت قوسین (بریکٹ) میں یا کوماز (”“) میں لکھ دی جائے۔
(2) چلتے جملے کے دوران جہاں وہ قابلِ وضاحت اِصطِلاح آجائے وہاں حاشیہ میں وضاحت کردی جائے۔
(3) چلتے جملے کے دوران جہاں وہ قابلِ وضاحت اِصطِلاح آجائے اس کے اگلے جملے میں اس کی وضاحت جملے کی صورت میں لکھ دی جائے، اس سے جملے کا تسلسل بھی متأثر نہیں ہوتا اور وضاحت بھی ہوجاتی ہے۔
جملہ/کلام:
موتیوں کے سے الفاظ چن لینے کے بعد انہیں جملوں میں ڈھالنا خاصی مہارت کا کام ہے، لکھاری کو چاہیے خوب غور و خوض کے بعد اپنے ما فی الضمیر کو منتخب الفاظ کی مدد سے جملوں میں بیان کرے، جس زبان میں تحریر کی جارہی ہے اس کے قواعدِ اِنشا اور کلِماتِ ثلاثہ کی نشست و برخاست کے اُصولوں کو ملحوظ رکھے اور ضرورتاً علاماتِ وقف بھی استعمال کرے۔
جملوں کی طوالت و اِختصار:
جملہ طویل ہونا چاہیے یا مختصر اس کا کوئی متفقہ اُصول نہیں ہے؛ بعض مفہوم طویل جملوں کا تقاضا کرتے ہیں اور بعض مختصر جملوں میں بھی بخوبی سماجاتے ہیں، ایک اچھی تحریر کو چھوٹے اور لمبے جملوں کا متوازن مجموعہ ہونا چاہیے۔ جملوں کے حجم کے حوالے سے درج ذیل ہدایات کو ضرور پیشِ نظر رکھیے:
(1) اگر آپ رموزِ اوقاف؛ کوما (،) کالن (:) سیمی کالن (؛) انورٹڈ کوماز (” “ -’ ‘) وغیرہ کے اِستعمال سے واقف نہیں ہیں تو لازمی واقفیت حاصل کیجیے ورنہ ہمیشہ اپنی تحریر میں مختصر جملے استعمال کرنے کا اِلتزام کیجیے!
(2) جملے طویل کرنے کی حاجت ہو تو بقدر حاجت ہی اسے طویل کیجیے؛ حروفِ عاطفہ کے ذریعہ زبردستی طول دینے سے بہتر ہے بغیر عَطْف کیے جملوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔
(3) اگر کوئی جملہ فطری طور پر طویل ہورہا ہو تو اس کو خواہ مخواہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں ڈھالنے کی کوشش مت کیجیے بلکہ اس کی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کا جائز حق اسے دیجیے۔
جملے کی فطری یا غیر فطری طوالت کا صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت ادیبوں کو پڑھنے اور خوب مشق کرنے کے بعد ہی پیدا ہوسکتی ہے؛ اس وقت تک جملے کی فطری یا غیر فطری لمبائی کو جانچنے کے لیے یہ طریقہ اِستعمال کیجیے: اگر کوئی جملہ اپنی اِبتدا سے اِنتہا تک بغیر جھول اور بغیر اٹکے چل رہا ہے تو سمجھ لیجیے وہ اپنی فطری لمبائی پر مشتمل ہے، اگر کسی بھی مقام پر جھول موجود ہے تو اس کی دو ہی وُجوہات ہوسکتی ہیں؛یا تو قاری درست پڑھنا نہیں جانتا یا پھر وہ جملہ اپنی فطری ساخت پر نہیں ہے۔
اس سے فرق نہیں پڑتا بلی کالی ہے یا سفید، دیکھنا یہ ہے کہ چوہا پکڑ سکتی ہےیا نہیں؟ تحریر میں طویل جملہ ہونا چاہیے یا مختصر اس بَحْث کو ادیبوں اور صاحبانِ فن کے لیے چھوڑ دیجیے؛ آپ صرف وہ جملہ لکھیے جس میں مطلوبہ مفہوم مؤثر انداز سے ادا ہوسکے چاہے وہ طویل ہو یا مختصر۔
پیرا گراف:
ایک ہی مفہوم یا ایک ہی حقیقت کی توضیح کے لیے چند جملوں پر مشتمل ایسا مجموعہ جن کے مابین ایک مضبوط تعلق اور واضح ربط پایا جائے پیرا گراف کہلاتا ہے۔
پیرا گراف اس قدر جامع مانع اور مستقل نتیجہ پر مشتمل ہونا چاہیے کہ اس کے ذریعہ متعین نکتے تک پہنچنا ممکن ہو، بلکہ اس کو ایک مختصر مضمون سے تعبیر کیا جاسکے۔
لمبے پیرا گراف کے مقابلے میں مختصر پیرا گراف زیادہ موزوں ہوتا ہے، البتہ کوئی مفہوم اپنی وضاحت کے لیے لمبے پیرا گراف کا تقاضا کرتا ہو تو اس کو پورا کرنا لکھاری کی ذمہ داری ہے۔
متعدد پیرا گرافوں کے مجموعہ سے مضمون وجود میں آتا ہے لہٰذا دو پیرا گرافوں کے درمیان کچھ نہ کچھ ربط ہونا چاہیے تاکہ مضمون موضوع سے مختلف معلوم نہ ہو۔
(2) قارئین سے وابستگی
تحریر ہو یا بیان یا پھر نیکی کی دعوت کا کوئی بھی طریقہ اس میں سب سے اَہم یہ ہے کہ نیکی کی دعوت دیتے وقت مُخاطَب کو ایسا لگنا چاہیے کہ کوئی اپنا ان سے بات کررہا ہے، جب تک مُخاطَب تحریر میں اپنائیت محسوس کرتا رہے گا وہ آپ کی طرف متوجہ رہے گا اور تمام باتیں سمجھنے کے لیے اپنا ذہن کُھلا رکھے گا، یہی وہ وابستگی ہے جو ایک لکھاری کو درکار ہوتی ہے۔
تحریر میں آسان الفاظ، دلچسپ محاورات اور ضرب الامثال کے ساتھ ساتھ کہاوتیں، اِقتباسات، حکایات اور موقع کی مناسبت سے اچھے اچھے اشعار ذکر کیے جائیں۔
تحریر مُخاطَب کے تہذیبی، معاشرتی اور تمدّنی پسِ منظر میں ہو تو وہ بے پناہ اپنائیت محسوس کرے گا، اسے آپ کی تحریر کی صورت میں بہترین دوست مل جائے گا جو اس کے اِرد گِرد کے احوال سے واقفیت رکھتا ہے اور اسی کی روشنی میں اس کی راہ نمائی کرتا ہے۔
مصنف اپنے پختہ اور ذاتی تجربات کو دلکش اُسلوب میں ڈھال کر بیان کرے، البتہ اس دوران واحد متکلّم کے صیغوں اور حاکمانہ لہجے کے بجائے جمع کے الفاظ اور حکیمانہ انداز ہونا چاہیے۔
ذیل میں مزید ایسی اِضافی چیزیں بیان کی جارہی ہیں جو قارئین کی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں، مُلاحَظہ کیجیے:
اِختصار و جامعیت:
”کوزے میں دریابند“ محاورہ ایسی ہی تحریر یا بات کے لیے وضع ہوا ہے جس میں الفاظ کم اور معانی زیادہ ہوں، ایسی تحریر باذوق اَفراد کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ البتہ اِختصار و جامعیت کا فیصلہ لکھاری کو صِنْفِ تحریر اور اپنے قارئین کی ذہنی سطح کو دیکھ کر کرنا ہوگاکیونکہ اِختصار کے لیے قاری کی ذہنی سطح کا ایک خاص دَرَجے تک بلند ہونا لازمی ہے، بصورت دیگر اِختصار کی طرف جانا تحریر کے مطلوبہ نتائج سے محرومی کا باعث ہوگا۔
ظرافت/ خوش طبعی:.
تجربے کی بات ہے تحریر میں اگر مزاح کا عنصر شامل کردیا جائے تو تحریر کی اثر پذیری اور مقبولیت کو چار چاند لگ جاتے ہیں، لہٰذا ظرافت یا بذلہ سنجی کو تحریر کا حصہ بنانا نہایت مفید ہوگا؛یہ اشعار کی معمولی رد و بدل، الفاظ کے اِملا کی تبدیلی، الفاظ کے استعمال اور مکمل جملے کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے،نیز تحریر میں مزاح جتنی سنجیدگی سے ہوگا اتنا ہی پُر لطف ہوگا، لیکن اس کے لیے لکھاری کی حسِ مزاح کا تیز ہونا اوراَہلِ فن کی مزاح نگاری کا مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے۔
منظر نگاری:
منظر نگاری مُخاطَب کی توجہ اور دلچسپی برقرار رکھنے کا کامیاب ترین ذریعہ ہے، کئی اَہلِ فن اپنی تحریر کی دلچسپی بڑھانے کے لیے منظر نگاری سے کام لیتے ہیں، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اچھی منظر نگاری پر مشتمل تحریر قاری پڑھنا شروع کرے اور ادھوری چھوڑ دے، لہٰذا نیکی کی دعوت کی ذمہ داری اٹھانے والے لکھاری کو چاہیے منظر نگاری پر خوب محنت کرے اور بہتر سے بہترین تخلیق کرنے کی کوشش کرے تاکہ نیکی کی دعوت تحریر کے ذریعہ مکمل طور پر قاری کے دل و دماغ میں گھر کرجائے۔
منظر نگاری لفظوں کے ذریعہ مُخاطَب کے ذہن میں تصویر کشی کرنے کا نام ہے لہٰذا لکھاری کو چاہیے وہ الفاظ جو تصوّر اور خیال کو تصویر کی صورت مُخاطَب کے ذہن میں اُبھار سکیں ان کا بخوبی استعمال سیکھے اور ا س کی خوب مشق کرے مثلاً اپنے خیالات کو بصارت، سماعت اور حس کو متحرک کرنے والے کلمات کے سہارے نمو بخشے اور ان کو حکایتی جملوں میں مرتب کرتا چلا جائے اس طرح بہترین منظر کشی کے ساتھ زبردست مضمون وجود پذیر ہوجائے گا، اگر معمولی تشبیہات بھی شامل ہوجائیں تو یقین کیجیے مضمون کو چار چاند لگ جائیں گے۔ تشبیہات کا استعمال اِبتداءً مشق کے طور پر کیا جائے جب اس راہ پر قلم چل پڑے تب اصل مضمون کی تحریر کے دوران تشبیہ کا استعمال کرے؛ مشق کے بغیر اصل مضمون میں تشبیہات کی کوشش موضوع سے ہٹنے کا سبب بن سکتی ہے۔
منظر نگاری کے دو مؤثر طریقے:
منظر نگاری کے دوران اس بات کا لحاظ اِنتہائی ضروری ہے کہ مضمون کے حجم کو دیکھتے ہوئے منظر نگاری کی جائے؛ لمبے مضمون میں نسبتاً طویل منظر نگاری اور مختصر مضمون میں مختصر منظر نگاری ہی فائدہ مند ہوگی۔ منظر نگاری کے طریقوں کے ضمن میں مختصر اور طویل منظر نگاری کی مثالیں بھی مُلاحَظہ کیجیے:
پہلا طریقہ: عام طور پر منظر نگاری کرنے والے قلم کار کسی واقعہ کے تناظر میں ہی منظر نگاری کرتے ہیں یا فرضی کہانی ترتیب دے کر اس کو اپنے فرضی ماضی کا حصہ بنانے کے بعد اس پر منظر نگاری کی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک عمدہ اور قابلِ تقلید عمل ہے کہ تاریخِ اسلام اور مختلف واقعات کو اس طریقِ کار سے بخوبی بیان کیا جاسکتا ہے بلکہ دِلوں میں راسخ کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کی منظر نگاری کے لیے عمدہ ترین منظر کشی رئیس التحریر مولانا ارشد القادری صاحب نے فرمائی، اس کی ایک جھلک بطور نمونہ مُلاحَظہ کیجیے:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کا دعوت میں جانے کے لیے نکلنے کا منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
امامِ اَہلِ سُنَّت کی سواری کے لیے پالکی دروازے پر لگا دی گئی تھی، سینکڑوں مشتاقانِ دید انتظار میں کھڑے تھے؛ وضو سے فارغ ہوکر کپڑے زیبِ تن فرمائے، عمامہ باندھا اور عالمانہ وقار کے ساتھ باہر تشریف لائے؛ چہرۂ انور سے فضل و تقویٰ کی کرن پھوٹ رہی تھی، شب بیدار آنکھوں سے فرشتوں کا تقدس برس رہا تھا، طلعتِ جمال کی دِل کشی سے مجمع پر ایک رقت انگیز بے خودی کا عالم طاری تھا گویا پروانوں کے ہجوم میں ایک شمع فروزاں مسکرا رہی تھی اور عندلیبانِ شوق کی انجمن میں ایک گلِ رعنا کھلا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سےسواری تک پہنچنے کا موقع ملا۔ (1)
دوسرا طریقہ: منظر نگاری کسی نظریہ یا خیال کی پختگی کے لیے کی جاتی ہےاگرچہ اس میں بھی سہارا وقوعی چیزوں کا ہی لیا جاتا ہے لیکن اصل مقصود وہ وقوعی چیزیں نہیں بلکہ ان کے اسباب و محرکات کو جزئیات کے ساتھ دِل و دماغ میں بٹھانا ہوتا ہے، یہ منظر کشی نیکی کی دعوت کے جذبہ سے سرشار لکھاری کے لیے نہایت کار آمد اور پر تاثیر ہوتی ہے۔ مثلاً ”بارش اللہ کی عظیم نعمت ہے!“ اس بات کو مُخاطَب تک پہنچانے کا ایک سادہ سا طریقہ ہے کہ اتنی بات لکھ دی جائے:
” بارش اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جس سے زمین پر بسنے والے ہر ذی جان کی زندگی وابستہ ہے؛ انسان حیوان، چرند پرند ہر ایک خوش گوار زندگی کے لیے بارش کا محتاج ہے۔“
اس سے مقصود تو حاصل ہوجائے گا اور لکھنے والے کی ذمہ داری بھی پوری ہوجائے گی، لیکن مُخاطَب کے دِل میں بات اپنی جزئیات کے ساتھ راسخ نہیں ہوگی، یہ گوہر منظر نگاری کے ذریعہ بخوبی حاصل ہوسکتا ہے، مثلاً اسی بات کو منظر نگاری میں مُلاحَظہ کیجیے:
”موسمِ سرما کے جاتے ہی سورج اپنے تیور دکھانے لگتا ہے، ٹھنڈے موسم میں گدگدی کرنے والی دھوپ کانٹوں کی طرح چبھنے لگتی ہے؛ بس فرق یہ ہے کہ کانٹا چبھنے سے خون بہتا ہے اور آفتابِ نصف روز کی تمازَت عِرْقِ مَسامات نکال دیتی ہے! ہَوا بھی لو کی صورت اختیار کرجاتی ہے، گرمی کے تھپیڑے چہرے کو جھلسا کر رکھ دیتے ہیں؛ بچوں کی اٹکلیوں سے آباد گلی کوچے سورج کی حِدت سے ویران ہوچکےہوتے ہیں! اللہ اللہ کرکے دن کٹتا ہے تو رات کی بے وفائی کا پتا چلتاہے؛ اس نے بھی سورج کے اثر کو قبول کرلیا ہے، ہَوائیں اب تک گرم ہیں، حَبس اوسان پر طاری ہوا جارہا ہے یوں دن اور رات پر تمازَتِ آفتاب کا قبضہ ہوچکا ہے، نظامِ زندگی متأثر ہے چرند پرند بھی پیاس سے نڈھال ہوئے جارہے ہیں، کسی کے بس میں نہیں ہے کہ وہ گرمی کی شِدت پر قابو پاسکے ہر ایک زبانِ حال سے بلکہ اب تو حقیقت میں پروردگارِ عالَم سے رحمت کی برکھا طلب کرنے لگا ہے۔ دعا مستجاب ہوجاتی ہے رحمتِ پروردگار خَلقَت پر برسنا چاہتی ہے، ان کے حلق و جگر کی خشکی کو تری میں بدلنے کا اِرادہ ہوچکا ہے؛ میکائیل علیہ السلام کی جانب برسات کا حکم متوجہ ہوناتھا کہ لُو کی جگہ ٹھنڈی ہَوا لینے لگتی ہے سورج کالے بادلوں کی چادر اوڑھ لیتا ہے، اطراف و اکناف کالی گھٹا کی لپیٹ میں آچکے ہوتے ہیں ٹھنڈک اب خنکی کا اِحساس دلانے لگتی ہے اور خشک زمین پر نَم قطرے ٹپکنے کو تیار ہیں! یہ نرم نرم بوندیں مٹی کو مہکانے لگی ہیں اور عجیب سوندھی سی خوشبو حواس پر چھائی جاتی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ قطرے دو قطرے تیز بارش میں بدل جاتے ہیں! موسلا دھار بارش دن رات برس رہی ہے، بادلوں کی گرج ، بجلی کی چمک عجیب کَیف پیدا کررہی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے گرمی سے جُھلسنے والا بدن ٹھنڈ سے دانت کِڑکِڑا نے لگا ہے، بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر چکی ہیں وہ گھروں سے نکل کر گلیوں میں کھیلتے نظر آرہے ہیں آج جان داروں کی زندگیوں میں بہار آگئی ہے۔ بارش کا یہ خوبصورت موسم ہر ایک کو پسند ہے؛ یہ کتنا حسین، خوش گوار،دِل کش اور سُہانا ہوتا ہے، جب ہر چیز نکھری نکھری اور دھلی دھلی نظر آتی ہے اور سبزہ آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے؛ پتّا بوٹا، پھول ،شاخیں ہَوا میں لہراتی ہوئی ٹھنڈک بکھیرتی ہیں، یہ وہ موسم ہے جس میں دِل خوشی سے جھومنے لگتا ہے۔
خلق کو خوب سیراب کرکے اپنا اثر چھوڑ کر موسم کو خوشگوار بنانے والی بارش جب تھمتی ہے، بادلوں کی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی ختم ہوجاتی ہے اور مہربان بادل ایک دوسرے کو پکڑتے پکڑتے کہیں دور نکل چکے ہوتےہیں تو چمن زار پُر بہار ہوجاتے ہیں، زردی کے رنگے ہوئے پتّے کھیت کَھلْیان سر سبز و شاداب نظر آنے لگتے ہیں، مطلع کُھل جاتا ہے موسم صاف ہوتاہے فضا دھل کر تازہ دَم ہوجاتی ہے، پرندے چہچہانے اور کلیاں مسکرانے لگتی ہیں ، قوسِ قزح فضا میں جھولا ڈالے خوش گوار زندگی کی نَوِید دے رہا ہے اور ہر ایک سراپا شکر بنا خدا کی اس عظیم نعمت پر واری جاتا ہے کہ اگر یہ بارش نہ ہوتی تو ہماری زندگیوں میں بہار نہ آتی!“
یقیناً اس طرح کی منظر کشی سے بات کی اَہمیت مع جزئیات قاری کے ذہن میں بیٹھ جائے گی، لیکن اس منظر نگاری کے لیے مشاہدے کا مضبوط ہونا اور اس کے بیان پر قدرت ہونا نہایت ضروری ہے۔
(3) اِبتدا و اِنتہا
اِختتام لکھنے سے پہلےآغاز کی تخلیق لازم ہے! ایک اچھے مضمون کی پہچان اس کی چند تمہیدی سطروں سے ہوجاتی ہے اور مضمون کی قوت اس کے اِختتام سے معلوم ہوتی ہے؛ مضمون کا آغاز اور اِختتام منطقی انداز سے ہونا چاہیےیعنی جب قاری آپ کے مضمون کو پڑھے تو اسے اِحساس ہو کہ ہاں واقعی مضمون شروع ہورہا ہے۔ اگر بلاتمہید و تعارف اچانک مضمون کا آغاز ہوا اور قاری کے ذہن میں یہ خیال اُبھرا کہ اس سے پہلے بھی کچھ ہونا چاہیے تھا تو سمجھ لیجیے آپ کا مضمون منطقی انداز سے شروع نہیں ہوسکا،یوں آغاز ہی میں قاری کا الجھ جانا مضمون مکمل پڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوگا۔
انسانوں کی طرح تحریریں بھی مختلف لباسوں میں ہوتی ہیں، ان کے موضوع الگ الگ،ڈھانچے جدا جدا اور لہجے علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں جو انسان کی طرح تحریر میں ایک مخصوص مزاج پیدا کردیتے ہیں اور تحریر پہلے لکھاری اور پھر قاری سے اپنے مزاج کے مطابق برتاؤ کا تقاضا کرتی ہے، ان کا مزاج درمیان سے زیادہ آغاز و اِختتام پر مُنفرِد رویوں کا طلب گار ہوتا ہے۔ اگر لکھاری اس باریک نکتے کو نباہ جائے اور اپنی تحریر کا منطقی آغاز و اِختتام کرنے میں کامیاب ہوجائے تو یہ ایک بہترین رائیٹر شمار کیا جائےگا۔ لیکن یہ امر قلمی مشق سے زیادہ دماغی ریاضت چاہتا ہے لہٰذا لکھاری اپنی فکری صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کرتا رہے۔ منطقی آغاز و اِختتام سے متعلق پانچ باتوں کا ضرور لحاظ رکھیں:
(1) مختصر مضمون کا اِبتدائیہ 20 سے 30 الفاظ پر مشتمل ہونا چاہیے، یہ الفاظ دو سے تین جملوں میں ہوں تو بہتر ہے۔
(2)طویل مضمون کا تعارف دو سے تین پیرا گرفوں میں ہو جبکہ کل کلِمات کی تعداد تقریباً 150 اور جملوں کی تعداد 6 سے 15 کے درمیان ہو۔
(3) مضمون چھوٹا ہو یا بڑا اس کی تمہید پورے مضمون کے تین سے پانچ فیصد حصہ پر مشتمل ہونی چاہیے؛ یہی صورتِ حال اِختتام کی بھی ہو، ایسا نہ ہو کہ نصف مضمون یا چوتھائی حصہ تمہید و اِختتام کی نذر کردیا جائے۔
(4) تمہید ایک اعلانِ جنگ کی طرح اعلانِ تحریر کا دَرَجہ رکھتی ہے اسی طرح اس کے آخری جملے اعلانِ اِختتام جیسے ہونے چاہئیں کہ پڑھنے والا خود کو ذہنی طور پر تیار کرلے کہ اب تحریر یا بَحْث ختم ہونے والی ہے!
(5) عام طور پر لکھاری اپنی بَحْث کو مکمل نتیجے تک پہنچا کر اسے اِختتام پذیر کردیتا ہے اور کبھی بَحْث کا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا اور ماہرین کے نزدیک وہ مسئلہ زیرِ بَحْث ہوتا ہے، ایسا ہو تو اولاً محرر ایسی بَحْث کو موضوع ہی نہ بنائے اگر بنالے تو آخر میں اس چیز کی وضاحت کردے کہ یہ نکتہ ابھی ماہرین کے یہاں مختلف فیہ یا زیرِ بَحْث ہے۔
(4) عنوانات/ سرخیاں
ہر انسان اپنی ذات میں ایک وجود ہے اس کے ساتھ وہ متعدد ذیلی نظاموں کا مجموعہ بھی ہے مثلاً نظامِ ہاضمہ، نظامِ تنفس اور نظامِ دورانِ خون وغیرہ جیسے کئی نظام اس کی ذات کا حصہ ہیں، بالکل اسی طرح مضمون کا بھی معاملہ ہے ؛ اس کا مرکزی خیال ایک ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ بہت سے ذیلی مَباحِث چل رہے ہوتے ہیں، خصوصاً طویل مضمون اور کتاب میں ایسا ضرور ہوتا ہے۔
ذیلی عنوانات کی مرکزی خیال کےساتھ وابستگی کو نمایاں کرنے کے لیے ذیلی سرخیاں (ہیڈنگز) بہترین معاون ہوتی ہیں، یہ قارئین کو اس جانب متوجہ کرتی ہیں کہ یہاں اصل مضمون سے متعلق کسی نئے نکتے کا آغاز ہورہا ہے۔ البتہ ہر پیرا گراف کو نیا نکتہ گَردانتے ہوئے سرخیاں لگاتے جانا ناتجربہ کاری کا نتیجہ ہوتا ہے یا طویل مضمون میں کہیں پر بھی ذیلی سرخی نہ لگانا ذہنی کشمکش اور منتشر خیالی کی خبر دیتا ہے! لہٰذا ذیلی عنوانات کی نشاندہی کرنے میں دامنِ اعتدال پر گرفت ضروری ہے؛ اس حوالے سے مبتدئین کی راہ نمائی کے لیے چند ضروری نکات بیان کیے جارہے ہیں مُلاحَظہ کیجیے:
(1) ہر نئے پیرا گراف پر ذیلی سرخی لگانے کے بجائے نئے عنوان پر ذیلی سرخی لگانے کا اِہتمام کیجیے بشرطیکہ وہ عنوان 100 سے 150 الفاظ پر مشتمل ہو، اگر اس سے کم الفاظ پر مشتمل عنوان ہو تو اسے بغیر سرخی لگائے صرف نئے پیرا گراف میں ذکر کردیجیے۔
(2) ہر وہ ذیلی عنوان جو 500 سے 700 الفاظ پر مشتمل ہو اس پر کم از کم ایک ذیلی سرخی ہونی چاہیے۔
(3) 1000 الفاظ پر مشتمل عنوان میں دو سے تین ذیلی سرخیاں ہونی مفید ہیں۔
(4) محرر کو چاہیے دورانِ تحریر ہی سرخیاں قائم کرنے کا اِہتمام کرے کہ پیراگراف یا بَحْث لکھتے وقت اپنی جزئیات کے ساتھ ذہن میں ہوتی ہے جس کی مدد سے جامع عنوان لگایا جاسکتا ہے، ورنہ عنوان کی جامعیت میں کمی کا امکان ہے۔
یاد رکھیے! ذیلی عنوانات کے مذکورہ نِکات صرف مبتدئین کی آسانی کے لیے بیان کیے گئے ہیں ورنہ حقیقت میں ایسا کوئی ٹھوس اصول نہیں ہے کہ الفاظ کی معین تعداد پوری ہونے پر سرخیاں لگائی جائیں۔ لکھاری اپنی صلاحیت کی بنیاد پر مضمون کو مکمل کرتے ہوئے اس بات کو پیشِ نظر رکھے کہ کسی بھی اَہم حصہ کو بغیر عنوان قائم کیے نہیں جانے دینا اور کم اَہم پیرا گراف کو اَہم مَباحِث کے ضمن میں بیان کرنا ہے، ہر جگہ اسے نمایاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مشقی و عملی سُوالات
1 ذخیرۂ الفاظ کے لیے کون سا طریقہ سب سے زیادہ موزوں ہے؟ سببِ ترجیح کے ساتھ بیان کیجیے۔
2 دورانِ تحریر اِصطِلاح کی وضاحت کس طرح کی جاسکتی ہے؟
3 جملوں کی طوالت و اِختصار کے حوالے سے آپ کیا جانتے ہیں؟
4 عُلَمائے دین کے کتب و رسائل سے کوئی ایسی عبارت پیش کیجیے جو ظرافت پر مشتمل ہو۔
5 تحریر کے آغاز و اِختتام کی کیفیت کے حوالے سے اپنا عِندیہ دیجیے۔
6 ذیلی سرخیاں شامل کرنے کا بنیادی اصول بیان کیجیے۔
7 فصل میں آنے والے اپنے پسندیدہ الفاظ، جملے، تراکیب اور محاورے الگ صفحے پر نوٹ کیجیے۔
8 درج ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر طبع آزمائی کیجیے:
الف – شبِ ولادتِ مصطفےٰ کے واقعات کو منظر نگاری کی صورت میں بیان کیجیے۔
ب- واقعۂ معراج کو منظر نگاری کی صورت میں بیان کیجیے۔
ج- اعلیٰ حضرت کے کلام: ”کس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے“ کی روشنی میں نثری مضمون مرتب کیجیے۔
د- کسی بھی موضوع پر مضمون لکھیے جو خوبصورت الفاظ، عمدہ تراکیب اور بہترین آغاز و اِختتام پر مشتمل ہو۔
تیسری فصل:تحریر کے بعد
تحریر کا تخلیقی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد آخری اور اَہم ترین مرحلے کا آغاز ہوتا ہے جس میں لکھاری اپنی تحریر کو قابلِ اِشاعت بنانے کے لیے کوشش کرتاہے۔ اور یہ پروف ریڈنگ کا مرحلہ ہے اس سے متعلق اَہم ہدایات مُلاحَظہ کیجیے:
پروف ریڈنگ
تحریر کے بعد اس کی پروف ریڈنگ تحریر سے زیادہ ضروری ہے! یہ بات نہ ہونے کے برابر ہے کہ تحریر کا مُسَوَّدَہ پہلی ہی بار خامیوں سے پاک اور معیاری ہو بلکہ ایک اچھا اور معیاری مُسَوَّدَہ کئی بار نظر ڈالنے اور اس میں اِصلاح کرنے کے بعد وجود میں آتا ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ جوں جوں لکھاری کا تجربہ بڑھتا جائے اس کے مُسَوَّدَے میں تصحیح کا عمل کم سے کم ہوتا چلا جائے۔
پروف ریڈنگ کے مقاصد:
پروف ریڈنگ کا عمل دورانِ تحریر بھی کسی نہ کسی طور پر جاری رہتا ہے جس میں لکھاری کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور کرتا ہے لیکن تحریر مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ پروف ریڈنگ کرنا لکھاری کے لیے صبر آزما، یَک سُوئی اور محنت طلب کام ہے، پروف ریڈنگ میں صرف لفظی تصحیحات ہی نہیں کی جاتیں بلکہ اس کے چند اَہم مقاصد ہوتے ہیں، مثلاً
* الفاظ کی نوک پلک، نشست و برخاست اور استعمال کی درستی۔
! اِملا و اِنشا کے قواعد اور رُموزِ اَوقاف کی جانچ۔
* غیر ضروری اور غیر متعلقہ تفصیلات کو نکالنا۔
! جملوں، عبارات اور پیراگرافوں کے باہمی ربط کی پرکھ اور اُسلوب کی تصحیحات۔
! اِستعارات کی شُمُولِیَّت ہے تو ان کی غیر جانب دارانہ گرفت کرکے اس کی درستی۔ وغیرہ
پروف ریڈنگ کے مَراحل:
معیاری پروف ریڈنگ کے لیے بہترہے اس کو چند مَراحل میں تقسیم کرکے انجام دیا جائے؛ پروف ریڈنگ کو درج ذیل تین مَراحل میں تقسیم کرکے انجام دیا جاسکتا ہے:
پہلا مرحلہ: مُسَوَّدَہ تیار ہونے کے بعد پہلے مرحلے کی پروف ریڈنگ لکھاری از خود کرے اور اسے کسی دوسرے کا مضمون سمجھ کر نہایت تنقیدی نظر سے پڑھے! یہ اگرچہ ایک مشکل اَمرہے کہ جو مضمون آپ نے خود محنت اور کوشش سے لکھا ہے اب اس میں خود ہی زیادہ سے زیادہ غلطیاں تلاش کرنی ہیں! یقین کیجیے اگر اس طرح پڑھنے کا معمول بنالیا جائے تو ان شاء اللہ بہت جلد تحریر پہلے ہی مُسَوَّدَے میں اس قابل ہوگی کہ سوائے لفظی قطع بُرید کے کوئی غلطی نہ رہے!
دوسرا مرحلہ: پہلے مرحلے میں آنے والی اَغلاط اور ان کی مکمل تصحیح کرنے کے بعد دوسرے مرحلے میں لفظی اَغلاط کو درست کرنے کی کوشش کیجیے؛ اگرچہ پہلے مرحلے میں ضمناً یہ دیکھا جاچکا ہوگا لیکن اس بار لفظی اَغلاط پکڑنے کے لیے خصوصی پروف ریڈنگ کرنی ہے اور اس کا طریقہ بھی نہایت مختلف ہے!
اس بار عبارت کو الٹی جانب سے پڑھنا ہے؛ جی ہاں الٹی جانب سے! اگر تحریر اردو یا عربی میں ہے تو ہر لائن الٹی جانب سے پڑھیے اگر انگریزی ہے تو اسے سیدھی جانب سے پڑھیے اور کسی بھی لفظ کے غلط اِملا وغیرہ کو درست کرتے جائیے۔ اس طرح ہر لفظ پر مکمل توجہ ہوگی جو لفظی غلطی سے بچاؤ کا سبب بنے گی۔
تیسرا مرحلہ: یہ مرحلہ بالکل آخری مرحلہ ہے، بہتر ہے یہ پروف ریڈنگ کمپیوٹر اسکرین کے بجائے باقاعدہ پرنٹ پر کی جائے اور کسی دوسرے ماہر پروف ریڈر سے کروائی جائے۔
اگر لکھاری خود یہ پروف ریڈنگ کرے تو بہتر ہے ایک اِسکیل یا کوئی بھی ایسی چیز اپنے پاس رکھے جس سے صفحے کی کم از کم تین لائنیں مکمل چُھپ جائیں؛ اسے پروف ریڈنگ کے دوران یوں استعمال کرے کہ جس لائن کو پڑھ رہا ہے اس کے نیچے والا حصہ چُھپ جائے، اس طرح کوئی بھی لائن پڑھنے سے نہیں رہے گی اور معیاری انداز پر بہترین پروف ریڈنگ ہوجائے گی۔
پروف ریڈنگ پر دو اَہم مشورے:
پہلا مشورہ: تجربے سے ثابت ہے کہ اگر تحریر کا مُسَوَّدَہ تیار کرنے کے کچھ عرصے بعد اس کی پہلی پروف ریڈنگ کی جائے تو یہ زیادہ مفید ہوتی ہے کہ اس طرح رائیٹر کے ذہن میں نقش مضامین دھندلے ہوجاتے ہیں اور اس کی یاد داشت پروف ریڈنگ میں غلطی چھوڑنے کا سبب نہیں بنتی۔
دوسرا مشورہ: پہلی پروف ریڈنگ اور اَغلاط کی درستی کے بعد مناسب ہے کہ جس طبقے کے لیے مضمون یا کتاب لکھی گئی ہے اس کے کسی فرد کو یہ پڑھا دی جائے اسے جو پریشانیاں محسوس ہوں ان کا اِزالہ کردیا جائے، مثلاً بچوں کے لیے لکھی گئی تحریر ایک بار کسی بچے کو پڑھا دی جائے، خواتین کے لیے لکھی گئی تحریر کسی خاتون کو پڑھادی جائے وغیرہ۔
اِنتہائی اَہم گزارش:
ایک اچھی تحریر جتنی محنت سے معرضِ وجود میں آتی ہے اس کا اندازہ لکھنے والے کو ہی ہوسکتا ہےبلکہ یوں کہیے: ”نظم ہویا نَثْر محرر کے لیے اس کی اولاد کی طرح ہوتی ہے!“ اور یقیناً اپنی اولاد کیسی بھی ہو انسان کو اس سے مَحبت ضرور ہوتی ہے۔
آپ اپنی تحریر کو پسند کریں اس کو مناسب کہیں، بہتر کہیں، اچھا کہیں، بہت اچھا کہیں لیکن کبھی بھی اس کو”نہ بہترین کہیں نہ سمجھیں“۔ ”بہترین“ کسی بھی چیز کے لیے عمدگی کی اِنتہائی منزل کا نام ہے؛ جب آپ اَز خود اپنی تحریر کو ”بہترین“ سمجھنے لگیں گے تو آپ کی تحریر میں مزید نکھار آنا بند ہوجائے گا اور جب نکھار آنا بند ہوگا تو زوال آنا شروع ہوجائے گا! انسان اور خدا کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے ہمیں خود کو یا اپنی کسی کوشش کو ”بہترین“کہنے اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے جیسی حماقت نہیں کرنی چاہیے۔
ابھی منزلوں کے نشاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
*****
انمول موتی
* تاریخ کسی کی تصنیف ہو مدار عقیدہ نہیں ہوسکتی، مورخ رطب، یابس، مسند، مرسل، مقطوع، معضل سب کچھ بھر دیتے ہیں۔
(فتاویٰ رضویہ، 26/429)
* عوام کے سامنے ایسی شرعی رخصتیں بیان نہ کی جائیں جن کے ذریعے وہ ارتکابِ حرام یا ترک واجب کی راہ نکالیں۔
(قرطبی،پ2، البقرۃ، تحت الآیۃ: 159، الجزءالثانی ،1/ 141)
* تقریر سب سے آسان کام ہے ،اس سے مشکل تدریس اور سب سے مشکل تصنیف ۔(حافظ ملت نمبر،ص411)
* علم گھٹتا جا رہا ہے اور جہالت بڑھتی جا رہی ہے؛ ہمارے زمانے کے علما کی علمی ترقی محض علم کے گھٹنے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح،کتاب العلم، الفصل الثانی، تحت الحدیث: 247، 1/507)
مشقی و عملی سُوالات
1 پروف ریڈنگ کی اَہمیت اور اس کے مقاصد بیان کیجیے ۔
2 پروف ریڈنگ کے لیے سبق میں موجود اَہم مشورے تحریر کیجیے ۔
3 بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں گزشتہ مشق میں لکھے گئے اپنے کسی مضمون کی مرحلہ وار پروف ریڈنگ کیجیے۔
4 مضمون یا کتاب مرتب کرنے کے بعد مزید کیا کیا اِحتیاطیں کی جاسکتی ہیں سرسری طور پر بیان کیجیے۔
اہم نوٹ
1…… تجلیات رضا، ص34۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع