30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے اسے یَثْرِبْ کہنے سے منع فرمایا۔اس لئے کہ یہ زمانۂ جاہلیت کا نام ہے یا اس لئے کہ یہ ’’ ثربٌ ‘‘ سے بنا ہے جس کا معنیٰ ہلاکت اور فساد ہے اور ’’ تَثْرِ یْب ‘‘ بمعنیٰ سرزنِش اور مَلامَت ہے یا اس وجہ سے کہ ’’ یَثْرِبْ ‘‘ کسی بُت یا کسی جابِر و سَرکش بندے کا نام تھا۔ ‘‘ امام بخاری (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْبَارِی) اپنی تاریخ میں ایک حدیث لائے ہیں کہ ’’ جو کوئی ایک مرتبہ (مدینے کو) یَثْرِبْ کہہ دے تو اسے دَس مرتبہ ’’ مدینہ ‘‘ کہنا چاہیے تاکہ اس کی تلافی اور تدارک ہو جائے۔ ‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’ یَثْرِبْ کہنے والا اللہ تعالٰی سے اِستِغفار کرے اور مُعافی مانگے۔ ‘‘ اور بعض نے فرمایا ہے کہ اس نام سے پکارنے والے کو سزا دینی چاہیے۔‘‘ (مزید فرماتے ہیں:) حیرت کی بات ہے کہ بعض بڑے لوگوں کی زبان سے اَشعار میں لفظ ’’ یَثْرِبْ ‘‘ صادِر ہوا ہے۔ ([1])
بعض اکابر کے کلام میں یَثْرِب کی وجہ
سُوال :یثرب کہنے کی اتنی مُمانعت کے باوجود بعض اکابر کے کلام میں جو یَثْرِب کا ذِکر ملتا ہے ، اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب:جن اکابر کے کلام میں یہ لفظ واقع ہوا ہے ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس حکمِ شرعی پر مُطَّلِع نہ ہو سکے جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد 21 صفحہ 118 پر اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت اِرشاد فرماتے ہیں:بعض اَشعارِ اکابر میں کہ یہ لفظ واقع ہوا ، اُن کی طرف سے عُذر یہی ہے کہ اُس وقت اس حدیث و حکم پر اِطِّلاع نہ پائی تھی جو مُطَّلع ہو کر کہے اس کے لئے عُذر نہیں معہٰذا شرعِ مطہر (یعنی شریعتِ مطہرہ ) شِعر و غیرِ شِعر سب پر حُجَّت (دَلیل) ہے، شِعر شَرع (یعنی شریعت) پر حُجَّت (دَلیل) نہیں ہو سکتا۔ ([2])
سُوال :اَمردوں پر اِنفرادی کوشش کرنا کیسا ہے؟
جواب:اِنفرادی کوشش کے ذَریعے کسی کو نیک بنانا اور بدمذہبوں کی صحبت سے بچانا یقیناً اپنی اور اس کی بھلائی چاہنا ہے۔ اگر آپ کو واقعی اِنفرادی کوشش کے ذَریعے کسی کو نیک بنانے، گناہوں سے بچانے اور بُری صحبت سے چھٹکارا دِلانے کا شوق ہے تو پہلے غیر اَمردوں پر تَوَجُّہ دیں۔ جب اس میں کامیابی مل جائے تو پھر اَمردوں کے بارے میں سوچیں۔ دوسروں کو چھوڑ کر صرف اَمردوں ہی کی فِکر میں لگے رہنا اور انہی پر اِنفرادی کوشش کرتے رہنا یہ نفس و شیطان کا دھوکا ہے اس سے بچنا ضَروری ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان کے چُنگل میں پھنس کر، اَمرد پسندی کا شِکار ہو کر اَمردوں کی اِصلاح کرنے اور ان كا اِیمان بچانے کے بجائے اپنے اِیمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے اور عِبرت کے مدنی پھول چنیے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُاﷲ بن اَحمد مُؤذِّن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں طوافِ کعبہ میں مشغول تھا کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو غِلاف ِکعبہ سے لپٹ کر ایک ہی دُعا کی تکرار کر رہا تھا:”یااللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے دُنیا سے مسلمان ہی رُخصت کرنا۔“میں نے اُس سے پوچھا :اِس کے عِلاوہ کوئی اور دُعا کیوں نہیں مانگتے؟ اُس نے کہا:میرے دوبھائی تھے، بڑا بھائی چالیس سال تک مسجِدمیں بِلا مُعاوَضہ اذان دیتا رہا۔ جب اُس کی موت کا وقت آیا تو اُس نے قرآنِ پاک مانگا، ہم نے اُسے دیا تاکہ اس سے بَرَکتیں حاصِل کرے، مگر قرآن شریف ہاتھ میں لے کر وہ کہنے لگا:تم سب گواہ ہوجاؤکہ میں قرآن کے تمام اِعتقادات و اَحکامات سے بیزاری ظاہِر کرتا اورنَصرانی (عیسائی ) مذہب اِختیار کرتا ہوں۔ پھر وہ مر گیا۔ اس کے بعد دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجِد میں فِیْ سَبِیْلِ اللہ اذان دی۔ مگراُس نے بھی آخِری وَقت نَصرانی ہونے کا اِعتِراف کیا اور مر گیا۔ میں اس لیے اپنے خاتِمے کے بارے میں بے حد فِکر مندہوں اور ہر وقت خاتِمہ بِالخیر کی دُعا مانگتا رہتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اﷲ بن احمد مُؤذِّن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُس سے اِستفسار فرمایاکہ تمہارے دونوں بھائی آخر ایسا کون سا گناہ کرتے تھے ؟ اُس نے بتایا:وہ غیر عورَتوں میں دِلچسپی لیتے تھے اور اَمردوں (یعنی بے ریش لڑکوں) کو (شہوت سے) دیکھتے تھے۔([3])
اَمردوں سے میل جول بڑھانے کی اِجازت نہیں
یاد رکھیے!اِنفرادی کوشش کے بہانے اَمردوں سے میل جول بڑھانے کی بالکل اِجازت نہیں ہے۔ اَمرد صِرف بے ریش ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پورے چہرے پر داڑھی نہیں آتی بلکہ رُخسار خالی ہوتے ہیں تو وہ بھی پچیس سال یا اس سے بھی زائد عمر تک اَمرد رہتے ہیں۔اس لیے ہر ایک کو اپنی حالت پر غور کر لینا چاہیے کہ اَمرد میں کچھ کشش محسوس ہو رہی ہے یا نہیں؟ ’’ ہاں ‘‘ کی صورت میں اُسے دیکھنے اور چھونے سے بچنا واجِب ہے کیونکہ اس کی ممانعت کی عِلَّت (Reason) شہوت ہے لہٰذا جسے دیکھ کر شہوت آتی ہو اور لذّت کے ساتھ بار بار اس کی طرف نظر اُٹھتی ہو چاہے وہ بڈھا ہی کیوں نہ ہو اسے قصداً دیکھنا حرام ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْوَالِی فرماتے ہیں: اگر کسی کے دل میں حسین چہرے، منقش کپڑے اور سونے سے آراستہ چھت کو دیکھنے سے چھونے کی رغبت پیدا ہوتو اب ان چیزوں کی طرف بھی شہوت کی نظر سے دیکھنا حرام ہے۔ یہ وہ بات ہے جس سےغفلت کے باعِث لوگ ہلاکتوں میں پڑ جاتے ہیں اور انہیں معلوم بھی نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع