30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲) پانچوں نمازوں کے بعد گیارہ مرتبہ”یَانُوۡرُ“پڑھ کر دونوں ہاتھوں کے پوروں پر دَم کر کے آنکھوں پر پھیر لیجیے۔ ([1])
(۳) آیتِ مُبارَکہ (فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (۲۲)) (پ۲۶، قٓ: ۲۲) ترجمۂ کنزُ الا یمان: ”تو ہم نے تجھ پر سے پَردہ ہٹایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔“ ہر نماز
کے بعد تین مَرتبہ پڑھ کر اُنگلیوں پر دَم کر کے آنکھوں پر پھیرے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بَصَارَت میں کمی نہ ہو گی بلکہ جس قدر کمی ہو چکی ہو گی وہ بھی ٹھیک ہو جائے گی۔
(۴) اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ الرَّحۡمٰن فرماتے ہیں:آیۃُ الْکُرْسِی شریف یاد کر لیجئے، ہر نماز کے بعد ایک بار پڑھئے ، نمازِ پنجگانہ کی پابندی رکھئے اور عورتیں کہ جن دِنوں میں اُنہیں نماز کا حکم نہیں (ان دنوں میں انہیں قرآنِ پاک زبانی پڑھنا بھی جائز نہیں) وہ بھی پانچوں وقت آیۃُ الْکُرْسِی اِس نیت سے کہ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی تعریف ہے، نہ اِس نیت سے کہ کَلَامُ اللّٰہ (یعنی قرآنِ پاک) ہے پڑھ لیا کریں اور جب اس کلمہ پر پہنچیں (وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-) دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں آنکھوں پر رکھ کر اِس کلمہ کو گیارہ بار کہیں پھر دونوں ہاتھوں کی اُنگلیوں پر دَم کر کے آنکھوں پر پھیر لیں۔ (پھر فرمایا:) یہ عمل ایسے قَوِیُ التَّاثیر (یعنی زَبردست اَثر والے) ہیں کہ اگر صِدقِ اِعتقاد ( یعنی سچا یقین) ہوتو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ گئی ہوئی آنکھیں (یعنی بینائی) واپس آ جائیں۔ ([2]) یہ تو نظر کی کمزوری دُور کرنے کا رُوحانی عمل تھا اس کے علاوہ ہر نماز کے بعد ایک مَرتبہ اور آیۃُ الْکُرْسِی پڑھنے کا معمول بنا لیجیے کہ حدیثِ پاک میں اِس کی بڑی فضیلت آئی ہے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابو اُمامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے رِوایت ہے کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو ہر فرض نماز کے بعد آیۃُ الْکُرْسِی پڑھے گا، اُسے موت کے سِوا جنَّت سے کچھ مانع (یعنی رکاوٹ) نہیں۔ ([3])
اِسحدیثِ پاک کے تحت حضرتِ سیِّدُنا علّامہ عبدُالرَّءُوْف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ سعدُ الدِّین تفتازانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی نے فرمایا:”جنَّت میں داخِل ہونے کی شَرائط میں سے موت کے سِوا کچھ باقی نہ رہے گا گویا کہ موت ہی اُسے جنَّت میں داخلے سے روکے ہوئے ہے۔“ امام قسطلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی نے شرحِ بخاری میں رِوایت نقل فرمائی ہے کہ ”جو ہر نماز کے بعد آیۃُ الْکُرْسِی پڑھنے پر ہمیشگی کرے گا اُس کی روح اللّٰہ تعالٰی خود قبض فرمائے گا۔“ ([4])
سُوال :نظر کی کمزوری کے طِبِّی عِلاج بھی اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب:نظر کی کمزوری کا ایک طِبِّی عِلاج یہ ہے کہ روزانہ رات کو سونے سے قبل ”اِثۡمِد“ سُرمہ لگائیے کہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے جیسا کہ شمائلِ محمدیہ میں ہے کہطبیبوں کے طبیب ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:”اِثۡمِد سُرمہ لگایا کرو کہ یہ نظر کو تیز کرتا اور (پلک کے) بال اُگاتا ہے۔“ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک سُرمہ دانی تھی اس میں سے تین تین سلائیاں روزانہ رات کو دونوں آنکھوں میں لگایا کرتے تھے۔ ([5])
نظر کی کمزوری کا دوسرا طِبِّی عِلاج یہ ہے کہ اگر خالِص شہد میسر ہو تو سوتے وقت اس کی سَلائی آنکھوں میں لگا لیجیے کہ یہ آنکھوں کے لیے بہت مُفید اور بہترین سُرمہ ہے۔ اس کے اِستعمال سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نظر کی کمزوری کے عِلاوہ دِیگر اَمراض سے بھی نجات پائیں گے۔ ([6])
عجب نہیں کہ لکھا لوح کا نظر آئے
جو نقشِ پا کا لگاؤں غبار آنکھوں میں (سامانِ بخشش)
فنائے مسجد میں مانگنے والے کو دینا کیسا؟
سُوال :کیا فنائے مسجد میں کسی مانگنے والے کو دینا جائز ہے؟
جواب:اِس مسئلہ میں مسجد و فنائے مسجد دونوں کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ مسجد میں سُوال کی ممانعت کی وجہ وہاں شُور و غُل ہے تو فنائے مسجد میں بھی شُور و غل کی اجازت نہیں۔ مسجد یا فنائے مسجد میں اپنی ذات کے لیے سُوال کرنے کی دو صورتیں ہیں:پہلی صورت یہ ہے کہ مانگنے والا مجبور و لاچار نہیں بلکہ پیشہ ور بھکاری ہے تو اُسے سِرے سے
[1] مدنی پنج سُورہ ،ص۲۳۸مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی
[2] ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۳۷۵ ملتقطاً مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی
[3] سننِ کبریٰ للنسائی ،کتاب عمل الیوم والیلة ، باب ثواب آیة الکرسی...الخ ،۶/۳۰ ، حديث : ۹۹۲۸ دار الکتب العلمیة بیروت
[4] فیضُ القدیر، حرف المیم،۶/۲۵۶،تحت الحدیث: ۸۹۲۶ ملتقطاً دار الکتب العلمیة بیروت
[5] شمائلِ محمدیه،باب ما جاء فی کحل رسول اللّٰه صلی الله علیه وسلم،ص۵۰،حدیث: ۴۸ دار احياء التراث العربی بیروت
[6] بہت سی بیماریوں کے طِبِّی و رُوحانی علاج جاننے کے لیے شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کُتب’’مدنی پنج سورہ‘‘،’’ گھریلو علاج ‘‘اور رِسالے”وُضو اور سائنس“ کا مُطالعہ کیجیے اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ڈھیروں مفید معلومات حاصل ہوں گی۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع