30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض عامل بھینس بھی مانگتے ہیں۔ عاملوں کے مختلف اَنداز ہوتے ہیں لہٰذا ان کے چکروں میں پڑنے کے بجائے دعوتِ اسلامی کی مجلس “ تعویذاتِ عطاریہ “ کے بستے پر تشریف لائیں کہ یہ کوئی پائی پیسا نہیں لیتے فِیْ سَبِیْلِ اللہ خِدمَت کرتے ہیں۔
بچوں کی انگوٹھا چُوسنے کی عادت کیسے نکالی جائے؟
سُوال: بعض بچوں میں انگوٹھا چُوسنے کی عادت ہوتی ہے ، اگر ان کے منہ سے انگوٹھا نکالیں تو رونے لگتے ہیں ان کی یہ عادت اتنی پختہ ہوتی ہے کہ اگر نیند میں بھی انگوٹھا نکالا جائے تو رونے لگتے ہیں ، اس عادت کی وجہ سے ان کا چہرہ خراب ہو جاتا ہے اور دانت باہر آنے لگتے ہیں ، آپ یہ اِرشاد فرمائیے کہ بچوں کی یہ عادت چھڑ وانے کے لیے سختی کرنا دُرُست ہے یا نہیں؟ نیز یہ عادت چھڑ وانے کا کوئی طریقہ ہوتو وہ بھی بیان فرما دیجیے۔
(عالَمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں موجود اسلامی بھائی کا سُوال)
جواب:میڈیکل اسٹور پر اس کی دوا ملتی ہے جسے بچے کی انگلیوں پر لگایا جاتا ہے اور یہ ایسی بَدذائقہ ہوتی ہے کہ جب بچہ اپنی انگلی منہ میں لیتا ہے تو اس کا سارا منہ خراب ہو جاتا ہے پھر دوبارہ وہ ایسا نہیں کرتا۔ یہ بھی پتا چلا ہے کہ ایک بچے کی انگوٹھا چُوسنے کی عادت اتنی پختہ تھی کہ جب اس کی انگلیوں پر دوائی لگائی گئی تو اس نے وہ دوائی بھی چُوس لی۔ انگوٹھا چُوسنے کی عادت چھڑانے کے لیے بچے کی انگلیوں پر کوئی ایسی بے ضرر چیز لگا دی جائے جو اسے پسند نہ ہو جیسے اگر وہ شوربا نہیں کھاتا تو وہ لگا دیا جائے یا کوئی ایسی چِکنی چیز لگا دی جائے جسے چُوسنےمیں اس کو مزہ نہ آئے۔ اِس بات کا بھی اِمکان ہے کہ بچہ کچھ لگانے ہی نہ دے اور چیخنا چلانا شروع کر دے تو بہتر یہی ہے کہ اس کو شروع سے ہی کنڑول کیا جائے کہ جب یہ چھوٹا ہوگا تو سنبھالنا ممکن ہوگا ورنہ بڑا ہونے کے بعد قابو کرنا مشکل ہے۔
بعض بڑوں کی بھی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ منہ میں انگوٹھا ڈال کر رکھتے ہیں یا ناخن کھا رہے ہوتے ہیں ، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن سے ہی ان کی یہ عادت پڑی ہوتی ہے اور ان کے والد صاحب انہیں اس عادت سے روکنے میں ناکام رہے ہوں گے اور اب ان کو دیکھا دیکھی ان کے بچے بھی ناخن کھانے لگتے ہیں۔ یاد رَکھیے! ناخن کھانے سے بَرَص یعنی سفید داغ کا بھی اندیشہ ہے۔ ([1])
سُوال:پیارے پیر و مرشد! تفسیر صراط الجنان کی پانچویں جلد میں لکھا ہے : سب سے بڑی بَدنصیبی دِل کی غفلت ہے اور سب سے بڑی خوش نصیبی دِل کی بیداری ہے ، دِل کی غفلت اور دِل کی بیداری سے کیا مُراد ہے ؟
جواب:غفلت واقعی بہت بُری آفت ہے ، یہ گناہوں میں بھی ڈالتی ہے اور بعض اوقات بندے کو کُفر میں بھی جا دھکیلتی ہےلہٰذا غفلت اچھی چیز نہیں ہے ۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہر صورت میں غفلت سے گناہ نہیں ہوتا۔
عِدَّت کا شُمار اسلامی مہینوں سے ہوگا یا انگریزی مہینوں سے؟
سُوال:جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اُس کی عِدَّت کا حساب انگریزی مہینوں سے کیا جائے یا اسلامی مہینوں سے؟
جواب: جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اس کی عِدَّت اسلامی مہینوں کے حساب سے چار ماہ دَس دِن ہے([2]) البتہ اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عِدَّت حمل پورا ہونے تک ہے یعنی جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہوگا اس کی عِدَّت پوری ہو جائے گی اگرچہ ایک ہی دِن میں پیدا ہو جائے۔ ([3])
(امیرِ اہلِ سُنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) اگر مہینے کے دَرمیان میں اِنتقال ہوتا ہے تو 130دِن پورے کرنے ہوں گے جیسے مہینے کے دوسرے تیسرے یا پانچویں دِن انتقال ہوا تو 130 دِن پورے کرے اور اگر مہینے کی پہلی تاریخ کو اِنتقال ہوا ہے تو اب چاند کا لحاظ ہو گا لہٰذا اب چاند کے حساب سے چار مہینے گزارنا ہوں گے اور پھر اس کے بعد مزید دس دِن ۔ ([4])
***
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع