دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Naza Main Asani Ka Wazeefa | نزع میں آسانی کا وظیفہ

book_icon
نزع میں آسانی کا وظیفہ

المرتَضیٰ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ  مَا نے بہت اچھا بیان کیا۔ اِس حکایت سے یہ سیکھنے کو ملا کہ  اگر   کسی بڑے کے سامنے نیکی کی دعوت یا دَرس و بیان کرنا پڑے تو اللہ پاک کی رِضا کے لیے ہمیں ایسا کر لینا چاہیے اور اس وقت  بڑوں کو چھوٹوں پر شفقت کرنی چاہیے۔

سلسلۂ قادریہ کےپیشوا

حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتَضیٰ  رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ، جنتی صحابی اور اہلِ بیت ِ مصطفےٰ کے ایک فرد ہیں۔ نیز آپ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   قادریوں کے پیشوا بھی ہیں ، جی ہاں! قادری سِلسلہ حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتَضیٰ  رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   سے چلا ہے کہ حضور غوثِ اعظم   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   کے پیرانِ عظام کا سِلسلہ حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتَضیٰ  رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   تک پہنچتا ہے اور آپ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   کا سِلسلہ ہمارے آخری نبی   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم    تک ، ہم بھی اِسی سِلسلے سے وابستہ ہیں اور حضور غوثِ پاک   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   کی نسبت سے قادری کہلاتے ہیں۔

مولا علی   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ    کی شان بزُبانِ محبوبِ  رحمٰن

فرامینِ مصطفےٰ   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   : ! میں عِلم کا شہر ہوں اور علی اس کا دَروازہ ہیں۔ ([1]) ! بے شک اللہ پاک نے مجھے چار لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ، ان میں سے ایک علی بھی ہیں۔ ([2]) !  میں جس کا مولیٰ(یعنی مدد گار یا دوست ) ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔ ([3])

مولا علی   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   کا مختصر تعارف

اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتضیٰ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   کا مُبارَک نام علی اور لقب اَسَدُ اللہ یعنی شیر خُدا ہے۔ ([4])  حضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   کے وِصالِ باکمال کے بعد آپ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ بنے۔ سِن 40 ہجری میں 17 یا 19 رَمَضانُ المبارک کو فجر کی نماز میں ایک شخص (عبدُ الرحمٰن ابنِ مُلْجَم) نے حملہ کیا تو آپ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   سخت زخمی ہو گئے اور 21 رَمَضانُ المبارک اتوار کی رات اپنی زندگی کے 63 سال گزار کر شہید ہوئے۔ آپ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   کی نماز ِجنازہ آپ کے بڑے شہزادے حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حَسَن مجتبیٰ   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   نے پڑھائی۔ مشہور ہے کہ آپ کی قبر مُبارَک عراق شریف کے شہر نجفِ اَشرف میں ہے۔ (2)

حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کی وِلادت کب ہوئی؟

سُوال: حضور غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کی وِلادت کب اور کہاں ہوئی ؟

جواب : حضور غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کی وِلادت پہلی رَمَضانُ المبارک(470ہجری)میں  جیلان  شہر میں ہوئی۔ (3)

بچپن ہی میں عِلمِ دِین حاصل کرنے کا شوق (حکایت)

سُوال: غوث پاک   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   کا  کوئی واقعہ سنا دیجئے۔ (ایک بچی کا سُوال)

جواب:حضور غوثِ اعظم سَیِّد شیخ عبد القادر جیلانی   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   فرماتے ہیں : جب میں چھوٹا تھا تو حج کے دِنوں میں مجھے جنگل جانا پڑا وہاں میں ایک بیل کے پیچھے پیچھے چلنے لگا جیسے بچے  عام طور پر اِس طرح کرتے ہیں۔ اُس بیل نے میری طرف دیکھ کر کہا : اے عبدُ القادر! تمہیں اِس قسم کے کاموں کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ میں گھبرا کر گھر واپس آگیا اور امی جان سے عرض کی : امی جان! آپ مجھے مکمل طور پر راہِ خُدا میں بغداد جانے دیں تاکہ میں وہاں جا کر عِلمِ دِین حاصِل کروں اور نیک بندوں کو دیکھ سکوں۔ امی جان نے مجھ سے اِس کی وجہ پوچھی تو میں نے بیل والا واقعہ سُنا دیا۔ یہ سُن کر امی جان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور میرے اَبُو جان کے مال سے جو میرا حِصّہ تھا وہ میرے پاس لے آئیں یعنی 80 سونے کے سکّے ، میں نے ان میں سے 40 سونے کے سکے لے لیے اور باقی 40 اپنے بھائی کے لیے چھوڑ دیئے۔ امی جان نے اِس رقم کو میری قمیص میں سِی دیا اور بغداد جانے کی اِجازت دیتے ہوئے مجھے ہر حال میں سچ بولنے کی نصیحت فرمائی اور فرمایا : بیٹا میں تجھے اللہ پاک کی رِضا کے لیے خود سے دُور کر رہی ہوں اور اب مجھے تمہارا چہرہ قیامت کے دِن ہی دیکھنا نصیب ہو گا۔ ([5])

اِس حکایت سے پتا چلا کہ ہمارے غوث ِپاک   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   کو  بچپن ہی میں عِلمِ دِین حاصِل کرنے کا شوق ہو گیا تھا ، اِسی وجہ سے عِلمِ دِین حاصِل کرنے کے لیے اپنی امی جان سے اِجازت لی اور امی جان نے بھی زندگی بھر کے لیے راہِ خُدا میں سفر کرنے کی  اِجازت دے دی۔ یہ ایک ایسا سچا واقعہ ہے جس میں ہر ماں اور ہر بچے کے لیے بہترین دَرس ہے۔ ہمیں بھی علمِ دِین حاصِل کرنا چاہیے۔

 



[1]    معجم کبیر ، مجاھد عن ابن عباس ، ۱۱ / ۵۵ ، حدیث : ۱۱۰۶۱۔

[2]    ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب علی بن ابی طالب ، ۵ / ۴۰۰ ، حدیث : ۳۷۳۹۔

[3]    ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب علی بن ابی طالب ، ۵ / ۳۹۸ ، حدیث : ۳۷۳۳۔

[4]    مراٰۃ المناجیح ، ۸ / ۴۱۲۔ 2    مراٰۃ المناجیح ، ۱ / ۹۶ ۔ 3    بھجة الاسرار ، ذکر نسبه و صفته   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   ، ص۱۷۲۔

[5]    بھجة الاسرار ، ذکر طریقه   رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ   ، ص۱۶۷-۱۶۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن