30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گے ۔ اگر سَماجی راہ نما طلاق کے بارے میں بولے کہ آج کل طلاقیں زیادہ ہو رہی ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے تو اب اگر ان کے خاندان میں کوئی طلاق ہو جائے تو ان کو بُرا بھلا بولنا ٹھیک نہیں ہے کہ بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ گھر بنتا ہی نہیں ہے اور طلاق دینا ضَروری ہو جاتا ہے اِس لیے ان کے یہاں بھی طلاق ہو جاتی ہو گی ۔
پُرانی قبر صاف کر کے اس میں کسی اور کو دَفن کرنا کیسا؟
سُوال:کیا پُرانی قبر صاف کر کے اس میں دوسرا جنازہ رکھ سکتے ہیں؟
جواب:دسمبر 2019 کے ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے صفحہ نمبر 14پر ہے : کیا فرماتے ہیں عُلَمائے کِرام اِس مسئلہ کے بار ے میں کہ کسی شخص کا اپنے والد یا دادا کی قبر کھود کر اس میں کسی اور مُردے کو دفن کروانا یا اپنے جسم کو وہاں دفن کرنے کا کہنا کیسا ہے ؟شریعت کی روشنی میں اِس کا جواب عنایت فرمائیں؟جواب : مسلمان مَیِّت کی قبر کو بِلا ضَرورت کھودنا یا اس کی جگہ دوسری مَیِّت دفن کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے لہٰذاوالد ، دادا یا ان کے علاوہ کسی اور کی قبر خواہ کتنی پُرانی ہو جائے اسے کھود کر اس کی جگہ کسی دوسرے مُردے کو دفن کرنے کی شرعا ًاِجازت نہیں ہے۔ ([1]) اَحادیثِ مُبارَکہ میں مسلمان کی قبر پر بیٹھنے ، اس پر چلنے ، اسے پاؤں سے روندنے اور اس سے تکیہ یعنی ٹیک لگانے کی بھی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے([2]) جبکہ اسے برابر کر کے کھود ڈالنا تو اور زیادہ سخت اور قبیح یعنی بُرا ہے ، مسلمانوں کی قبروں کی توہین اور بے اَدبی باعثِ گناہ و عذاب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ پاک کے رازوں کی توہین بھی ہے۔
سُوال:کیا رَملہ نام رکھ سکتے ہیں؟
جواب:رَملہ نام رکھ سکتے ہیں کہ کئی صحابیات رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنَّ کا نام رَملہ ہے مگر بَرکت تب ہی ملے گی کہ جب اس نیت سے نام رکھیں گے کہ اس میں صحابیات رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنَّ سے نسبت ہے ۔ بہرحال اپنے بچوں کےنام اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم اور بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْھِمْ کے نام پر رکھیں اور بچیوں کے نام صالحات ، وَلیات اور نیک بیبیوں کے نام پر رکھیں کہ اس سے بَرکت ہوتی ہے ۔
اچھا گمان نہ بن پائے تو کیا کریں؟
سُوال: بعض اوقات آپس میں ایسی بات ہو جاتی ہے کہ اچھا گمان بن ہی نہیں پاتا تو اب کیا کریں؟
جواب:زبردستی اچھا گمان بنائیں اور جو بَدگمانی پیدا ہو رہی ہو اسے زبان پر نہ لائیں ورنہ پھنسیں گے ۔
کیا مسجد کے چندے میں حِصّہ ملانا اچھی بات ہے؟
سُوال: جب مسجد میں چندہ جمع ہو رہا ہوتا ہے تو میں اللہ پاک کے خوف سے اس میں کچھ نہ کچھ پیسے ڈال دیتا ہوں اور پھر جب مسجد سے باہر نکلتا ہوں تو دکانوں پر رکھے ہوئے عطیات کے گلوں میں بھی کچھ پیسے ڈال دیتا ہوں تو کیا یہ اچھی بات ہے؟
جواب:یہ بہت اچھی بات ہے اور اسے آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ میںاللہ پاک کو راضی کر نے کے لیے ڈالتا ہوں۔
مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی شفقت(حکایت)
سُوال:حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتَضیٰ ، شیرِخُدا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی اپنی اَولاد پر شفقت اور آپ کی فضیلت سے متعلق کچھ اِرشاد فرما دیجیے۔([3])
جواب:ایک دِن اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتَضیٰ ، شیر خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے پیارے بیٹے حضرتِ سَیِّدُنا امام حَسَن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے اِرشاد فرمایا : اے بیٹے! کیا تم میرے سامنے بیان نہیں کر سکتے جسے میں سُنوں؟ انہوں نے عرض کی : مجھے اِس بات سے شرم آتی ہے کہ میں آپ کو دیکھتے ہوئے بیان کروں۔ جب حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتَضٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے یہ سُنا تو صاحب زادے کی ہمت بڑھانے کے لیے ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے جہاں سے وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو نہ دیکھ سکیں ، پھر حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حَسَن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لوگوں میں بیان کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور دَورانِ بیان حضرتِ سَیِّدُنا علِیُّ المرتَضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ آپ کو نظر نہیں آرہے تھے مگر وہ بیان کی آواز سُن رہے تھے۔ ([4]) حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حَسَن مجتبیٰ بن علِیُّ
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۳۸۵-۳۸۶ ملخصاً۔
[2] قبر پر بیٹھنا ، سونا ، چلنا اور پیشاب پاخانہ کرنا حرام ہے قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہے اس سے گزرنا ناجائز ہے خواہ نیا ہونا اسے معلوم ہو یا اس کا گمان ہو۔ (فتاویٰ ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، الفصل السادس فی القبر و الدفن...الخ ، ۱ / ۱۶۶۔ درمختار مع رد المحتار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، مطلب فی اھداء ثواب القراة للنبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ، ۳ / ۱۸۳)قبر کی بے حرمتی سے متعلق دو عبرتناک فَرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (۱) مجھے آگ کی چِنگاری پر یا تلوار پر چلنا یا میرا پاؤں جُوتے میں سِی دیا جانا زیادہ پسند ہے اِس سے کہ میں کسی مسلمان کی قبرپر چلوں۔ (ابن ماجه ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی النھی عن المشی...الخ ، ۲ / ۲۴۹ ، حدیث : ۱۵۶۷ ) (۲) ایک آدمی کو آگ کی چنِگاری پر بیٹھا رہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے کو جَلا کر اس کی کھال تک پہنچ جائے ، اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ قبرپر بیٹھے۔
( مسلم ، کتاب الجنائز ، باب النھی عن الجلوس علی القبر و الصلا ة عليه ، ص۳۷۵ ، حديث : ۲۲۴۸)
[3] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلِ سنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[4] طبقات ابن سعد ، الحسن بن علی ، ذکر ما علم النبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الحسن رحمہ اللہ من الدعاء ، ۶ / ۳۶۷ ، رقم : ۱۳۷۳۔ تفسیر در منثور ، پ ۳ ، آل عمران ، تحت الآیة : ۳۴ ، ۲ / ۱۸۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع