30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(پارہ:8، الانعام:145)
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ-فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۱۵)
( ترجمہ کنز الایمان )تم پر تو یہی حرام کیا ہے مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا پھر جو لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
(پارہ:14، النحل:115)
اوپر بیان کی گئی قرآن پاک کی آیات ایک مسلمان کے لیے یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ سور کا گوشت کیوں حرام ہے۔
سور کا گوشت کھانے سے کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں
دیگر غیر مسلم اور ملحد افراد صرف اس وقت متفق ہوں گے جب انہیں عقلی، منطقی اور سائنسی دلائل سے قائل کیا جائے۔ سور کا گوشت کھانا کم از کم ستر مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ انسان کو مختلف اقسام کے کیڑوں جیسے راؤنڈ ورم، پن ورم، ہُک ورم وغیرہ لگ سکتے ہیں۔ ان میں سے سب سے خطرناک Taenia solium ہے، جسے عام زبان میں ٹیپ ورم کہا جاتا ہے۔ یہ آنتوں میں موجود ہوتا ہے اور بہت لمبا ہوتا ہے۔ اس کے انڈے خون میں داخل ہو کر جسم کے تقریباً تمام أعضاء تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر یہ دماغ میں داخل ہو جائے تو یادداشت ختم ہو سکتی ہے، دل میں داخل ہو جائے تو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، آنکھ میں داخل ہو جائے تو اندھا پن پیدا ہو سکتا ہے، اور جگر میں داخل ہو جائے تو جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ جسم کے تقریباً تمام أعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایک اور خطرناک کیڑا Trichuris trichiura ہے۔ سور کے گوشت کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اگر اسے اچھی طرح پکایا جائے تو اس میں موجود انڈے (اووا) مر جاتے ہیں۔ امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ Trichuris trichiura سے متاثر 24 افراد میں سے 22 نے سور کے گوشت کو بہت اچھی طرح پکایا تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سور کے گوشت میں موجود انڈے پکانے کے عام درجہ حرارت پر نہیں مرتے۔
(2)سور زمین پر سب سے گندے جانوروں میں سے ایک ہے
سور زمین پر سب سے گندے جانوروں میں سے ایک ہے۔ یہ گندگی، فضلہ اور غلاظت پر زندہ رہتا اور نشوونما پاتا ہے۔ دیہات میں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع