30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے ابن آدم !اپنے عمل میں اِخلاص پیدا کرکے مجھ سے سوال کرمیں تجھے مانگنے والوں کی طلب سے کہیں زیادہ عطاکروں گا۔‘‘
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
نصیحت نمبر8 : تکلیف اٹھائے بغیرمقام نہیں ملتا
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’اے ابن آدم!میں نے تمہیں یونہی بے کار پیدا نہیں کیا، نہ ہی ناقابل التفات پیدا کیا ، اورنہ ہی میں تم سے غافل ہوں بلکہ میں تم سے باخبر ہوں۔تم میری رِضامیں تکلیف ومشقت گواراکئے بغیرہرگزمیری بارگاہ میں کوئی مقام ومرتبہ حاصل نہیں کرسکتے ۔تمہارے لئے میری اطاعت پر صبر کرنامیری نافرمانی پر جرأت کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے ۔مجھ سے معذرت کرنے کی بنسبت گناہ کو ترک کردیناتمہارے لئے نارِدوزخ سے ، زیادہ آسان ہے ۔دُنیا کاعذاب، آخرت کے عذاب سے تمہارے لئے کہیں زیادہ آسان ہے ۔
اے ابن آدم!تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں نے ہدایت دی۔تم سب بھٹکے ہوئے ہو سوائے اس کے جسے میں نے محفوظ کرلیا۔ تم میری بارگاہ میں تو بہ کرومیں تم پررحم کروں گا۔ہرمخفی شئے کوجاننے والے (یعنی ربّ تعالیٰ)کے سامنے پوشیدہ گناہوں پر ڈٹے نہ رہو۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
نصیحت نمبر9 : مخلوق پرلعنت نہ کرو
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’اے ابن آدم!مخلوق پر لعنت نہ کرو کہ لعنت تمہاری طرف ہی لوٹا دی جاتی ہے ۔
اے ابن آدم!(ساتوں )آسمان ہَوا میں ، میرے ناموں میں سے صرف ایک نام کی برکت سے بغیرستون کے قائم ہیں جبکہ تمہارے دِل میری کتاب کی ہزار نصیحتوں سے بھی سیدھے نہیں ہوتے ۔
اے لوگو!جیسے پتھرپانی میں نرم نہیں ہوسکتاایسے ہی سخت دل میں نصیحت کچھ اثر نہیں کرسکتی۔
اے ابن آدم!تم کیسے گواہی دیتے ہوکہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے ہو ؟ پھر (گواہی دینے کے بعد)اسی کی نافرمانی کرتے ہو۔تم کیسے گمان کرتے ہوکہ موت برحق ہے ؟ حالانکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔تم اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ہوتااور تم اسے معمولی خیال کرتے ہوحالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک وہ بہت بڑی ہوتی ہے ۔‘‘
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
نصیحت نمبر10 : ایمان والوں کے اعمال
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشادفرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬- (پ۱۱، یونس : ۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان : اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت۔
(اے ابن آدم!)تم صرف اس پر ہی احسان کرتے ہو، جو تمہارے ساتھ احسان کرتا ہے ، صرف اسی کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو جو تمہارے ساتھ صلہ رحمی کرتاہے ، صرف اسی سے گفتگو کرتے ہو جو تمہارے ساتھ گفتگو کرتا ہے ، صرف اسی کو کھانا کھلاتے ہو جو تمہیں کھلاتاہے ، صر ف اسی کی عزت کرتے ہو جو تمہاری عزت کرتا ہے حالانکہ کسی کو کسی پرکچھ فضیلت حاصل نہیں ہے (سوائے تقویٰ کے )۔ ایمان والے تووہی ہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے رسول(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)پرایمان رکھتے ، برائی کرنے والوں
کے ساتھ بھلائی کرتے ، قَطع تَعلُّقیکرنے والوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ، محروم کرنے والوں کو معاف کرتے ، خیانت کرنے والوں کو امان دیتے ، ترکِ تعلق کرنے والوں سے تعلق جوڑتے اوربے عزتی کرنے والوں کی عزت کرتے ہیں۔اور بے شک میں تمہارے ہر عمل سے باخبرہوں۔‘‘
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
نصیحت نمبر11 : طالبِ دُنیاکی حیثیت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع