30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…جب بیمار ہوجائے تو صدقہ و خیرات سے اپنا علاج کرنا۔
٭…اور جب تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْن ‘‘پڑھ لینا۔‘‘
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’اے ابن آدم!نیکی کر کیونکہ یہ جنت کی چابی ہے اور اُسی کی طرف رہنمائی کرے گی۔ برائی سے اجتناب کر کیونکہ یہ جہنم کی چابی ہے اور اُسی کی طرف لے جائے گی۔
اے ابن آدم!یہ بات اچھی طرح جان لے !کہ خرابی پرتجھے تنبیہ(کی جاتی) ہے ۔ بے شک تیری عمر خراب ہونے کے لئے ، جسم مٹی کے لئے ، اور جو کچھ تونے جمع کیا ہے وہ وُرَثا کے لئے اورعیش و آرام دوسروں کے لئے ہے جب کہ حساب و کتاب تجھ پر لازم اور سزا و ندامت تیرے لئے ہے ۔اورقبرمیں تیرا رفیق صرف تیراعمل ہی ہے لہٰذا تُو خود اپنا محاسبہ کرقبل اس کے کہ تیرا محاسبہ کیاجائے ۔میری اطاعت کو لازم کر لے ، میری نافرمانی سے رُک جااور میری عطاپرراضی ہو کر شکر گزاروں میں سے ہوجا۔
اے ابن آدم!جس نے ہنس ہنس کر گناہ کئے میں اسے رُلارُلاکرجہنم میں ڈالوں گااورجومیرے خوف سے روتارہامیں اسے خوش کرکے جنت میں داخل کروں گا ۔
اے ابن آدم!کتنے غنی ایسے ہیں جو روزِ حساب محتاجی و مفلسی کی تمناکریں گے ؟
٭… کتنے بے رحم ایسے ہیں جنہیں موت ذلیل ورسواکردے گی؟
٭…کتنی شیریں چیزیں ایسی ہیں جنہیں موت تلخ کردے گی؟
٭…نعمتوں پرکتنی خوشیاں ایسی ہیں کہ جنہیں موت گدلا کر دے گی؟
٭…کتنی خوشیاں ایسی ہیں جو اپنے بعد طویل غم لائیں گی؟
اے ابن آدم!موت(کی سختیوں )کے متعلق جو کچھ تم جانتے ہواگرچوپائے جان لیں توکھانا پینا چھوڑ دیں حتیٰ کہ بھوکے پیاسے مرجائیں۔
اے ابن آدم!اگر موت اوراس کی شدت کے علاوہ کوئی اورسختی تم پرمقررنہ کی جاتی توبھی دن اور رات کے سکون کو ترک کردیناتجھ پرلازم ہے ۔اورایسا کیونکرنہ ہو جب کہ اس کے بعد کا معاملہ اس سے بھی سخت ترہے ۔
اے ابن آدم!آخرت میں ملنے والی نعمتوں (کے حصول)کی خاطرموت کی حقیقت کوپیش نظر رکھ اورجونیکی نہ کرسکے اس پرتجھے افسردہ ہوناچاہئے ۔دُنیاکی جو نعمتیں تجھے ملیں ان پرخوش مت ہونااور جونہ ملیں ان پرافسوس مت کرنا۔
اے ابن آدم!میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، اسی کی طرف لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ اٹھاؤں گا، لہٰذادُنیاکوالوداع کہہ دے اور موت کی تیاری میں لگ جا۔اور اچھی طرح جان لے !کہ جب میں کسی بندے سے محبت کرتا ہوں تودُنیا کو اس سے دور اور اسے آخرت کے کاموں میں مصروف کرکے دُنیاکے عیوب اس پر آشکارکردیتا ہوں تووہ ان سے بچ کرجنَّتیوں والے کام کرنے لگتاہے پھر(آخرت میں ) مَیں اسے محض اپنی رحمت سے داخلِ جنت کروں گا۔اورجب میں کسی بندے کو ناپسند کرتا ہوں تو دُنیا کے ذریعے اسے ، اپنی ذات سے غافل کرکے دُنیاکے کاموں میں مشغول کر دیتا ہوں تووہ دوزخیوں والے کاموں میں لگ جاتاہے پھر(آخرت میں )مَیں اسے جہنم میں داخل کروں گا۔(اَلْعِیَاذُ بِاللہ عَزَّوَجَلَّ)
اے ابن آدم!ہرعمر فانی ہے اگر چہ طویل ہو، اوردُنیاتوسایہ دارچیز کے سائے کی مانند ہے جوتھوڑی دیرٹھہرکرچلاجاتااورپھرتیرے پاس دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا۔
اے ابن آدم!میں نے ہی تجھے پیدا کیا، میں ہی تجھے رزق دیتاہوں ، میں نے ہی تجھے زندگی عطاکی، میں ہی تجھے موت دوں گا، میں ہی تجھے دوبارہ اٹھاؤں گااور میں ہی تیرا محاسبہ کروں گاپس اگر تُو نے کوئی برائی کی تواسے دیکھے گاباوجودیہ کہ تُواپنی جان کے نفع و نقصان ، موت و حیات اورمرنے کے بعداٹھنے کا مالک بھی نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع