30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصیبت تیری اس(یعنی گناہوں کی) مصیبت سے بڑی نہیں ہے ، لہٰذااپنے گناہوں کایقین کراور نیکیوں کے متعلق خطرہ میں رہ۔
اے ابن آدم!میں تیری طرف عافیت کی نگاہ فرماتااورتیرے گناہوں کوچھپاتا ہوں حالانکہ میں تجھ سے مستغنی ہوں جب کہ تومیرا محتاج ہونے کے باوجود میری نافرمانیوں میں مبتلا ہے ۔
اے ابن آدم!توکب تک فانی دُنیاکوآباداورباقی رہنے والی آخرت کوبرباد کرنے کی کوشش میں لگا رہے گا؟
اے ابن آدم!میری مخلوق کو دھوکابھی دیتا ہے اوران کی ناراضی سے ڈرتا بھی ہے ۔
اے ابن آدم!اگرتمام آسمانوں اورزمین والے تیرے لئے مغفرت کی دُعا کریں توپھربھی تجھے اپنے گناہوں پرروناچاہئے کیونکہ تجھے نہیں معلوم کہ توکس حال میں مجھ سے ملے گا۔
اے موسیٰ بن عمران(عَلَیْہِ السَّلَام)!میں جوکہہ رہا ہوں اسے توجہ سے سنواور میں حق ہی کہتاہوں : میرے بندوں میں سے کوئی بندہ بھی اس وقت تک(کامل) ایمان والا نہیں ہو سکتاجب تک لوگ اس کے شر، ظلم، دھوکے ، چغلی، سرکشی اورحسد سے بے خوف نہ ہوجائیں۔
اے موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام)!(لوگوں سے )کہہ دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جوچاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفرکرے ۔‘‘
(جیساکہ قرآنِ پاک میں ارشادباری تعالیٰ ہے : )
وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ- (پ۱۵، الکہف : ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے توجوچاہے ایمان لائے اورجوچاہے کفرکر ے ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
نصیحت نمبر35 : مساکین پرخرچ نہ کرنے کاسبب
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’اے ابن آدم!بے شک تو دو نعمتوں کے درمیان صبح کرتا ہے اورتونہیں جانتا کہ دونوں میں سے کون سی بڑی ہے ۔لوگوں سے تیرے گناہوں کا پوشیدہ ہونا یا پھر لوگوں کا تیری تعریف وتوصیف کرنااوراگرلوگ تیرے اُن اعمال سے واقف ہوجائیں جنہیں میں جانتا ہوں تووہ تجھے سلام تک بھی نہ کریں۔ اور اس سے بڑھ کرنعمت یہ ہے کہ تُو عافیت میں ہے ، تُو لوگوں سے مستغنی ہے جبکہ وہ تیرے محتاج ہیں اور تجھ سے لوگوں کی اذیت روک دی گئی ہے ۔ لہٰذامیرا شکر کر اور میری نعمتوں کی قدر پہچان، اپنے عمل کوریاسے پاک کرلے ، خوف زدہ مسافرکے زادِ راہ کی مثل زادِ راہ لے لے اور اپنی نیکی کومیرے عرش کے نیچے رکھ دے ۔
اے ابن آدم!تمہارے سخت دل، تمہارے اعمال پراورتمہارے اعمال، تمہارے جسموں پراورتمہارے جسم، تمہاری زبانوں پراورتمہاری زبانیں ، تمہاری آنکھوں پر روتی ہیں۔
اے ابن آدم!میرے خزانے کبھی ختم نہیں ہوں گے ، تیرے خرچ کرنے کی مقدار کے برابرمیں تجھے عطافرماتاہوں اورجس قدرتُو(میری راہ میں )خرچ کرنے سے روکتاہے اتنی مقدار میں تجھ سے روک لیتاہوں۔اورمیرے عطاکردہ رزق میں سے تیرا مسکینوں پرخرچ نہ کرنا تیرے بُرے گمان، محتاجی کے خوف اورمجھ پر یقین نہ ہونے کا نتیجہ ہے ۔کیونکہ میں نے تیری خلقت کورزق کے اہتمام کے ساتھ لازم کردیا ہے ، لہٰذا اگر تو رزق کااہتمام کرتا ہے حالانکہ وہ میراہی عطاکردہ ہے تو(اسے میری راہ میں )خرچ کر اورمیرے دیئے ہوئے رزق میں سے میرے بندوں پرخرچ کرنے کے معاملے میں بخل نہ کر کیونکہ میں تجھے اس کاعوض عطا کرنے کاضامن ہوں اوراس کے عوض میں ، مَیں نے تجھے اجرو ثواب عطا کرنے کاوعدہ کیاہے توتُوکیوں میرے لکھے ہوئے میں شک کرتا ہے ؟پس جس نے نہ تو میرے وعدے پریقین کیااور نہ ہی میرے انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام)کی تصدیق کی بے شک اس نے میری رَبُوبِیَّت کا اِنکارکیااور جس نے میری رَبُوبِیَّت کا اِنکار کیامیں اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالوں گا۔‘‘
نصیحت نمبر36 : دُ شمنِ اَولیا سے اعلان جنگ
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’اے ابن آدم!میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہٰذامیری عبادت کرو، میرا شکر اداکرواورناشکری نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع