30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصیحت نمبر33 : پڑوسی کے حق کی رعایت کر
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’جس نے عمل کے ذریعے شہرت کی خواہش کی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنی پیٹھ پر پانی لاد کر پہاڑ کی طرف منتقل کرتا ہے کہ اسے تھکاوٹ و مشقت آن لیتی ہے ۔اور اس کے عمل سے کچھ بھی قبول نہیں کیا جاتا جس طرح پہاڑ پر جتنا بھی پانی ڈالاجائے وہ نرم نہیں ہوتا۔
اے ابن آدم!اچھی طرح جان لے ! میں صرف اسی عمل کوقبول کرتاہوں جو خالصتاًمیری رضاکی خاطرکیاگیاہو، پس مخلصین کے لئے خوشخبری ہے ۔
اے ابن آدم!جب تومحتاجی کو(اپنی طرف)آتا دیکھے توکہنا : صالحین کے شعار کو مرحبا۔جب مال ودولت کو آتادیکھے توکہنا : گناہوں کی سزاجلددے دی گئی۔جب تیرے پاس مہمان نہ آئے توکہنا : اَعُوْذُبِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔
اے ابن آدم!مال میراہے جب کہ تومیرابندہ اور مہمان میراقاصد ہے ۔ کیا تجھے اس بات کاخوف نہیں کہ کہیں میں تجھ سے اپنی نعمت چھین نہ لوں ؟رزق کا مالک تو میں ہوں لیکن شکر تیرے ذمہ ہے اوراس کافائدہ تجھے ہی ہوگاتوجونعمتیں میں نے تجھے دیں ان پرمیرا شکراداکیوں نہیں کرتا؟
اے ابن آدم!تجھ پرتین چیزیں واجب ہیں : (۱)مال کی زکوٰۃ (۲)صلہ رحمی اور (۳)اپنے اہل وعیال اور مہمانوں کونیکی کی دعوت دینا۔ لہٰذا جو چیزیں میں نے تجھ پر واجب کی ہیں اگرتونے ان میں کوتاہی کی تومیں تجھے تمام جہانوں کے لوگوں کے لئے عبرت بنا دوں گا۔
اے ابن آدم!اگرتونے اپنے پڑوسی کے حق کی رعایت ایسے نہ کی جیسے اپنے اہل وعیال کے حق کی رعایت کرتاہے تومیں نہ توتیری طرف نظرِ رحمت کروں گا، نہ تیرا کوئی عمل قبول کروں گااورنہ ہی تیری کوئی دُعا پوری کروں گا۔
اے ابن آدم!اپنی مثل( محتاج)مخلوق پر توکل نہ کر، ورنہ میں تجھے انہیں کے سپرد کردوں گااور میری مخلوق کے سامنے تکبر نہ کرکیونکہ تیری ابتدااس نطفے (یعنی ناپاک پانی)سے ہوئی ہے جسے میں نے پیشاب کے نکلنے کی جگہ سے نکالا ہے ۔
(چنانچہ، قرآنِ پاک میں ارشادہوتاہے : )
خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ(۶)یَّخْرُ جُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىٕبِؕ(۷) (پ۳۰، الطارق : ۶۔۷)
ترجمۂ کنزالایمان : جست کرتے پانی سے جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے بیچ سے ۔
(اے ابن آدم!)میری حرام کردہ چیزوں کی طرف مت دیکھ کیونکہ(قبر میں ) کیڑے سب سے پہلے تیری آنکھ کھائیں گے ۔یادرکھ ! حرام پر نظراوراس کی محبت پرتیر ا محاسبہ کیا جائے گا۔اورکل بروزِ قیامت میرے حضور کھڑے ہونے کو یاد رکھ کیونکہ میں لمحہ بھر کے لئے بھی تیرے رازوں سے غافل نہیں ہوتا، بے شک میں دلوں کی بات جانتا ہوں ۔‘‘
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
نصیحت نمبر34 : اگرتیرے گناہ ظاہرہوگئے تو
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے : ’’اے ابن آدم!میری عبادت کرکیونکہ جو میری عبادت کرتاہے میں اس سے محبت کرتا ہوں اوراپنے بندوں کوا س کا مطیع بنادیتا ہوں۔ کیونکہ تو نہیں جانتا کہ گزشتہ زندگی میں تونے میری کتنی نافرمانی کی ا ور بقیہ زندگی میں کتنی نافرمانی کرے گا، لہٰذامیرے ذکرسے غافل نہ ہوکیونکہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میری عبادت کرکیونکہ توبندۂ عاجز اور میں رب جلیل ہوں۔ اگر بنی آدم سے تیرے دوست اور اہل محبت تیرے گناہوں کی بوپالیں اور تیرے اُن کارناموں پر مطلع ہو جائیں جنہیں میں جانتا ہوں تو تیرے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیں اور یہ ہو بھی سکتاہے کیونکہ تیرے گناہوں کی بوروزبروزبڑھتی جارہی ہے ، جب کہ تیری پیدائش کے دن سے ہر روز تیری عمر گھٹتی جارہی ہے ۔
اے ابن آدم!جس شخص کی کشتی ٹوٹ جائے اور وہ لکڑی کے تختے پرسوارہو کر لوٹے اور اسے سمندر میں موجیں گھیرلیں ، تواس کی یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع