30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…میری عبادت پرکمربستہ ہوجامیراوصال(یعنی قرب)نصیب ہو جائے گا۔
٭…اپنے عمل کو ریاسے پاک کرتجھے اپنی محبت کالباس پہناؤں گا۔
٭… میرے ذکر میں منہمک ہوجا اپنے ملائکہ کے سامنے تیرا ذکر کروں گا ۔
اے ابن آدم!تیرے دِل میں غیراللہ، تیری امیدگاہ غیراللہ ہے ، توکب تک کہتا رہے گاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بلندوبرترہے ۔حالانکہ تجھے خوف تو غیراللہ کا ہے ؟ اگر توحق کوپہچان لیتا توغیراللہ تجھے تشویش میں مبتلانہ کرتا۔ تُو صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہی ڈرتااور اس کے ذِکر سے اپنی زبان کونہ روکتا۔کیونکہ محض ظاہری طورپر گناہوں پراصرار سے رُک جاناجھوٹوں کی توبہ ہے ۔
اے ابن آدم!اگرتوجہنم سے ایسے ڈرتاجیسے محتاجی سے ڈرتاہے تومیں تجھے وہاں سے مال عطافرماتاجہاں تیراگمان بھی نہیں۔
اے ابن آدم!اگرتوجنت کی رغبت ایسے رکھتاجیسے دُنیاکی رغبت تھی تومیں تجھے دونوں جہاں میں سعادت مند بنادیتا۔
٭…اگرتم میرا ذکرایسے کرتے جیسے ایک دوسرے کا کرتے ہو تو فرشتے صبح و شام تم پرسلامتی بھیجتے ۔
٭…اگر تم میرے بندوں سے ایسی محبت کرتے جیسی دُنیا سے کرتے ہوتومیں تمہیں مرسلین(عَلَیْہِمُ السَّلَام) کا ساانعام و اکرام عطا فرماتا۔
لہٰذا اپنے دلوں کودُنیاکی محبت سے مت بھروکیونکہ یہ عنقریب زوال پذیرہو جائے گی۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’(اے ابن آدم!)تیرا تھوڑی سی مصیبت کو برداشت کرناجہنم کاعذاب برداشت کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے ۔
(عذابِ جہنم کے بارے میں ارشادہوتاہے : )
اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ(۶۵) (پ۱۹، الفرقان : ۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اس کا عذاب گلے کا غل(پھندا) ہے ۔
(اے ابن آدم!)تھوڑی سی عبادت پرہمیشگی اپنے پیچھے ایسی طویل خوشی لائے گی جس میں دائمی سکون ونعمتیں ہوں گی۔
اے ابن آدم!اس سے پہلے کہ میں تیرارزق کسی اورکوکھلادوں ، تجھ پرلازم ہے کہ اس بات کا یقین رکھ جس کا میں ضامن ہوں۔دُنیاکوچھوڑ دے ، قبل اس کے کہ میں تجھے چھوڑدوں۔شبہات سے چھٹکارا پالے ، اس سے پہلے کہ قیامت کے دن تیری نیکیاں ختم ہوجائیں۔ذکر ِ آخرت سے اپنے دِل کو آباد رکھ کیونکہ قبرکے علاوہ تیرا کوئی اور ٹھکانہ نہیں۔
اے ابن آدم!جو جنت کا مشتاق ہوا اس نے صدقات وخیرات میں جلدی کی۔
جو جہنم سے ڈر گیا وہ شّر سے باز آگیااورجس نے اپنے نفس کو شہوات سے روک لیا اس نے درجات عالیہ کوپالیا۔
اے موسیٰ بن عمران([1]) (عَلَیْہِ السَّلَام)!اگربے وضوہونے کی حالت میں تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تواپنے آپ کو ہی ملامت کرنا۔
اے موسیٰ بن عمران(عَلَیْہِ السَّلَام)!نیکیوں میں مفلسی(یعنی نیکیاں نہ ہونا)سب سے بڑی موت ہے ۔
اے موسیٰ بن عمران(عَلَیْہِ السَّلَام)!جس نے مشورہ نہ کیاوہ نادم ہوااورجس نے استخارہ (یعنی مشورہ)کیاوہ شرمندہ نہ ہوا۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
[1] مفسرقرآن، صدرالافاضل حضرت علامہ مولیٰنا مفتی سید محمد نعیم الدین مرآد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ’’عمران دو ہیں ایک عمران بن یَصْہُر بن فاہث بن لاوٰی بن یعقوب یہ تو حضرت موسیٰ و ہارون (عَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کے والدہیں دوسرے عمران بن ماثان یہ حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی والدہ کے والد ہیں دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو برس کا فرق ہے ۔‘‘(تفسیرخزائن العرفان، پ۳، اٰلِ عمران، تحت الایہ : ۳۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع