30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اسلامی اور امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کو دعائیں دیتے ہیں کہ جن کی بدولت ہمارا بچہ نیکی کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ اب تو دل میں صرف ایک ہی بات نقش ہے کہ’’ مرشد کے فرما ن پر جان بھی قربا ن ہے۔ ‘‘
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
خوشاب (پنجاب پاکستان) کے علاقے جوہر آباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ زندگی بے مقصد ہی گزر رہی تھی۔ ایامِ حیات کے قیمتی لمحات سے سرمایۂ آخرت جمع کرنے کی بجائے گناہوں سے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کر رہا تھا۔ گناہوں سے پُرخار زندگی میں نیکیوں کے پھول کچھ اس طرح کھلنے لگےکہ خوش قسمتی سے ایک دن امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کی مایہ ناز تالیف فیضانِ سنت پڑھنے کی سعادت حاصل ہو گئی تحریر کی روانی جیسے پرسکون جھیل کابہاؤ جابجا بکھرے علم وحکمت کے موتی پند ونصائح کے مہکتے پھول اسلاف کے پاکیزہ کردار کے عکاس واقعات میرے دل کو جلابخش گئے۔ خوا بیدہ جذبات بیدار ہوگئے ، نیک بننے کاجذبہ ملا چنانچہ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں حاضری کی سعادت حاصل کی تلاوت قراٰن درود و سلام سبز عماموں کے تاج سجائے اسلامی بھائیوں کا ازدحام سنتوں بھرا بیان ذکراللہ کی پرکیف صدائیں اور رقت انگیز دعا میں بارگاہ خداوندی میں کی جانے والی التجائیں میرے دل کی دنیاہی بدل گئیں۔ میرا پتھر دل نرم پڑگیا آنکھوں سے اشکوں کی برسات شروع ہو گئی اک روحانی کیف و سرور حاصل ہوا اور میں دعوت ِاسلامی کا ہو کر رہ گیا۔ بری صحبت سے جان چھوٹی عمل کا جذبہ ملا اور ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کا ذہن بنا مدنی کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ تادمِ تحریر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے شہر سطح پر مدنی قافلہ ذمہ دار ہونے کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
سرگودھا (پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی قراٰن وسنّت کی راہ پر آنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ 1989ء کی ایک روحانی رات تھی جب میری زندگی میں سنتوں بھرا انقلاب آیا۔ ہوا کچھ اس طرح کہ ہمارے ایک رشتہ دار رحیم یار خان میں سرکاری ملازم تھے۔ ان کی سابقہ زندگی گناہوں سے بھرپور تھی ، وہ مختلف برائیوں میں مبتلاتھے ایک رات وہ ملاقات کیلئے تشریف لائے تو دیکھ کر میں کچھ دیر سکتے میں آگیا کہ کل تک جو برائیوں کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا اب پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وَسلَّم کی سنّت داڑھی شریف سے ان کاچہرہ جگمگ جگمگ کر رہاتھا۔ کل تک ہنسی مذاق جن کا محبوب ترین مشغلہ تھا مگر اب ان کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں تھے اور ان کے چہرے سے عبادت کا نور چمک رہا تھا۔ انہوں نے نہایت پرتپاک طریقے سے میری خیریت معلوم کرتے ہوئے مجھ پر شفقت فرمائی میں حیران ہو گیا کہ ان کی گفتا ر وانداز یکسر بدل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع