30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بلاناغہ درس میں شرکت کرنے لگا جس کی برکت سے نمازوں کی پابندی کا ذہن بن گیا۔ ساتھ ہی دارین کی سعادتیں پانے کے لئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رَضَوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کی غلامی میں آ کر ان سے مرید بھی ہو گیا۔ اپنی بقیہ حیات صلوٰۃ و سنّت کے مطابق گزارنے کا عزمِ مصمم کرتے ہوئے سنتیں سیکھنے کے لئے راہ ِخدا کا مسافر بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مدنی قافلے میں بے شمار سنتیں ، دعائیں اور دیگر شرعی مسائل سیکھنے کی عظیم سعادت میسر آئی۔ مدنی قافلے کی روح پرور ساعتوں نے فکرِ آخرت کا ایسا جذبہ دیے دیا کہ میں نے اپنا یہ ذہن بنالیا کہ بس اب دعوتِ اسلامی ہی میں اپنی زندگی گزاروں گا اور اپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا عظیم خزانہ جمع کروں گا۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
حیدرآباد (باب الاسلام سندھ) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ جوں ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو معاشرے میں پھیلی برائیوں نے مجھے آ گھیرا۔ اسکول کے زمانے سے ہی برے دوستوں کی صحبت ملی جس کی نحوست سے میں فلموں ڈراموں کا شوقین ہو گیا۔ گانے باجوں کا تو ایسا بھوت سوار تھا کہ لبوں پر ہمہ وقت مختلف گانوں کے بول رہنے لگے۔ غفلت کی پٹی میری آنکھوں پر کچھ ایسی بندھی تھی کہ اپنے ناتواں کندھوں پر گناہوں کا بوجھ اٹھائے قبر کے پُرہول گڑھے کی جانب بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا کہ ایسے میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے میری یاوری کی اور نہ صرف مجھے میرا دنیا میں آنے کا مقصد یاد دلا دیا بلکہ گناہوں سے بچا کر نیکیوں کی راہ پر بھی گامزن کر دیا۔ سبب کچھ اس طرح بنا کہ میرا گھرانا قدرے مذہبی ذہن کا تھا اس لئے کبھی کبھی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانے کا موقع مل جاتا۔ چنانچہ ایک روز مسجد میں حاضرہوا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے ان اسلامی بھائی پر جو میری قسمت سنوارنے کیلئے بعد نماز مغرب ہاتھوں میں فیضانِ سنّت تھامے درس دینے کے لیے تشریف فرما تھے میں بھی نماز پڑھ کر درس میں شریک ہو گیا۔ ایک ولیٔ کامل کے تحریر کردہ الفاظ کانوں کے راستے قلب کی گہرائیوں میں اترتے چلے گئے۔ درس کے اختتام پر ان اسلامی بھائی نے احسن انداز میں مسکرا کر ملاقات کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی پرخلوص دعوت پیش کی۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی کے اندازِ ملاقات اورمیٹھی میٹھی پراثر گفتگو نے میرے دل کی دنیاہی بدل دی میں نے گناہوں سے توبہ کی اور یہ ذہن بنا لیا کہ اب اِنْ شآءاللہ عَزَّوَجَلَّ جینا مرنا دعوتِ اسلامی میں ہی ہو گا۔ میں نیکی کی دعوت عام کرنے کے جذبے کے تحت مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا اور جلد ہی عشاء کی نماز کے بعد ہونے والے درسِ فیضانِ سنّت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ سب لوگ حیران تھے کہ اچانک اسے کیا ہوگیا ہے جس کی زبان فضول باتوں اور طرح طرح کے بے ہودہ گانوں سے رکتی نہ تھی اب نیکی کی دعوت کی شیرینی اورنعتِ مصطفی کے ترانوں سے سجی رہتی ہے۔ گھر والے بھی بہت خوش ہیں اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع