دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Namaz main luqma dainay kay masail | نمار میں لقمہ دینے کے مسائل

namaz mein luqmay kay masail say mutalliq bayan

book_icon
نمار میں لقمہ دینے کے مسائل
            

نماز میں لقمے کے مسائل

سوال : نماز میں لقمہ دینے اور امام کو لقمہ لینے سے متعلق شریعت کے کیا احکام ہیں ؟ جواب : قوانین شریعت کے مطابق نمازمیں اپنے امام کو لقمہ دینا بعض صورتوں میں فرض ہے ، بعض صورتوں میں واجب اور بعض صورتوں میں جائز ہے ۔ یوں ہی بعض صورتوں میں حرام ہے ، بعض صورتوں میں مکروہ ۔ بسا اوقات لقمہ کا تعلق امام کی قراء ت کے ساتھ ہوتا ہے تو بسا اوقات انتقالات امام کے ساتھ ۔ اولاً اس کتاب میں نماز میں لقمہ سے متعلق ضروری احکام بیان کئے جائیں گے ۔ اس کے بعد چند مسائل سوال و جواب کی صورت میں بیان کئے جائیں گے ۔ اس کتاب میں ذکر کردہ اکثر مسائل فتاوٰی رضویہ شریف ہی سے لئے گئے ہیں کہ جس مسئلہ میں امام اہل سنت ، مجدد دین وملت، پروانۂ شمع رسالت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا حوالہ موجود ہو اس کی حیثیت مسلّمہ ہوتی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو مسائل آپ رضی اللہ عنہ کی کتابوں میں ملتے ہیں ، متلاشیِ علم کو ہزاروں کتابیں چھاننے کے بعد بھی نہیں ملتے ۔ صاحب بہارشریعت صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مولانا امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فتاوٰی رضویہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ’’اس میں ہر مسئلہ کی ایسی تحقیق کی گئی ہے جس کی نظیر آج دنیا میں موجود نہیں اور اس میں ہزارہا ایسے مسائل ملیں گے جن سے علماء کے کان بھی آشنا نہیں ۔ ‘‘(بہارشریعت ص۴حصہ دوم مطبوعہ ضیاء القرآن ) چنانچہ سیدی و مرشدی، شیخ طریقت ، عاشق اعلی حضرت ، امیر اہلسنت، حضرت علامہ و مولانا محمد الیاس عطارقادری دامت برکاتھم العالیہ کی تاریخِ پیدائش ۲۶رمضان المبارک کی نسبت سے ، نماز میں لقمہ سے متعلق ۲۶ ضرور ی احکام درج ذیل ہیں : {1} امام جب ایسی غلطی کرے جو مُوجبِ فسادِ نماز ہو(وہ غلطی جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہو) تو اس کا بتانا اور اصلاح کرانا ہر مقتدی پر فرض کفایہ ہے ان میں سے جو بتادے گا سب پر سے فرض اتر جائے گا اور کوئی نہ بتائے گا تو جتنے جاننے والے تھے سب مرتکبِ حرام ہوں گے اور سب کی نماز باطل ہو جائے گی ذلک لان الغلط لما کان مفسدا کان السکوت عن اصلاحہ ابطالاً للصلاۃ و ھو حرام بقولہ تعالی ولا تبطلوا أعمالکم ۔ ترجمہ : کیونکہ غلطی جب مفسد نماز ہو تو اس کی اصلاح کرنے کے بجائے خاموش رہنا نماز کو باطل کر دے گا اور نماز باطل کر دینا حرام ہے اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے کہ’’اپنے اعمال باطل نہ کرو‘‘ ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۰ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {2} ایک کا بتانا سب پر سے فرض اس وقت ساقط کرے گا کہ امام مان لے اور کام چل جائے ورنہ اوروں پر بھی بتانا فرض ہو گا یہاں تک کہ حاجت پوری اور امام کو وثوق(اعتماد) حاصل ہو جائے ، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے بتائے سے امام کا اپنی غلط یادپر اعتماد نہیں جاتا اور وہ اس کی تصحیح کو نہیں مانتا اور اس کا محتاج ہوتا ہے کہ متعدد شہادتیں اس کی غلطی پر گزریں تو یہاں فرض ہو گا کہ دوسرا بھی بتائے اور اب بھی امام رجوع نہ کرے تو تیسرا بھی تائید کرے یہاں تک کہ امام صحیح کی طرف واپس آجائے ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۰ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {3} اگر غلطی ایسی ہے جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہر مقتدی پر واجب کفایہ ہو گااور اگر ایک بتادے گا اور اس کے بتا نے سے کارروائی ہو جائے توسب پرسے واجب اتر جائے گا ورنہ سب گنہگار رہیں گے ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۱ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {4} اگر غلطی ایسی ہو کہ جس سے نہ فسادِ نماز ہوتا ہو نہ ترکِ واجب ، جب بھی ہر مقتدی کو مطلقاً بتانے کی اجازت ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۱ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) محیط و عالمگیری میں ہے و النظم للھندیہ ’’ولو عرض للامام شیٔ فسبح الماموم، فلا بأس بہ‘‘ ترجمہ : اگر امام کو کچھ بھول واقع ہوئی اور مقتدی نے لقمہ دیتے ہوئے سبحان اللہ کہا تو کوئی حرج نہیں ۔ ( عالمگیری ص۹۹ج اول مکتبہ حقانیہ ۔ محیط برھانی ص ۱۴۸ج ۲ ادارۃ القرآن ) {5} امام غلطی کر کے خود متنبّہ(باخبر) ہو گیا اور یاد نہیں آتا ، یاد کرنے کے لئے رکا، اگر تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقداررکے گا تو نماز مکروہ تحریمی ہو جائے گی اور سجدہ سہو واجب ہوگا، تو اس صورت میں جب اسے رکا دیکھیں ، مقتدیوں پر بتانا واجب ہو گا کہ خاموشی قدرِ ناجائز تک نہ پہنچے ۔ یعنی امام کو تین مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار خاموش رہنے کا موقع نہ دیا جائے ۔ ( ماخوذ از فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۱ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {6} بعض ناواقفوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب غلطی کرتے ہیں یاد نہیں آتا تو اضطراراً ان سے بعض کلمات بے معنی صادر ہو جاتے ہیں کوئی’’ اوں اوں ‘‘ کہتا ہے کوئی کچھ اور، اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو جس کی یہ عادت معلوم ہے جب رکنے پر آئے مقتدیوں پر واجب ہے کہ فوراً بتادیں قبل اس کے کہ وہ اپنی عادت کے حروف نکال کر نماز تباہ کرے ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۲ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {7} امام تراویح میں اٹکے اور آگے نہ پڑھ پائے یا ایسا ہو کہ روانی میں پڑھتے ہوئے کوئی آیت یا آیت کا حصہ چھوڑ کربغیر رکے یا اٹکے آگے نکل جائے اور ناجائز مقدار تک خاموش رہنا بھی نہ پایا جائے ، نہ ہی معنی فاسد ہوتے ہوں تب بھی مقتدی کو بتانا چاہیے کیونکہ امام کے نہ ٹھہرنے یا فساد معنی نہ ہونے کے سبب اگرچہ نماز پر اثر نہیں پڑے گالیکن چونکہ تراویح میں پورے قران عظیم کا ختم کرنا مقصود ہوتا ہے اور کچھ حصہ رہ جانے سے یہ مقصود پورا نہیں ہو گا ۔ چنانچہ امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں ۔ تراویح میں ختمِ قرآن عظیم ہو تو مقتدی کو بتانا چاہئے جبکہ امام سے نہ نکلے یا وہ آگے رواں ہو جائے اگرچہ اس غلطی سے نماز میں کچھ خرابی نہ ہو کہ مقصود ختمِ کتابِ عزیز ہے اور وہ کسی غلطی کے ساتھ پورا نہ ہو گا ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۲ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {8} تراویح میں اگر امام نے کسی جگہ چھوڑالیکن مقتدی نے نہ بتایا اور چھوڑنا بھی ایسا تھا کہ اس سے نماز میں کوئی فساد یا کراہیت نہ آئی تب بھی مقتدی کو چاہیے کہ بعدِ سلام امام کو اطلاع دے ، امام دوسری تراویح میں اتنے الفاظِ کریمہ کا صحیح طور پر اعادہ کر لے مگر اولی یہی تھا کہ اسی وقت بتاتا ۔ (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۲ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {9} بالغ مقتدیوں کی طرح تمیز دار بچہ بھی لقمہ دے سکتا ہے ۔ (فتاوی رضویہ شریف ص۲۸۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور عالمگیری ص۹۹ج اول مکتبہ حقانیہ ) جبکہ نماز آتی ہو ۔ {10} جسے سامع مقرر کیا گیا اس کے علاوہ دوسرا مقتدی بھی لقمہ دے سکتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ’’قوم کا کسی کو سامع مقرر کر دینے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے غیر کو بتانے کی اجازت نہیں اور اگر کوئی اپنے جاہلانہ خیالات سے یہ قصد کرے بھی تو اس کی ممانعت سے وہ حق کہ شرع مطہر نے عام مقتدیوں کو دیا کیونکر سلب (ختم) ہو سکتا ہے ‘‘ ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {11} جو شخص بھی لقمہ دے اس کو چاہیے کہ لقمہ دیتے وقت وہ قراء ت کی نیت نہ کرے بلکہ لقمہ دینے کی نیت سے وہ الفاظ کہے جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے ’’الصحیح ان ینوی الفتح علی امامہ دون القراء ۃ(عالمگیری ج ۱ ص ۹۹ مکتبہ حقانیہ پشاور) ترجمہ : لقمہ دینے والا قراء ت کی نیت نہ کرے بلکہ لقمہ دینے کی نیت سے وہ الفاظ کہے ۔ فتاوٰی شامی میں ہے لأن قراء ۃ المقتدی منھی عنھا و الفتح علی امامہ غیر منھی عنہ (ردالمحتار ص۳۸۲ج۲مکتبہ امدادیہ ملتان) ترجمہ : کیونکہ قراء ت سے مقتدی کو منع کیا گیا ہے جبکہ لقمہ دینا اسے منع نہیں ۔ (لھذا جو منع ہے اس کی نیت نہ کرے ) {12} دیکھا گیا ہے کہ ایک تراویح پڑھانے والے کے پیچھے کئی کئی حافظ کھڑے لقمے دے رہے ہوتے ہیں انھیں اپنی نیت کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے اگر ان کی نیت حافظ صاحب کو پریشان کرنے کی ہوئی تو ایسا کرنا حرام ہو گاامامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین وملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں ’’قاری(پڑھنے والے ) کو پریشان کرنے کی نیت حرام ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں بشروا و لاتنفروا و یسروا و لا تعسروا ‘‘ترجمہ : لوگوں کو خوشخبریاں سناؤ نفرت نہ دلاؤ ، آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو ۔ اور بے شک آج بہت سے حفاظ کا یہ شیوہ ہے ، یہ بتانا نہیں بلکہ حقیقۃً یہود کے اس فعل میں داخل ہے (جس کا ذکر قران پاک میں ہوا ، فرمایا گیا) ’’ لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ ‘‘ (پارہ ۲۴سورۃحم السجدۃ آیت ۲۶) ترجمہ کنزالایمان : (کافر کہتے ہیں ) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بے ہودہ غل (شور) کرو ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {13} اگر کسی کی نیت امام کو پریشان کرنے کی تو نہ ہو مگر اپنا حفظ جتلانا مقصود ہو تو یہ بھی حرام ہے ۔ جیسا کہ امامِ اہل سنّت مجددِ دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ــ’’ اپنا حفظ جتانے کے لیے ذرا ذرا شبہ پر روکنا ریا ہے اور ریا حرام ہے خصوصاً نماز میں ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {14} مُصَلِّی (نمازی) نے اپنے امام کے سوا دوسرے کو لقمہ دیا (تو لقمہ دینے والے کی) نماز جاتی رہی جس کو لقمہ دیا ہے وہ نماز میں ہو یا نہ ہو، مقتدی ہو یا منفرد یا کسی اور کا امام ۔ (بہار شریعت ص ۱۵۰ حصہ۳مکتبہ رضویہ ) یوں ہی ردالمحتار میں ہے وفتحہ علی غیر امامہ لانہ تعلم و تعلیم من غیر حاجۃ بحرو ھو شامل لفتح المقتدی علی مثلہ و علی المنفرد و علی غیر المصلی و علی امام الآخر ۔ (ردالمحتار ص۳۸۱ج۲مکتبہ امدادیہ ملتان) ترجمہ : اوراپنے امام کے علاوہ کسی اور کو لقمہ دینا اس کی نماز کو فاسد کردے گا کہ لقمہ دینا تعلیم و تعلّم ہے (جو نماز میں حاجت کے وقت تو درست ہے ) اور یہاں حاجت نہ ہونے کے باعث نماز فاسد کرنے کا باعث ہو گا ایسا ہی بحر میں ہے کہ ’’اپنے امام کے غیر کو لقمہ دینا‘‘ان سب صورتوں کو شامل ہے جن میں مقتدی ، مقتدی کو لقمہ دے ، منفرد کو لقمہ دے ، یا غیر نمازی کو لقمہ دے یا اس امام کو لقمہ دے جس کی اقتداء میں نہ ہو ۔ یعنی ان صورتوں میں بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ {15} مُصَلِّی(نمازی) جب اپنے امام کے سوا کسی اور کو لقمہ دے مگر بہ نیت ِتلاوت دے نہ کہ اس کو بتانے کی غرض سے تو اس کی نماز فاسد نہ ہو گی چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے و لو فتح غیر امامہ تفسد لا اذا اعنی بہ التلاوۃ دون التعلیم کذا فی المحیط(فتاوٰی ہندیہ ص۹۹ج۱ مکتبہ حقانیہ پشاور) ترجمہ : اگر اپنے امام کے علاوہ کسی کو لقمہ دیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی لیکن جب اس کے سکھانے کے بجائے تلاوت کی نیت کی ہو تو نماز فاسد نہ ہو گی اسی طرح محیط میں ہے ۔ {16} اپنے مقتدی کے سوا دوسرے کا لقمہ لینا بھی مفسدِ نماز ہے البتہ اگر اس کے بتاتے وقت اسے خود یاد آگیا اس کے بتانے سے نہیں یعنی اگر وہ نہ بتاتا جب بھی اسے یاد آجاتا اس کے بتانے کو دخل نہیں تو اس کا پڑھنا مفسد نہیں ۔ فتاوی شامی میں ہے ’’ان حصل التذکر بسبب الفتح تفسد مطلقا ای سواء شرع فی التلاوۃ قبل تمام الفتح أو بعدہ لوجود التعلم و ان حصل تذکرہ من نفسہ لا بسبب الفتح لا تفسد مطلقا وکون الظاہر أنہ حصل بالفتح لا یؤثر بعد تحقق أنہ من نفسہ لأن ذالک من أمور الدیانۃ لا القضاء حتی یبنی علی الظاہر ألا تری أنہ لو فتح علی غیرہ امامہ قاصداً القراء ۃ لا التعلیم لا تفسد مع أن ظاہر حالہ التعلیم ‘‘ ۔ (ردالمحتار ص ۳۸۲ج۲ مکتبہ امدادیہ ) ترجمہ : ایسی صورت میں اگر امام کو لقمے کی وجہ سے یاد آیا تو مطلقاً نماز فاسد ہو جائے گی خواہ امام نے لقمہ ختم ہونے سے پہلے تلاوت شروع کر دی ہو یا لقمہ ختم ہونے کے بعد شروع کی ہو ، تعلّم کے پائے جانے کی وجہ سے اور اگراسے خود ہی یاد آگیا ہونہ کہ لقمے کی وجہ سے یعنی اگر لقمہ نہ آتا تب بھی اسے یاد آجاتاتو ایسی صورت میں مطلقاً نماز نہ ٹوٹے گی ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ لقمہ ازخود آیا ہے تو لقمہ کا آنا نماز پر اثر نہیں ڈالے گااور از خود یا د آنے یا نہ آنے کا معاملہ دیانت پر موقوف ہے نہ کہ قضاء پر کہ ظاہر پر حکم لگائیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ کیا تو نہیں دیکھتاکہ اگر کوئی اپنے امام کے علاوہ غیر کو تلاوت کی نیت کرتے ہوئے لقمہ دے تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی اگرچہ کہ ظاہری حالت عمل تعلیم کو ظاہر کرتی ہے {17} اپنے امام کو لقمہ دینا اور امام کا لقمہ لینا مفسد نہیں ہاں اگر مقتدی نے دوسرے سے سُن کر جو نماز میں اس کا شریک نہیں ہے لقمہ دیا اور امام نے لے لیا تو سب کی نماز گئی اور امام نے نہ لیا تو صرف اس مقتدی کی گئی ۔ (بہار شریعت ص۱۵۱حصہ ۳مکتبہ رضویہ) فتاوٰی شامی میں ہے أن المؤتم لما تلقن من خارج بطلت صلاتہ فإذافتح علی امامہ و أخذ منہ بطلت صلاتہ (ردالمحتار ص۳۸۲ج۲مکتبہ امدادیہ ملتان) ترجمہ : جب مقتدی نے خارج سے لقمہ لیا تو خود اس کی نماز ٹوٹ گئی پس جب وہ امام کو لقمہ دے اور وہ لے لے تو اس کی نماز بھی ٹوٹ جائے گی ۔ {18} مقتدی کو شبہ ہوا کہ امام کچھ چھوڑ گیا ہے مگر اسے یقین حاصل نہیں اس شبہ کی کیفیت میں اُس وقت لقمہ دیناجائز ہوگاکہ جب اسے یہ گمان ہو کہ امام نے جو چھوڑا ہے اگر نہ بتایا گیا تو نماز فاسد ہو جائے گی تو یقین نہ ہونے کے باوجود لقمہ دینا جائز ہوگااگر فساد نماز کا پہلو نہ ہو توپھر محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں ۔ جیسا کہ امام اہل سنت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ’’جب غلطی مفسدِ نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب ہے ۔ آگے مزید ارشاد فرماتے ہیں حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح(لقمہ) حقیقۃً کلام ہے اور نماز میں کلام حرام و مفسد نماز مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پر خود یقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لھذا حرام ہوا جب اسے شبہ ہے ممکن کہ اسی کی غلطی ہواور غلط بتانے سے اس کی نماز جاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہوگی تو ایسے امر پر اقدام جائز نہیں ہو سکتا (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {19} مقتدی کو شک ہوا کہ امام نے کچھ چھوڑ دیا ہے حالانکہ امام نے درست پڑھا تھالھذا اس نے لقمہ دیااور امام نے لے لیا سب کی نماز جاتی رہی اگر امام نے نہ لیا توصرف لقمہ دینے والے کی گئی جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت، پروانہ ِشمعِ رسالت ، مجددِ دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں ’’جب اسے شبہ ہو تو ممکن ہے کہ اسی کی غلطی ہو اور غلط بتانے سے اس کی نماز جاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہو گی ‘‘ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {20} تراویح میں سہواً غلط بتانا مفسد نماز نہیں تیسیراً یہی حکم ہے الیہ مال امام اہل السنۃ مجدد الدین والملۃ الامام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فی الفتاوٰی الرضویۃ ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) {21} فوراً ہی لقمہ دینا مکروہ ہے بلکہ تھوڑا توقف چاہیے کہ شاید امام خود نکال لے فتاوٰی شامی میں ہے ’’یکرہ ان یفتح من ساعتہ( رد المحتار ص۳۸۲ج۲مکتبہ امدادیہ ) مگر جب کہ اس کی عادت اسے معلوم ہو کہ رُکتا ہے تو بعض ایسے حروف نکلتے ہیں جن سے نماز فاسد ہو جاتی ہے تو فوراً بتائے ۔ ( بہار شریعت ص۱۵۱حصہ ۳مکتبہ رضویہ محیط برھانی ص۱۵۴ج۲ادارۃ القران ) {22} یوں ہی امام کو مکروہ ہے کہ مقتدیوں کو لقمہ دینے پر مجبور کرے بلکہ کسی دوسری سورت کی طرف منتقل ہو جائے یا دوسری آیت شروع کر دے بشرطیکہ اس کا وصل(ملانا) مفسدِ نماز نہ ہو اور اگر بقدر حاجت پڑھ چکا ہے تو رکوع کرے مجبور کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بار بار پڑھے یا ساکت کھڑا رہے ۔ جیساکہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے ’’و لاینبغی للامام أن یلجئہم الی الفتح لانہ یلجئہم الی القراء ۃ خلفہ و أنہ مکروہ بل یرکع ان قرأ قدر ما تجوز بہ الصلاۃ و الا ینتقل الی آیۃ اخری کذا فی الکافی و تفسیر الالجاء أن یرددالآیۃ او یقف ساکتا کذا فی النہایۃ‘‘ (عالمگیری ج ۱ ص ۹۹ مکتبہ حقانیہ پشاور) ترجمہــــ’’ امام کو چاہئے کہ مقتدی کو لقمہ دینے کی طرف مجبور نہ کرے کیونکہ وہ ان کو اپنے پیچھے قرا ء ت کرنے پر مجبور کرے گا اور یہ مجبور کرنا مکروہ ہے بلکہ اسے چاہیے کہ اگر اتنی قرأت کر چکا تھا جو نماز کے صحیح ہونے کیلئے کافی تھی تو رکوع کر لے یا کسی اور آیت کی طرف منتقل ہوجائے اور ان کو مجبور کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ بار بار آیت کی تکرار کرتا رہا یا پھر خاموش کھڑا رہا ‘‘ ۔ {23} جہاں لقمہ نہیں دینا تھا وہاں ایک ہی دفعہ لقمہ دینے سے نماز ٹوٹ جائے گی نماز ٹوٹنے کے لئے لقمہ کی تکرار شرط نہیں فتاوی عالمگیری میں ہے ’’و تفسد صلاتہ بالفتح مرۃ و لا یشترط فیہ تکرارا و ھو الاصح ھکذا فی فتاوی قاضیخان ‘‘(فتاوی عالمگیری ص ۱۱۰ جلد اول قدیمی کتب خانہ کراچی) ترجمہ : بے محل لقمہ دینے پر ایک دفعہ دینے سے ہی نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ {24} لقمہ دینے والے کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ قرآن پاک دیکھ کر لقمہ دے کہ مصحف دیکھ کر لقمہ دینا، لقمہ دینے والے کی نماز کو فاسد کر دیتا ہے کہ نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر قران پڑھنا مطلقاًمفسدِنماز ہے یوں ہی اگر محراب و غیرہ میں لکھا ہو اسے دیکھ کر پڑھنا بھی مفسدِنماز ہے ہاں اگر یاد پر پڑھتا ہو مصحف یا محراب پر فقط نظرپڑ گئی تو حرج نہیں (درمختار ، ردالمحتار ص ۳۸۴ج۲مکتبہ امدادیہ ملتان) چنانچہ جس صورت میں اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے اس نے امام کو لقمہ دیا تو اس کی نماز بھی گئی کہ اس کے مصحف و غیرہ سے دیکھ کر نماز پڑھتے ہی خود اس کی نماز فاسد ہو گئی اور وہ نماز سے خارج ہو گیا اور نماز سے خارج کا لقمہ لینے پر امام کی نماز بھی فاسد ہو گئی ۔ {25} کہاں غلطی مفسدِ نماز ہے اور کہاں نہیں اس کا معلوم پڑنا اور وہ بھی نماز کی حالت میں ہر ایک کا کام نہیں جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملت ، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں ’’ غلطی کا مفسد ِمعنی ہونا(یعنی غلطی ایسی ہو جس سے معنی فاسد ہو جائیں ) مبنائے افساد نماز(نماز کے فسادکی وجہ) ہے ، ایسی چیز نہیں جسے سہل (آسانی سے ) جان لیا جائے ، ہندوستان میں جو علماء گنے جاتے ہیں ان میں چند ہی ایسے ہو سکیں کہ نماز پڑھتے میں اس پر مطلع ہو جائیں ہزار جگہ ہو گا کہ وہ افساد گمان کریں گے اور حقیقۃً فساد نہ ہو گا جیسا کہ ہمارے فتاوٰی کی مراجعت (یعنی فتاوٰی کے پڑھنے ) سے ظاہر ہوتا ہے ‘‘ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) لھذا جہاں فساد معنی کا شبہ ہو وہاں اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے بجا جید علماء سے رجوع کیا جائے ۔ {26} لقمہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں لقمہ دینا مقتدی کی طرف سے امام کو کچھ سکھانا اور امام کا مقتدی سے سیکھنا ہے ۔ حالت ِنماز سیکھنے اور سیکھانے کا موقع نہیں بلکہ یہ امور نماز کے فاسد ہو جانے کا باعث ہیں مگر ضرورت کی جگہ پریا ان مقامات پر جہاں لقمہ دینے کے بارے میں نص وارد ہے شریعت نے اس کی اجازت دی اور ضرورت اور نص میں بیان کردہ جگہ کی حد تک نماز میں لقمہ دینے اور لینے والے پرسے نماز ٹوٹنے کا حکم معاف رکھا بدائع الصنائع میں ہے ’’اذا عرض للاما م شیٔ فسبح الماموم لا بأس بہ لان القصد بہ اصلاح الصلوۃ فسقط حکم الکلام عنہ للحاجۃ الی الاصلاح ‘‘ (بدائع الصنائع ص۲۳۵جلد اول، ایچ ایم سعید) جب امام کو کچھ بھول واقع ہو تو مقتدی کے لقمہ دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس کا ا رادہ نماز کی اصلاح کا ہے اس لئے حاجت کی بنا پر اس کے لقمہ دینے پر کلام ہونے کا حکم ساقط کر دیا گیا ۔ لیکن جہاں کہیں بے محل(یعنی جہاں اجاز ت نہیں تھی وہاں ) لقمہ دیا گیاتو نماز ٹوٹنے کا اصل حکم لوٹ آئیگا ۔ مثلاً جب امام کو واپس آنے کی اجازت نہ ہو تو ایسے موقع پر لقمہ دینا بے محل ہے اور کسی نے لقمہ دیا تواس کی نماز گئی ۔ جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت ، مجددِ دین و ملت ، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں ’’ہمارے امام رضی اللہ عنہ کے نزدیک اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ بتانا اگرچہ لفظاًقراء ت یا ذکر مثلاًتسبیح اور تکبیر ہے اور یہ سب اجزاء و اذکار نماز سے ہیں مگر(یہ بتانا) معنًی کلام ہے کہ اس کا حاصل امام سے خطاب کرنا اور اسے سکھانا ہوتا ہے یعنی تو بھولا اس کے بعد تجھے یہ کرنا چاہئے ۔ پر ظاہر کہ اس سے یہی غرض مراد ہوتی ہے اور سامع کو بھی یہی معنیٰ مفہوم، تو اس کے کلام ہونے میں کیا شک رہا اگرچہ صورۃًقران یا ذ کر و لھذا اگر نماز میں کسی یحيٰنامی کو خطاب کی نیت سے یہ آیت کریمہ ’’یٰیحي خذ الکتاب بقوۃ‘‘ پڑھی بالاتفاق نماز جاتی رہی حالانکہ وہ حقیقۃًقرآن ہے اس بنا پر قیاس یہ تھا کہ مطلقاًبتانا اگرچہ بر محل ہو مفسد نماز ہو ، کہ جب وہ بلحاظ معنی کلام ٹھہرا تو بہر حال افسادِنماز کرے گا(یعنی نماز توڑ دے گا) مگر حاجت ِاصلاحِ نماز کے وقت یا جہاں خاص نص وارد ہے ہمارے ائمہ نے اس قیاس کو ترک فرمایا بحکم استحسان جس کے اعلی وجوہ سے نص و ضرورت ہے جواز کا حکم دیا ۔ ‘‘ (فتاوٰی رضویہ ص۲۵۸ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) مذکورہ بالاضابطہ پر کثیر مسائل کا استخراج ہوتا ہے جیسا کہ سوال جواب کی صورت میں آنے والے مسائل سے بخوبی معلوم ہو جائے گا ۔

لقمہ سے متعلق اہم سوال اور ان کے جواب

سوال : امام کی نیت چار فرضوں کی تھی پہلی دو رکعت ختم کر چکا تھا بیچ میں التحیات بھول گیااور اللہ اکبر کہہ کر کھڑا ہو گیا بعد کو مقتدی نے بتایا وہ بیٹھ گیا، التحیات پڑھی اور آخر میں سجدہ سہو کیا ۔ آیا مقتدی کی، امام کی نماز ہوئی یا نہیں ؟ الجواب بعون الملک الوھاب اگرامام ابھی پورا سیدھا کھڑا نہ ہونے پایا تھا کہ مقتدی نے بتایا اور وہ (یعنی امام ) بیٹھ گیا تو سب کی نماز ہوگئی اور سجدہ سہو کی حاجت نہ تھی اور اگر امام پورا کھڑا ہوگیا تھا اس کے بعد مقتدی نے بتایا تو مقتدی کی نماز اسی وقت جاتی رہی اور جب اس کے کہنے سے امام لوٹا تو اسکی بھی گئی اور سب کی گئی اور اگر مقتدی نے اس وقت بتایا تھا کہ امام ابھی پورا سیدھا نہ کھڑا ہوا تھا کہ اتنے میں پورا سیدھا ہوگیا اس کے بعد لوٹا تو مذہب اصح میں نماز ہوتو سب کی گئی مگر مخالفت حکم کے سبب مکروہ ہوئی کہ سیدھا کھڑا ہونے کے بعد قعدۂ اولی کے لئے لوٹنا جائز نہیں ۔ نماز کا اعادہ کریں خصوصاً ایک مذہب ِقوی پر نماز ہوئی ہی نہیں تو اعادہ فرض ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ص۲۱۴ج۸رضا فاؤنڈیشن لاہور کذا فی الھندیہ بقولہ ’’و لا یسبح اذا قام الی الاخریین ‘‘ ص۹۹ج اول مکتبہ حقانیہ پشاور) سوال : امام کو قعدہ اولی میں اپنی عادت سے دیر لگی اور مقتدی نے یہ سوچ کر کہ امام کو سہو ہوا ہے بلند آواز سے تکبیر کہی تاکہ امام کو اطلاع ہو جائے کہ یہ قعدہ اولی ہے آخری قعدہ نہیں ، مقتدی کی نماز فاسد ہوئی یا نہیں ؟ الجواب بعون الملک الوھاب مقتدی کی نماز فاسد ہوگئی کہ جب امام کو قعدہ اولیٰ میں دیر ہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیر ہ سمجھا ہے تنبیہ کی تو دو حال سے خالی نہیں یاتو واقع میں اس کا گمان غلط ہوگا یعنی امام قعدہ اولیٰ ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی جب تو ظاہر ہے مقتدی کا بتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہوا تو یقینا مفسدِنماز ہوا ۔ اس کے بر خلاف اگر معاملہ یہ تھا کہ اس کا گمان واقعی درست تھا یعنی امام نے قعدہ اولیٰ کو قعدہ اخیرہ سمجھا تھا تب بھی اس کا بتانا محض لغو وبے حاجت ہے اور اصلاح ِنماز سے اس کا کوئی تعلق نہیں کہ جب امام اتنی تاخیر کر چکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تو لا جرم یہ تاخیر بقدر کثیر ہو ئی اور جو کچھ ہونا تھا یعنی واجب کا ترک ہونا اور سجدہ سہو کا لازم ہونا وہ ہو چکا، اب اس کے بتانے سے اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیا جائے لہذا مقتضائے نظر ِفقہی (یعنی فقہی نظر کا تقاضا یہ ہے کہ) اس صورت میں بھی فسادِ نماز ہے ۔ نظیر اس کی یہ ہے کہ جب امام قعدہ اولیٰ کو چھوڑ کر پورا کھڑا ہو جائے تو اب مقتدی بیٹھنے کا اشارہ نہ کرے ، ورنہ ہمارے امام کے مذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہے گی کہ پورا کھڑا ہونے کے بعد امام کو قعدہ اولی کی طرف عود کرنا، ناجائز تھا تو مقتدی کا بتانا محض بے فائدہ رہا اور اپنے اصلی حکم کی رو سے کلام ٹھہر کر مفسد نماز ہوالیکن جس وقت امام سلام پھیر نا شروع کرنے لگے تو اب حاجت متحقق ہونے کی وجہ سے لقمہ دینا چاہیے کہ اب نہ بتانے میں خلل وفسادِ نماز کا اندیشہ ہے کہ امام تو اپنے گمان میں نماز تما م کرچکا ۔ ( ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ۲۶۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور ) سوال : لقمہ کن الفاظ کے ساتھ دینا چاہیے ؟ الجواب بعون الملک الوھاب جب امام قرآن بھولے تو جو بھولا ہے وہ بتائے ، بہتر یہ ہے کہ جہاں سے بھولا ہے اس کے پیچھے کی آیت بتائے پھر وہ آیت جو یہ بھولا ہے جیسا کہ فتاوی تاتار خانیہ میں ہے ’’و فی الفتاوی الحجۃو الاولی اذا فتح علی امامہ أن یقرأ آیۃ قبلھا ثم وصلھا بما معہ کیلا یشبہ التعلیم و التعلّم و ھذا لیس بلازم ‘‘ (فتاوی تاتار خانیہ ص۵۸۱ج اول ادارۃ القران) ترجمہ : فتاوی حجہ میں ہے اولی یہ ہے کہ جب اپنے امام کو لقمہ دے تو پہلے ما قبل کی آیت پڑھے پھر بعد والی کو ملائے تاکہ حتی الامکان اس کا لقمہ دینا تعلیم و تعلّم کے مشابہ نہ ہو لیکن اس طرح کرنا یعنی ما قبل کی آیت سے لقمہ دینا لازم نہیں ۔ یعنی جو بھولا ہے صرف وہ بتا دی تب بھی درست ہے ۔ اگر امام سورۃ میں سے کچھ پڑھتے پڑھتے بھول گیاآگے یاد نہیں آتا تو یہ بھی جائز ہے کہ کسی اور سورۃ کا لقمہ دے دیا جائے چنانچہ محیط برھانی میں ہے ’’و عن عمر رضی اللہ عنہ أنہ قرأ سورۃ النجم و سجد فلما عاد الی القیام ارتج علیہ فلقنہ واحد ’’اذا زلزلت الارض‘‘فقرأھاو لم ینکر علیہ‘‘ ۔ (محیط برھانی ص۱۵۴ ج ۲ ادارۃ القران کراچی) ترجمہ : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے آپ نے سورۂ نجم پڑھی اسی دوران آیت سجدہ پر سجدہ کر کے جب قیام کی طرف لوٹے تو آپ بھول گئے کسی نے ’’اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ‘‘کا لقمہ دیا پس آپ نے یہی آیت پڑھی اور اس پر کسی صحابی نے بھی انکار نہ کیا ۔ جب انتقال رکن یعنی ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف آنے میں سہو ہو توبہتر یہ ہے کہ تسبیح کے ذریعے لقمہ دے تکبیر کہی تو یہ بھی جائز ہے ۔ چنانچہ تاتارخانیہ میں ہے ’’المصلی اذا کبر بنیۃ أن یعلم غیرہ أنہ فی الصلاۃ لا تفسد صلاتہ، الاولی التسبیح لقولہ صلی اللہ علیہ و سلم ’’التسبیح للرجال و التصفیق للنساء‘‘ (فتاوی تاتار خانیہ ص۵۷۵ج اول ادارۃ القران) فتاوی امجدیہ میں ہے ’’مقتدی کو ایسے موقع پر(جب امام انتقال رکن میں بھول جائے ) جبکہ امام کو متوجہ کرنا ہو سبحن اللہ یا اللہ اکبر کہے جس سے امام کو خیال ہو جائے اور نماز کو درست کر لے صحیح بخاری شریف و غیرہ میں حدیث ہے ’’ما لی رأیتکم اکثرتم التصفیق من نابہ شیٔ فی صلاتہ فلیسبح فانہ اذا سبح التفت الیہ و انما التصفیق للنساء ‘‘ ( فتاوی امجدیہ ص۱۸۷ج اول مکتبہ رضویہ کراچی) ترجمہ : میں دیکھتا ہوں کہ جب کوئی نماز میں بھولتا ہے تو تم میں سے اکثر ہاتھ پر ہاتھ مار کر اسے متوجہ کرتے ہوپس اگر کوئی نماز میں بھولے تو تسبیح کہو کہ جب کوئی تسبیح کہے گا تو امام لوٹ آئیگا اور تصفیق یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا تو صرف عورتوں کے لئے ہے ۔ سوال : بعض لوگ کہتے ہیں تین آیت کے بعد لقمہ نہیں دینا چاہیے اگر کوئی دے تو اس کی نماز فاسد ہو جاتی ہے کیا یہ درست ہے ؟ الجواب بعون الملک الوھاب لوگوں کا یہ خیال غلط ہے ، امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملت ، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ’’امام جہاں غلطی کرے ، مقتدی کو جائز ہے کہ اسے لقمہ دے اگرچہ کہ ہزار آیتیں پڑھ چکا ہو، یہی صحیح ہے ردالمحتار میں ہے ’’الفتح علی امامہ غیر منھی عنہ بحر ‘‘ ترجمہ : اپنے امام کو لقمہ دینا منع نہیں ۔ اسی میں ہے سواء قرء الامام قدر ما یجوز بہ الصلوۃ ام لاإنتقل الی آیۃ أخری أم لا تکرر الفتح ام لا ہو الاصح نہر‘‘ترجمہ : خواہ امام نے اتنی قرأت کر لی ہو جو نماز کے لئے کافی تھی یا نہ کی ہو ، خواہ وہ دوسری آیت کی طرف منتقل ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو ، لقمہ بار بار دیا ہو یا ایک ہی بار دیا ہو یہی اصح ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ص۳۷۱ج۶رضا فاؤنڈیشن لاہور ، ردالمحتارص۳۸۲مکتبہ امدادیہ ملتان ) سوال : امام تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا گیا اور دعاء قنوت پڑھنا بھول گیا پھر مقتدی کے لقمہ دینے پر رکوع سے واپس ہوا ، دعائے قنوت پڑھی پھر رکوع کیا اور آخر میں سجدہ سہوکیا تو نماز ہوئی یا نہیں ؟ الجواب بعون الملک الوھاب جو شخص دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ دعائے قنوت پڑھنے کے لئے رکوع سے پلٹے بلکہ حکم ہے کہ وہ نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے پھر اگر خود ہی یاد آجائے اور رکوع سے پلٹ کر دعائے قنوت پڑھے تو اصح یہ ہے کہ گناہ گار ہوا مگر نما زفاسد نہ ہوئی ۔ جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمن اسی قسم کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ’’ (رکوع میں ) تسبیح پڑھ چکا ہو یا ابھی کچھ نہ پڑھنے پایا ہو اُسے قنوت پڑھنے کے لئے رکوع چھوڑنے کی اجازت نہیں اگر قنوت کے لئے قیام کی طرف عود کیا گناہ کیا پھر قنوت پڑھے یا نہ پڑھے اُس پر سجدۂ سہو ہے ‘‘ (جبکہ بھول کر واپس آیا ہو) ۔ ( فتاوٰی رضویہ ص۲۱۲ج۸رضا فاؤنڈیشن لاہور) چنانچہ صورت مذکورہ میں مقتدی نے نماز کی اصلاح کی خاطر جو لقمہ دیاوہ درست نہ تھا کہ اس کا لقمہ دینا اس جگہ اصلاحِ نماز نہیں کہ خود امام کو منع ہے کہ وہ رکوع سے واپس لوٹے لھذااس نے بے محل لقمہ دیا جس کی بنا پر اس کی نماز فاسد ہوگئی پھر امام اس کے بتانے سے پلٹا تو امام کی بھی فاسد ہوگئی کہ اس نے اس کا لقمہ لیا جو نماز سے باہر تھااور اس کے سبب کسی کی بھی نماز نہیں ہوئی ۔ یہی حکم فتاویٰ فیض الرسول میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ (فتاوٰی فیض الرسول ص۳۸۶جلد اول شبیر برادرز لاہور) سوال : زید نماز پڑھا رہا تھا کہ دوران قرأ ت بھول گیا اس نے کہیں اور سے سورت شروع کر دی اس کے شروع کرنے کے بعد مقتدی نے لقمہ دیا ۔ لقمہ دینے والے کی نماز ہوئی یا نہیں ؟ الجواب بعون الملک الوھاب لقمہ دینے والے کی نماز ہو جائے گی جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت ، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالی عنہ فتاوٰی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں ، ’’ صحیح یہ ہے کہ جب امام قرأت میں بھولے مقتدی کو مطلقاًبتانا روا اگرچہ قدرِ واجب پڑھ لیا ہو اگرچہ ایک سے دوسرے کی طرف انتقال ہی کیا ہوکہ صورت اولیٰ میں گو واجب ادا ہو چکا مگر احتمال ہے کہ رکنے ، الجھنے کے سبب کوئی لفظ اس کی زبان سے ایسا نکل جائے جو مفسد نماز ہولہٰذا مقتدی کو اپنی نماز درست رکھنے کے لئے بتانے کی حاجت ہے ‘‘ (فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۵۸ج۷) ان قلت عبارۃ الھدایۃ صریحۃفی فساد الصلاۃ فی ھذہ الصورۃ حیث قال الامام المرغینانی رحمہ اللہ تعالی علیہ’’ لو کان الامام انتقل الی آیۃ اخری تفسد صلوۃ الفاتح و تفسد صلوۃ الامام لو اخذ بقولہ لوجود التلقین و التلقن من غیر ضرورۃ ۔ (ہدایہ اولین باب ما یفسد الصلوۃ ۱۳۶ مکتبہ شرکت علمیہ ملتان ) اقــول : ما ذکر صاحب الھدایۃھو مرجوح کما بینّھا امام اہل السنۃ مجدد الدین و الملۃالمفتی الحافظ القاری مولانا أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن عن حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی کما فی الفتاوٰی رضویہ (متن المنیۃ) و ان انتقل الامام الی آیۃ اخریٰ ففتح علیہ بعد الانتقال تفسد (شرح المنیۃ) لوجود التلقین من غیر ضرورۃ کذا فی الھدایہ و غیرھا و جعل صاحب الذخیرۃ ھذا محکیاعن القاضی الامام ابی بکر الزرنجری و انّ غیرہ من المشائخ قالوا لاتفسد کذا نقلوا عن المحیط وأخذ من ھذا صاحب النھایۃ أنّ عدم الفسادقول عامۃ المشائخ و وافقہ شیخنا رحمہ اللہ تعالی علی ذلک وھو الاوفق لاطلاق الرخص الذی رویناہ ملخصاً (فتاوٰی رضویہ ص۲۶۳ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور) وفی الھندیۃ ’’ أما اذا قرأ أوتحول ففتح علیہ تفسد صلوۃ الفاتح والصحیح أنھا لا تفسد صلوۃ الفاتح لکل حال ولا صلوۃ الامام لو أخذ منہ علی الصحیح ھکذا فی الکافی (فتاوی ھندیۃ ص۹۹ جلد اول مکتبہ حقانیہ پشاور ) سوال : زید تراویح پڑھا رہا تھا کہ دو رکعت پر تشہد میں بیٹھا ، پچھلی صفوں میں سے نمازیوں نے لقمہ دیا ان کے گمان میں ایک رکعت ہوئی تھی امام نے ان کا لقمہ نہیں لیا بلکہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرا لقمہ دینے والوں کی نماز ہوئی یا نہیں ؟ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مذکورہ میں جو لقمہ دیا گیا وہ بے محل دیا گیا اور بے حاجت لقمہ دینے کا حکم یہ ہے کہ ایسا لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جاتی ہے لہذا جنہوں نے لقمہ دیا ان کی نماز فاسد ہوگئی ۔ واللہ اعلم و رسولہ بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سوال : زیدنے عید کی امامت کے لئے تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھے اور ثناپڑھنے کے بعد قراء ت سے پہلے تکبیرکہنے کے بجائے قراء ت شروع کر دی یہاں تک کہ سورۃ الفاتحہ ختم ہو گئی اور دوسری سورت کی پہلی ہی آیت شروع کی تھی کہ زید کو لقمہ دیا گیا اور زید نے لقمہ لے کر تینوں تکبیریں کہیں اور الحمد سے پھر سے قراء ت شروع کر کے نماز ختم کی ، نماز کے بعد کچھ لوگوں نے کہا کہ نماز نہیں ہوئی مگر زید نے کہا کہ نماز ہو گئی کس کا موقف درست ہے ؟ الجواب بعون الملک الوھاب لقمہ دینے اور لینے والے بلکہ ساری جماعت ہی کی نماز نہ ہوئی کہ قوانین شریعت کی رو سے حکم یہ ہے کہ اگر پہلی رکعت میں امام تکبیرات زوائد بھول جائے تو سورۂ فاتحہ ختم ہونے تک یاد آجائے تو اسی وقت تکبیرات زوائد کہہ لے اورسورئہ فاتحہ کا اعادہ کرے لیکن اگر سورئہ فاتحہ پڑھنے کے بعد کوئی سورت شروع کر دے تو درمیان میں تکبیر نہ کہے بلکہ قراء ت مکمل کرنے کے بعد کہے جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ’’ان بدأ الامام بالقراء ۃ سہواً فتذکر بعد الفاتحۃ و السورۃ یمضی فی صلاتہ و ان لم یقر أ الا الفاتحۃ کبر و أعادالقراء ۃ لزومًا ۔ (ردالمحتار ص ۵۵ج۳مکتبہ امدادیہ ) اسی طرح فتاوٰی عالمگیری میں ہے ’’ اذا نسی الامام تکبیرات العید حتی قرأ فانہ یکبر بعد القراء ۃ أو فی الرکوع مالم یرفع رأسہ کذا فی التاتارخانیہ‘‘( فتاوٰی عالمگیری ۱۶۷ج اول قدیمی کتب خانہ) ترجمہ : جب امام تکبیرات عید بھول جائے یہاں تک کہ وہ قرأت شروع کر دے تو وہ قرأت کے بعد تکبیر کہے گایا رکوع میں کہے گا جب تک کہ سر نہ اٹھا لے اسی طرح تاتار خانیہ میں ہے ۔ لہذا امام پر لازم تھا کہ جب وہ سورت شروع کر چکا تو مقتدی کا لقمہ نہ لیتا اور قرأت مکمل کرنے کے بعد تکبیرات زوائد کہتا ۔ مگر اس نے لقمہ لیا تو حکم شرع کے خلا ف بے جا لقمہ لیا اور بے جا لقمہ دینے اور لینے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے پس صورت مذکورہ میں نماز فاسد ہو گئی ۔ صورت مذکورہ میں فساد نماز ہی کا حکم فتاوٰی فیض رسول میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ (فتاوٰی فیض رسول ص۴۸۶ج ۳ شبیر برادر لاہور) سوال : امام سے کوئی غلطی ہوئی مثلاً امام کو بیٹھنا تھامگر وہ کھڑا ہو گیااور کسی جاہل مقتدی نے امام کو آگاہ کرنے کی نیت سے کہا کہ’’ بیٹھ جاؤ ‘‘کیا مقتدی کی نماز پر کوئی اثر پڑے گا؟ الجواب بعون الملک الوھاب مقتدی کی نماز ٹوٹ گئی کہ نمازمیں کلام خواہ کسی بھی غرض سے ہو مفسد ِنماز ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے ’’اذا تکلم فی صلاتہ ناسیاًأو عامداخاطئاً أو قاصداقلیلا أو کثیرا تکلم لاصلاح صلاتہ بأن قام الامام فی موضع القعود فقال لہ مقتدی ’’اقعد ‘‘أو قعد فی موضع القیام فقال لہ ’’قم‘‘ ۔ (فتاوی ھندیہ ۱۰۹ج اول قدیمی کتب خانہ) ترجمہ : نماز میں گفتگو کرنا نماز کو فاسد کردیتا ہے خواہ بھول کر گفتگو کی ہو یا جان بوجھ کر خطا کے طور پر کی ہو یا قصداً کم کی ہو یا زیادہ، خواہ اس کی گفتگو نماز کی اصلاح ہی کے لئے کیوں نہ ہو مثلاً امام کو بیٹھنا تھا مگر کھڑا ہو گیا ، مقتدی نے کہا ’’بیٹھ جا‘‘یاکھڑا ہونے کا مقام تھا بیٹھ گیا، مقتدی نے کہا کھڑا ہو جا ۔ تب بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ سوال : تراویح یا پنجگانہ نماز میں امام بقدر کفایت تلاوت کر چکاتھا اس کے بعد قراء ت میں اسے بھول ہوئی مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لے لیا کیا لقمہ لینے کی وجہ سے امام کو سجدہ سہو بھی کرنا پڑے گا؟ الجواب بعون الملک الوھاب جی نہیں امام پر اس صورت میں سجدہ سہو نہیں ۔ سجدہ سہو اس وقت ہوتا ہے کہ جب کوئی نماز کا واجب بھولے سے رہ جائے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ’’لا یجب السجود الا بترک واجب أو تاخیرہ الی أن قالوا و فی الحقیقۃ وجوبہ بشیٔ واحد وھو ترک الواجب کذا فی الکافی‘‘ (فتاوی ھندیہ ص۶۵ج اول مکتبہ حقانیہ پشاور) ترجمہ : سجدہ سہو واجب کو چھوڑنے یا اس میں تاخیر کرنے سے ہی واجب ہوتا ہے آگے مزید ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ سجدہ سہو کا وجوب صرف ایک ہی صورت میں ہوتا ہے وہ ہے واجب کا ترک کرنا ۔ سوال : امام سے قراء ت میں بھول ہوئی مقتدی نے لقمہ دیا مگر امام نے نہ لیا تو کیا ایسی صورت میں لقمہ دینے والے کی نماز ہو جائے گی یا نہیں ؟ الجواب بعون الملک الوھاب اگر تو امام نے غلطی ایسی کی تھی کہ لقمہ لئے بغیر معنی درست نہ ہوتے ہوں تو کسی کی نماز نہ ہوئی نہ امام کی اور نہ ہی مقتدی کی لیکن اگرغلطی ایسی تھی جس سے معنی فاسد نہ ہوئے ہوں تو جس کا لقمہ امام نے نہ لیا اس کی نماز پر کوئی اثر نہ پڑا ۔ (ماخوذ از فتاوی امجدیہ ص۱۸۹ج اول) واللہ تعالی أعلم بالصواب ورسولہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طالب دعا سگ عطار الاحقر علی اصغر العطاری المدنی ۱۵ شعبان المعظم۱۴۲۶؁ھ شب چار بجے بمطابق ۲۰ستمبر ۲۰۰۵؁ء

مجلس المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے پیش کردہ قابلِ مطالعہ کتب

{شعبہ کتب ِ اعلیٰ حضرت } (۱) کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات : یہ کتاب (کفل الفقیہ الفاہم في أحکام قرطاس الدراہم) کی تسہیل وتخریج پر مشتمل ہے ۔ جس میں نوٹ کے تبادلے اور اس سے متعلق شرعی احکامات بیان کئے گئے ہیں ۔ (۲) ولایت کا آسان راستہ (تصورِ شیخ) : یہ رسالہ (الیاقوتۃ الواسطۃ) کی تسہیل وتخریج پر مشتمل ہے ۔ جس میں پیر ومرشد کے تصوّر کے موضوع پر وارد ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے ۔ (۳) ایمان کی پہچان (حاشیہ تمہید ِ ایمان) : اس رسالے میں تمہید ِایمان کے مشکل الفاظ کے معانی اورضروری اصطلاحات کی مختصر تشریحات درج کی گئی ہیں ۔ (۴) معاشی ترقی کا راز (حاشیہ و تشریح تدبیر فلاح ونجات واصلاح) : اس رسالے میں پورے عالم اسلام کے لیے چار نکات کی صورت میں معاشی حل پیش کیا گیا ہے ۔ (۵) شریعت وطریقت : یہ رسالہ (مقال العرفاء بإعزاز شرع وعلمائ) کا حاشیہ ہے ۔ اس عظیم رسالے میں شریعت اور طریقت کو الگ الگ ماننے والے جاہلوں کی صحیح رہنمائی کی گئی ہے ۔ (۶) ثبوتِ ہلال کے طریقے (طرق إثبات ہلال) : اس رسالے میں چاند کے ثبوت کے لیے مقرر شرعی اصول وضوابط کی تفصیلات کا بیان ہے ۔ (۷) عورتیں اور مزارات کی حاضری : یہ رسالہ (جمل النور في نہي النساء عن زیارۃ القبور) کا حاشیہ ہے ۔ اس رسالے میں عورتوں کے زیارتِ قبور کے لیے نکلنے سے متعلق شرعی حکم پر وارد ہونے والے اعتراضات کے مسکت جوابات شامل ہیں ۔ (۸) اعلیٰ حضرت سے سوال جواب(إظہار الحقّ الجلي) : اس رسالے میں امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ الرحمن پر بعض غیر مقلّدین کی طرف سے کیے گئے چندسوالات کے مدلل جوابات بصورت ِ انٹرویودرج کئے گئے ہیں ۔ (۹) عیدین میں گلے ملنا کیسا؟ یہ رسالہ (وشاح الجید في تحلیل معانقۃ العید) کی تسہیل وتخریج پر مشتمل ہے ۔ اس رسالے میں عیدین میں گلے ملنے کو بدعت کہنے والوں کے رد میں دلائل سے مزیّن تفصیلی فتویٰ شامل ہے ۔ (۱۰) راہِ خداعز وجل میں خرچ کرنے کے فضائل : یہ رسالہ (رادّ القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقرائ) کی تسہیل وتخریج پر مشتمل ہے ۔ یہ رسالہ پڑوسیوں اور فقراء سے خیرخواہی اوروباء کو ٹالنے کے لیے صدقہ کے فضائل پر مشتمل احادیث وحکایات کابہترین مجموعہ ہے ۔ شائع ہونے والے عربی رسائل : از امام اہل سنت مجدد دین وملت مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن (۱) کفل الفقیہ الفاھم ۔ (۲) تمہید الایمان ۔ (۳) الاجازات المتینۃ ۔ (۴) اقامۃ القیامۃ ۔ (۵) الفضل الموھبی ۔ (۶) اجلی الاعلام ۔ (۷) الزمزمۃ القمریۃ {شعبہ اصلاحی کتب } (۱) خوف ِخدا عزوجل : اس کتاب میں خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ سے متعلق کثیر آیاتِ کریمہ ، احادیث ِ مبارکہ اور بزرگانِ دین کے اقوال واحوال کے بکھرے ہوئے موتیوں کو سلک ِ تحریر میں پرونے کی کوشش کی گئی ہے ۔ (۲) انفرادی کوشش : اس کتاب میں نیکی کی دعوت کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لئے انفرادی کوشش کی ضرورت ، اسکی اہمیت ، اس کے فضائل اور انفرادی کوشش کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے ۔ علاوہ ازیں اسلاف کی انفرادی کوشش کے ’’۹۹‘‘ منتخب واقعات کو بھی جمع کیا گیا ہے جس میں بانی ٔ دعوتِ اسلامی امیرِ اہلِ سنت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے ’’۲۵ ‘‘ واقعات بھی شامل ہیں نیز کتاب کے آخر میں انفرادی کوشش کے عملی طریقے کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں ۔ (۳) شاہراہ اولیائ : یہ رسالہ سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ کی تصنیف ’’منہاج العارفین‘‘ کا ترجمہ وتسہیل ہے ۔ اس رسالے میں امام غزالی علیہ الرحمۃ نے مختلف موضوعات کے تحت منفرد انداز میں غور وفکریعنی’’فکرِ مد ینہ‘‘ کرنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے ۔ مثلاً انسان کو چاہئے کہ دن اور رات پر غور کرے کہ جب دن کی روشنی پھیل جاتی ہے تو رات کی تاریکی رخصت ہوجاتی ہے اسی طرح جب نیکیوں کا نور انسان کو حاصل ہوجائے تو اس کے اعضاء سے گناہوں کی تاریکی رخصت ہوجاتی ہے ۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت غور کرے کہ کس عظمت والے رب عزوجل کے گھر میں داخل ہو رہا ہے ؟ اسی طرح عبادت کرتے وقت غور کر ے کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ تو رب تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائی ، علی ھذا القیاس ۔ (۴) فکرِ مدینہ : اس کتاب میں فکر ِمدینہ (یعنی محاسبے ) کی ضرورت ، اسکی اہمیت ، اس کے فوائداور بزرگانِ دین کی فکرِ مدینہ کے ’’131‘‘ واقعات کو جمع کیا گیا ہے جس میں بانی ٔ دعوتِ اسلامی امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے ۴۱ واقعات بھی شامل ہیں نیز مختلف موضوعات پر فکرِ مدینہ کرنے کا عملی طریقہ بھی بیان کیا گیا ہے ۔ (۵) امتحان کی تیاری کیسے کریں ؟ اس رسالے میں اُن تمام مسائل کا حل بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ایک طالب علم کو امتحانات کی تیاری کے دوران درپیش ہوسکتے ہیں ۔ یہ رسالہ بنیادی طور پردرسِ نظامی کے طلباء اسلامی بھائیوں کو مدِ نظر رکھ کر لکھاگیا ہے ، لیکن اسکول وکالج میں پڑھنے والے طلباء (Students) کے لئے بھی یکساں مفید ہے ۔ اس لئے انفرادی کوشش کرنے والے اسلامی بھائیوں کو چاہئے کہ وہ یہ رسالہ اِن طلباء تک بھی پہنچائیں کیونکہ اس رسالہ میں اپنے مدنی مقصد’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ، ان شاء اللہ عزوجل ‘‘ کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے بہت سے مقامات پر نیکی کی دعوت بھی پیش کی گئی ہے ۔ (۶) نمازمیں لقمہ دینے کے مسائل : نماز میں لقمہ دینے کے مسائل پر مشتمل ایک کتاب جس میں مختلف صورتوں کا حکم اکابرین رحمہم اللہ کی کتابوں سے ایک جگہ جمع کرنے کی سعی کی گئی ہے تا کہ عوام الناس کی ان مسائل تک آسانی سے رسائی ہو سکے اور اس مسئلہ کے بارے میں لوگوں میں جو مختلف قسم کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان کا ازالہ ہو سکے ۔ (۷) جنت کی دوچابیاں : اس کتاب میں پہلے جنت کی نعمتوں کا بیان کیا گیا ہے ، پھر سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی جانب سے زبان وشرم گاہ کی حفاظت سے متعلق دی گئی ایک بشارت ذکر کی گئی ہے ۔ اس کے بعد تفصیلاً بتایا گیا ہے کہ ہم اس ضمانت کے حق دار کس طرح بن سکتے ہیں ۔ حسب ِ ضرورت شرعی مسائل بھی ذکر کئے گئے ہیں ۔ امیدِ واثق ہے کہ زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کے بارے میں ایک مقام پر اتنی تفصیل آپ کو کسی دوسری کتاب میں نہ ملے گی ۔ ذلک فضل اللّٰہ العظیم (۸) کامیاب استاذ کون؟ اس کتاب میں ان تمام امور کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق ِ تدریس سے ہوسکتا ہے مثلاً سبق کی تیاری، سبق پڑھانے کا طریقہ ، سننے کا طریقہ علی ھذا القیاس ۔ یہ کتاب بنیادی طور پر شعبہ درسِ نظامی کو مدِ نظر رکھ کر لکھی گئی ہے لیکن حفظ وناظرہ کے اساتذہ بھی معمولی ترمیم کے ساتھ اس سے بخوبی فائدہ اٹھا سکتے ہیں نیز اسکول وکالجز میں پڑھانے والے اساتذہ کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ فائدے سے خالی نہیں ہے ۔ (۹) نصاب مدنی قافلہ : اس کتاب میں مدنی قافلہ سے متعلق امور کا بیان ہے ، مثلاً مدنی قافلہ کی اہمیت ، مدنی قافلہ کیسے تیار کیا جائے ، مدنی قافلہ کا جدول ، اس جدول پر عمل کس طرح کیا جائے ، امیر قافلہ کیسا ہونا چاہئیے ؟ علاوہ ازیں موضوع کی مناسبت سے امیرِ اہل ِ سنت بانی دعوت ِ اسلامی مدظلہ العالی کے عطا کردہ مدنی پھول بھی اس کتاب میں سجادئیے گئے ہیں ۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد کتاب ہے ۔ (۱۰) حسنِ اخلاق : یہ کتاب دنیائے اسلام کے عظیم محدث سیدنا امام طبرانی علیہ الرحمۃ کی شاہکار تألیف ’’مَکارمُ الاخلاق‘‘‘ کا ترجمہ ہے ۔ اس کتاب میں امام طبرانی علیہ الرحمۃ نے اخلاق کے مختلف شعبوں کے متعلق احادیث جمع کی ہیں ۔ امید ِ واثق ہے کہ یہ کتاب شب وروز انفرادی کوشش میں مصروف رہنے والے اسلامی بھائیوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوگی ان شاء اللہ عزوجل ۔ (۱۱) فیضانِ احیاء العلوم : یہ کتاب امام غزالی علیہ الرحمۃ کی مایہ ناز کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘کی تلخیص و تسہیل ہے جسے درس دینے کے انداز میں مرتب کیا گیا ہے ۔ اخلاص ، مذمت دنیا ، توکل ، صبر جیسے مضامین پر مشتمل ہے ۔ (۱۲) راہِ علم : یہ رسالہ ’’تعلیم المتعلم طریق التعلم ‘‘ کا ترجمہ وتسہیل ہے جس میں ان امور کا بیان ہے جن کی رعایت راہ علم پر چلنے والے کے لئے ضروری ہے ۔ اور ان باتوں کاذکر ہے جن سے اجتناب معلم ومتعلم کے لئے ضروری ہے ۔ (۱۳) حق وباطل کا فرق : یہ کتاب حافظ ملت عبدالعزیز مبارکپوری رحمہ اللہ کی تالیف ہے ’’جسے حق وباطل کا فرق ‘‘کے نام سے شائع کیا گیا ہے ۔ مصنف علیہ الرحمۃ نے عقائد حقہ وباطلہ کے فرق کو نہایت آسان انداز میں سوالاً جواباً پیش کیا ہے جس کی وجہ سے کم تعلیم یافتہ لوگ بھی اس کا آسانی سے مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ (۱۴) تحقیقات : یہ کتاب فقیہ اعظم ہند ، مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃتالیف ہے ، تحقیقی انداز میں لکھی گئی اس کتاب میں بدمذھبوں کی طرف سے وارد ہونے والے اعتراضات کے تسلی بخش جوابات دئیے گئے ہیں ۔ متلاشیانِ حق کے لئے نور کا مینارہ ہے ۔ (۱۵) اربعین حنفیہ : یہ کتاب فقیہ اعظم حضرت علامہ ابویوسف محمد شریف نقشبندی علیہ الرحمۃ کی تالیف ہے ۔ جس میں نماز سے متعلق چالیس احادیث کو جمع کیا گیا ہے اور اختلافی مسائل میں حنفی مذہب کی تقویت نہایت مدلل انداز میں بیان کی گئی ہے ۔ (۱۶) بیٹے کو نصیحت : یہ امام غزالی علیہ الرحمۃ کی کتاب’’ایھاالولد ‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔ بچوں کی تربیت کے لیے لاجواب کتاب ہے اس میں اخلاص، مذمت مال اور توکل جیسے مضامین شامل ہیں ۔ (۱۷) طلاق کے آسان مسائل : اس فقہی کتاب میں مسائل طلاق کو عام فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے جس کی بنا پر طلاق سے متعلق عوام الناس میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا کافی حد تک ازالہ ہوسکتاہے ۔ (۱۸) توبہ کی روایات وحکایات : اس کتاب کی ابتداء میں توبہ کی ضرورت کا بیان ہے ، پھر توبہ کی اہمیت وفضائل مذکورہیں ۔ اس کے بعد تفصیلاً بتایا گیا ہے کہ سچی توبہ کس طرح کی جاسکتی ہے ؟اور آخر میں توبہ کرنے والوں کے تقریباً 55واقعات بھی نقل کئے گئے ہیں ۔ امیدِ واثق ہے کہ یہ کتاب اصلاحی کتب میں بہترین اضافہ متصور ہوگی ۔ ان شاء اللہ عزوجل (۱۹) الدعوۃ الی الفکر (عربی) : یہ کتاب محقق جلیل مولانامنشاء تابش قصوری مدظلہ العالی کی مایہ ناز تالیف ’’دعوت ِ فکر ‘‘کا عربی ترجمہ ہے جس میں بدمذہبوں کو اپنی روش پر نظرثانی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ (۲۰) آداب مرشدِ کامل (مکمل پانچ حصے ) : فی زمانہ ایک طرف ناقص اورکامل پیر کا امتیاز مشکل ہے تو دوسری طرف جو کسی کامل مرشِد کے دامن سے وابستہ ہیں بھی تو انہیں اپنے مرشِد کے ظاہری و باطنی آداب سے آشنائی نہیں ۔ اِن حالات میں اس بات کی اَشَد ضَرورت مَحسوس ہوئی کہ کوئی ایسی تحریرہو جس سے شریعَت کی روشنی میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ناقص اور کامل مرشِد کی پہچان بھی ہو سکے اور کامل مرشِد کے دامن سے وابستگان آدابِ مرشِد سے مطلع ہوکر ناواقفیت کی بنا پر طریقت کی راہ میں ہونے والے ناقابلِ تصور نقصان سے بھی مَحفوظ رہ سکیں ۔ اس حقیقت کو جاننے اور مرشِدِ کامل کے آداب سمجھنے کیلئے آدابِ مرشِدِ کامل کے مکمل پانچ حصوں پرمشتمل اس کتاب میں شریعَت و طریقت سے متعلق ضَروری معلومات پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ {شعبہ درسی کتب } (۱) تعریفاتِ نحویہ : اس رسالہ میں علم نحو کی مشہور اصطلاحات کی تعریفات مع امثلہ و توضیحات جمع کردی گئی ہیں ۔ اگر طلباء ان تعریفات کا استحضار کر لیں تو علمِ نحو کے مسائل وابحاث سمجھنے میں بہت سہولت رہے گی، ان شاء اللہ عزوجل ۔ (۲) کتاب العقائد : صدر الافاضل حضرت علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃ کی تصنیف کردہ اس کتاب میں اسلامی عقائد اور حدیث ِ پاک کی روشنی میں قیامت سے پہلے پیدا ہونے والے تیس جھوٹے مدعیان ِ نبوت (کذّابوں ) میں سے چند کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ یہ کتاب کئی مدارس کے نصاب میں بھی شامل ہے ۔ (۳) زبدۃ الفکرشرح نخبۃ الفکر : یہ کتاب فن ِاصول حدیث میں لکھی گئی امام حافظ علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ کی بے مثال تالیف ’’نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر ‘‘کی اردو شرح ہے ۔ اس شرح میں قوت وضعف کے اعتبار سے حدیث کی اقسام ، ان کے درجات اور محدثیں کی استعمال کردہ اصطلاحات کی وضاحت درج کی گئی ہے ۔ طلبہ کے لئے انتہائی مفید ہے ۔ (۴) شریعت میں عرف کی اہمیت : یہ رسالہ امام سید محمد امین بن عمر عابدین شامی علیہ الرحمۃ کے عرف سے متعلق تحریر کردہ عربی رسالے ’’نشر العرف فی بناء بعض الاحکام علی العرف ‘‘کا عربی ترجمہ ہے ۔ تخصص فی الفقہ کے طلباء اس کا ضرور مطالعہ کریں ۔ (۵) اربعین النوویہ(عربی) : علامہ شرف الدین نووی علیہ الرحمۃ کی تالیف جو کہ کثیر مدارس کے نصاب میں شامل ہے ۔ اس کتاب کو خوبصورت انداز میں شائع کیا گیا ہے ۔ (۶) نصاب التجوید : اس کتاب میں درست مخارج سے حروف ِ قرآنیہ کی ادائیگی کی معرفت کا بیان ہے ۔ مدارس دینیہ کے طلبہ کے لئے بے حد مفید ہے ۔ {شعبہ تراجم کتب } ان رسائل کے عربی تراجم شائع ہوچکے ہیں : (۱) بادشاہوں کی ہڈیاں (عظام الملوک) (مولف : بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ) (۲) مردے کے صدمے (ھموم المیت ) (مولف : بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ) (۳) شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ ، (مولف : بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ) (۴) ضیائے درودوسلام(ضیاء الصلوۃ والسلام ) مولف : بانی دعوت اسلامی مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ان رسائل کے فارسی تراجم شائع ہوچکے ہیں : (۱) ضیائے درودوسلام، (مولف : بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ) (۲) غفلت ، (مولف : بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ) (۳) ابوجہل کی موت ، (مولف : بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ) (۴) احترام مسلم ، (مولف : بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی ) (۵) دعوتِ اسلامی کا تعارف ۔ اس کے علاوہ امیر اہل سنت مدظلہ العالی کے کئی رسائل کے سندھی تراجم بھی شائع ہوچکے ہیں ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن