30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے اور نہ اس میں جانا ضَروری ہے ۔ اگر کوئی سنَّت کی نیت اور سنَّت کے مُطابق ولیمہ کرے تو اس کی دعوت قبول کرنا اور اس میں جانا سنَّت ہے ([1]) مگر اس صورت میں بھی کھانا کھانے نہ کھانے کا اِختیار ہے ۔ ([2])آج کل تو لوگوں کو ولیمے کا پتا ہی نہیں ہے اس لیے وہ شادی سے پہلے جو دعوت کرتے ہیں اسے بھی ولیمہ کہتے ہیں۔
ولیمے کی دعوت غریبوں اور مسکینوں کو دینا ضَروری نہیں مالداروں، عزیزوں اور رِشتے داروں کو بھی دے سکتے ہیں، البتہ اس دعوت کا کھانا اچھا نہیں ہوتا جس میں غریب اور مسکین شامل نہ ہوں([3]) لہٰذاولیمے کی دعوت میں غریبوں اور مسکینوں کو ہونا چاہیے ۔ غریبوں کو دھکے ماریں اور مالداروں کو خوش آمدید کہیں ایسا نہ کریں بلکہ ولیمے میں کچھ نہ کچھ غریبوں کو شامل کیا جائے اور حصولِ برکت کے لیے ساداتِ کرام کو بھی دعوت پیش کی جائے اور جب وہ آئیں تو ان کا اچھا اِستقبال کیا جائے ، انہیں اچھی جگہ بٹھایا جائے اور ان کو پوچھابھی جائے ورنہ ہمارے یہاں مالداروں اور خاص خاص رِشتہ داروں کو پوچھتے ہیں او ر گرما گرم کھانا نکال کر دیتے ہیں۔ ایسا نہ ہو جن(آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)کے صَدقے آپ آج کھا پی رہے ہیں اور آپ نے بلڈنگ بنائی اور فیکٹری لگائی ہے اُن کی آل کو آپ نہ پوچھیں اور غریب بے چارے کو بھی کونے میں بٹھادیں جبکہ مالداروں کو پوچھتے ر ہیں لہٰذا پہلے سَیِّد اور پھر اس کے بعد غریب کو پوچھیں اور پھر مالدار کو پوچھنا ہے یا نہیں ؟یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد دُرُود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش)
نئے مکان کی بنیادوں میں بکرے کا خون ڈالنا کیسا؟
سُوال: نیا گھر بنانے سے پہلے ایک لاکھ دُرُودِ پاک پڑھیں یا بکرا صَدقہ کریں یا بکرا ذَبح کر کے اس کا خون مکان کی
[1] بہارِ شریعت، ۳/۳۹۱-۳۹۲، حصہ:۱۶ ملخصاً۔
[2] مسلم، کتاب النکاح، باب الامر باجابة الداعی الی دعوة، ص ۵۷۵، حدیث:۳۵۱۸۔
[3] حدیثِ پاک میں ہے :بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيْمَةِ، يُدْعَى اِلَيْهِ الْاَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِيْنُ یعنی بَدترین کھانا وہ ولیمہ کا کھانا ہے جس کے لیے مالدار تو بلائے جائیں اور مساكين چھوڑ دیئے جائیں۔
(مسلم، کتاب النکاح، باب الامر باجابة الداعی الٰی دعوة، ص ۵۷۶، حدیث:۳۵۲۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع