30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آخر میں ”ن“سے پہلے ” ی “لگا دیتے تھے جس کے معنیٰ ہیں”اے ہمارے چرواہے “یہود مَعَاذَ اللّٰہ مذاق اُڑانے کے لیے اِس طرح کہتے تھے تو اللہپاک کو یہ ناپسند ہوا اور قرآن ِکریم کی یہ آیت اُتری:) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-) ([1])ترجمۂ کنز الایمان:”اے ایمان والو رَاعِنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو۔ “دیکھیے ! صحابۂ کِرامرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم سے اِس بات کا تصور بھی نہ تھا کہ وہ نَعُوْذُ بِاللہ ”رَاعِیْنَا “کہتے ہوں مگر پھر بھی انہیں(رَاعِنَا)کہنے سے منع کر دیا گیا اور فرمایا گیا کہ اس کی جگہ (اُنْظُرْنَا)یعنی ہم پر نظر فرمائیے کہو(2) جیسا کہ آج کل ہم ”یَارَسُوْلَ اللہِ اُنْظُرْ حَالَنَا“کہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم سے فرمایا گیا: (وَ اسْمَعُوْا)پہلے ہی سے توجہ کے ساتھ سُنوتاکہ دوبارہ کہلوانے کی ضَرورت نہ پڑے ۔ ہمارے یہاں تو بات سمجھنے کے باوجود ”جی ، جی “کہہ کر دوبارہ کہلوانے کی عادت ہوتی ہے اور یوں لوگ فضول بلواتے ہیں۔ یاد رہے ! جو دوبارہ بول رہا ہے اس کے حق میں ایک طرح سے یہ فضول نہیں ہے کہ وہ تو سمجھا رہا ہے ۔ جن لوگوں کی دوبارہ کہلوانے کی عادت ہوتی ہے ان کی یہ عادت سمجھانے سے کم ہی جاتی ہے اور ان کے منہ سے ”جی “یا”کیاکہا“نکل ہی جاتا ہے حالانکہ وہ سمجھ چکے ہوتے ہیں۔ میرا تجربہ ہے اور کئی بار میں نے نوٹ کیا ہے کہ میں جب کوئی بات ایک بار بولتا ہوں اور سامنے والااسے دوبارہ کہلوانے کے لیے ”کیا“ کہتا ہے تو میں چُپ ہو جاتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ سمجھ چکاہے تو پھر وہ ”اچھا اچھا “بولتا ہے یعنی وہ سمجھ چکا ہوتا ہے ۔ بعض اوقات سامنے والا واقعی نہیں سمجھا ہوتا اور وہ دوبارہ کہلوانے کے لیے ”کیا کہا“وغیرہ کہتا ہے ۔
کیا نکاح کے بعد وَلیمہ ضَروری ہے ؟
سُوال:کیا نکاح کے بعد وَلیمہ ضَروری ہے ؟نیز وَلیمے میں زیادہ غُربا کو دعوت دینی چاہیے یا مخصوص رِشتہ داروں کو ؟
جواب:ولیمہ سنَّت ہے اور نکاح کے بعد جب رُخصتی ہوجاتی ہے تو پہلی رات گزارنے کے بعد دو دِن کے اندر اندر مثلاً آج پہلی رات گزاری تو کل کا دِن اور پَرسوں کا دن اِن دو دنوں کے اندر اندر اگر ولیمہ سنَّت کی نیت سے کیا جائے تو سنَّت ہے (3) اور اگر ولیمے کی دعوت میں گانے باجے ہیں یا ولیمہ فخر و تَفاخر یعنی لوگوں کو دِکھانے کی نیت سے ہے تو پھر یہ سنَّت نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع