30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال:کیا یہ بات دُرُست ہے کہ کسی کو بے چارہ نہیں کہنا چاہیے ؟
جواب:آپ نے شاید یہ سُنا ہو گا کہ کسی کو بَدقسمت نہیں کہناچاہیے کیونکہ جس کے پاس اِیمان کی دولت ہو وہ کیسے بَدقسمت ہو سکتا ہے ؟ رہی بات بے چارہ کہنے کی تو اس میں حرج نہیں ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے بھی لکھا ہے :اے چارۂ بے چارگاں، یعنی اے بے چاروں کے چارہ۔ لفظِ چارہ کے معنیٰ علاج اور بے چارہ کے معنیٰ بے کس ، بے بس اور غریب و مسکین کے ہیں تو یوں لفظِ بے چارہ مشکل میں گھرے ہوئے ، آفت زدہ اور پریشان حال شخص کے لیے اِستعمال ہوتا ہے ، البتہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے یہ لفظ اِستعمال نہیں کر سکتے ۔ اِسی طرح سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو یتیم، مسکین اور فقیر بھی نہیں کہہ سکتے ۔ ([1])یاد رَکھیے !سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے لیے خود جو کچھ اِرشاد فرمائیں وہ عاجزی ہے اور ہم اگر کسی حدیث کو دہرائیں اور اس میں ایسے الفاظ آئیں تو وہ الگ چیز ہے ورنہ جیسے ہم ایک دوسرے کو بے چارہ کہہ دیتے ہیں ایسے نہیں کہہ سکتے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی شان بہت عظیم ہے ۔ یاد رہے !نعت کے اَشعار میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے لفظِ ”دُرِّیتیم“اِستعمال ہوتا ہے تو ”دُرِّ یتیم “اور ”یتیم“میں فرق ہے ۔ دُرِّ یتیم اس موتی کوکہتے ہیں جو بہت ہی قیمتی اور نایاب ہو اور اسے انمول موتی بھی کہہ سکتے ہیں یعنی جس کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔
نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو”رَاعِنَا“کہنا منع ہے
اگرچہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بکریوں کو اپنے دِیدار کا خوب موقع عنایت فرمایا اور اپنا بہت قرب بخشاجسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بکریاں چرائیں لیکن جو لفظ لوگ بکریاں چرانے والے کے لیے اِستعمال کرتے ہیں وہ لفظ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے اِستعمال کرنا حرام ہے یعنی اگر عام آدمی بکریاں چرائے گا تو اسے چرواہا کہا جائے گا لیکن یہ لفظ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے شایانِ شان نہیں ہے ۔ صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے عرض کرتے تھے :”رَاعِنَا“یعنی ہماری رعایت فرمائیے ۔ اس وقت جو یہود تھے وہ توہین کی نیت سے ”رَاعِیْنَا“کہتے تھے یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع