30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبھی کتاب کھولی ہے تو ایسی صورت میں آپ کو شرعی مَسائل کیسے پتا چلیں گے ؟کیا سارے شرعی مَسائل آپ کے دِل میں اِلہام ہوں گے ؟یاد رَکھیے ! ہم سیکھنے والے بنیں تو بتانے والے موجود ہیں ۔
سجدے میں ناک کی ہڈی زمین پرلگنا واجب ہے
سجدے میں ناک کی ہڈی زمین پر لگنا واجب ہے ، اگر صرف ناک کی نوک لگائی تو سجدہ ہو جائے گا مگر نماز مکروہِ تحریمی ہو گی۔ ([1])بعضوں کو جب نیا نیا مسئلہ پتا چلتا ہے تو بے چارے ناک کی ہڈی لگانے میں زور لگاتے ہیں اور ناک پر داغ بنا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ہڈی لگانا ہے حالانکہ اگر ناک کی نوک کو بھی دبائیں گے تب بھی ہڈی لگ جائے گی لہٰذا اتنا تکلف کرنے کی ضَرورت نہیں ہے ۔
سُوال:سجدے میں جانے کا دُرُست طریقہ کیا ہے ؟([2])
جواب:جب سجدے میں جائیں تو پہلے گھٹنے ، پھر ہاتھ، پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر لگے کہ یہ ترتیب سنَّت ہے مگر بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوتی ہے ۔ جب سجدے سے اُٹھیں گے تو اِس ترتیب کا اُلٹ ہو گا یعنی پہلے پیشانی ، پھر ناک ، پھر ہاتھ اور پھر گھٹنے اُٹھیں گے ۔ ([3]) نیز زمین پر ٹیک لگا کر بھی سجدے سے نہ اُٹھیں، البتہ اگر کمزوری ہے یا پاؤں میں کوئی تکلیف ہے جس کے باعث بغیر ٹیک لگائے نہیں اُٹھ سکتے تو ہاتھ سے ٹیک لگا سکتے ہیں ورنہ ہاتھ سے ٹیک لگانا بھی منع ہے ۔ گھٹنوں کے بَل اُٹھنا بہترین وَرزِش ہے ۔ سجدے میں پاؤں کی 10 اُنگلیوں میں سے کم از کم ایک اُنگلی کا پیٹ یعنی جو حصہ چلتے ہوئے زمین پر لگتا ہے اس کا زمین پر لگنا فرض ہے اور دونوں پاؤں کی اکثر اُنگلیوں یعنی 10 میں سے کم از کم چھ اُنگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا واجب ہے اور دسوں اُنگلیوں کا پیٹ زمین پر لگ جائے اور سب اُنگلیاں مُڑ کر قبلے کی طرف ہو جائیں یہ سنَّت ہے ۔ ([4])
[1] فتاویٰ ھندیة، کتاب الصلاة، الباب الرابع فی صفة الصلاة، ۱/۷۰۔ فتاویٰ رضویہ، ۳/۲۵۳ ۔
[2] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[3] فتاویٰ ھندیة، کتاب الصلاة، الباب الرابع فی صفة الصلاة، الفصل الثالث، ۱/۷۵۔
[4] بہارِ شریعت، ۱/۵۳۰، حصہ:۳۔ فتاویٰ رضویہ، ۷/۳۷۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع