30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمہارے نام پر ہوگا(یعنی محمد یا اَحمد ہو گا) تو میں اسے عذاب نہیں دوں گا۔ ([1])پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جس کا نام اَحمد یا محمد ہو وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔ ([2])
جو چاہتے ہو کہ ہو سرد آتشِ دوزخ
دِلوں پر نقش محمد کا نام کر لینا
مُعاشرے سے بے سُکونی ختم نہ ہونے کی وجہ
سُوال: ہم نماز پڑھتے ہیں، صَدقات دیتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور دِیگر سارے نیک کام کرتے ہیں لیکن پھر بھی بے سکونی بہت زیادہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ مُعاشرے سے بے سُکونی ختم نہیں ہوتی؟
جواب: ایک تو ہمارا نیتوں کا مسئلہ ہوتا ہے اور دوسرا اِخلاص کی بھی کمی ہے ۔ نیز ہم جو عبادات بجا لاتے ہیں ان میں بھی بہت کوتاہیاں ہوتی ہیں اور پھر یہ خوش فہمی بھی ہے کہ ہم سارے نیک کام کرتے ہیں حالانکہ”سارے نیک کاموں“ کی تعدادہمیں معلوم نہیں ہے ۔ یاد رہے ! کامیابی اُسی صورت میں ہوتی ہے کہ بندہ بہت سارا عمل کرتا ہو اور یوں سمجھے کہ میں کچھ بھی نہیں کرتا یعنی جو کچھ بھی نہیں ہے وہ حقیقت میں بہت کچھ ہے اور جو اپنے آ پ کو بہت کچھ سمجھے وہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ بہرحال مُعاشرے میں جو بَداَمنی یا بے چینی ہے اِس کی وجہ اِخلاص کی کمی ، نفسا نفسی ، لوٹ مار کا ذہن ، اَخلاق کا تباہ ہونا ، دوسروں کی ہمدردی جاتے رہنا، یا شیخ اپنی اپنی دیکھ کا ماحول ہونا اور کثیر نفع کھینچنا ہے یہاں تک کہ غریب بے چارہ کل مَرتا ہو بھلے آج مَرجائے مگر ہماری جیب میں پیسے آجائیں، ہماری تجوری بھر جائے اور ہمارا بینک بیلنس بڑھ جائے تو اِس طرح ہم موت کو بھلائے بیٹھے ہیں اور ظاہر ہے جو موت کو بھلا دیتا ہے اُس کا دِل سخت ہو جاتا ہے تو یہ سب بَدامنی اور بے چینی کے اَسباب ہیں ۔ بے شک نماز روزہ عبادتیں ہمیں کرنی ہی کرنی ہیں لیکن ان کے علاوہ اپنے دِل اور اپنی سوچوں کی بھی اِصلاح کرنی ہے کیونکہ سوچیں گناہوں اور بُرائیوں میں بھٹکتی ، ان کی پلاننگ کرتی اور وَسوسے پالتی رہتی ہیں تو یوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع