30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال:بچوں کو ذہین بنانے کا کوئی طریقہ بتا دیجیے ۔
جواب:جو دَسترخوان سے دانے چُن کر کھائے گا اس کی اَولاد خوبصورت، عقل مند اور بے عیب پیدا ہو گی۔ ([1]) ہمارے یہاں تو کھانا اُٹھا کر ڈسٹ بین میں ڈال دیتے ہیں، جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کی اَولاد کیسے عقل مند ہو گی؟ حالانکہ کھاتے وقت جو دانے دَسترخوان پر گِریں وہ بھی اُٹھا کر کھالیے جائیں ۔ نیز ہڈی پر جو گرم مصالحہ وغیرہ لگا ہوا ہو اسے بھی اچھی طرح چوس چاٹ لینا چاہیے ، کھانے کا کوئی بھی کھایا جانے والا حصہ چاہے وہ مصالحہ ہو یا پیازاور ٹماٹر وغیرہ ضائع نہ کیا جائے ۔ عموماً ٹماٹر نکال کر پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ ٹماٹر بہت مہنگا آتا ہے ، یہ بھی کھائی جانے والی چیز ہے ، اس میں طاقت ہوتی ہے اور یہ وٹامنز سے بھرپور ہوتا ہے ۔ نیز حدیثِ پاک میں ہے : تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔ ([2])اگر آدھا دانہ ہی ضائع ہوگیا اور اسی میں برکت ہوئی تو وہ برکت کو بھی ساتھ لے جائے گا، اگر ہم پلیٹ صاف نہیں کرتے باوجود یہ کہ اس میں غذائی اجزاء موجود ہیں تو ہوسکتا ہے برکت انہیں اَجزاء میں ہو اور ہم انہیں ضائع کر دیں لہٰذا کھانا ایسے کھائیں کہ آخر میں اُنگلیاں بھی چاٹ لیں تاکہ ان پر کھانے کا کوئی اثر باقی نہ رہے ۔
افسوس!ہم ایسا نہیں کرتے یا تو سُستی ہوجاتی ہے یا ذہن نہیں بنتا یا پھر ایسا کرتے ہوئے شرم آتی ہے حالانکہ لوگ گناہ کرتے ہوئے نہیں شرماتے اور ہم سنَّت پر عمل کرتے ہوئے شرماتے ہیں! کسی سے پوچھو داڑھی کیوں نہیں رکھی ؟ تو جواب ملتا ہے یار شرم آتی ہے ۔ پوچھا جائے کہ عمامہ کیوں نہیں باندھتے ؟ تو جواب ملتا ہے کہ شرم آتی ہے ۔ لوگ چوراہے پر کھڑے ہو کر گالیاں نکالتے ہیں ان کو شرم نہیں آتی، یہ لوگ اللہ پاک اور اس کے رَسُول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے نہیں شرماتے تو ہم سنَّت پر عمل کرتے ہوئے ان سے کیوں شرماتے ہیں؟ افسوس ہماری سوچ کیسی بن گئی ہے ، اللہ کرے ہماری مَدَنی سوچ بن جائے ۔ عقل قربان کن بہ پیش مصطفے ٰ، ہماری عقلیں مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قدموں پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع