30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قدموں کا دھوون پی لیا گویا اس نے آبِ حیات پی لیا اب وہ کبھی نہیں مَرے گا۔ یعنی جسم اگرچہ مَرکر ختم ہو جائے اور قبر میں ڈال دیا جائے لیکن اس کو ولایت کا ایسا تاج مل جائے گا کہ وہ اَمر ہو جائے گا، اَمر یہ گجراتی زبان کا لفظ ہے یعنی وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ نام تو بہت سوں کے زندہ ہیں مثلاً یزید کا نام بھی زندہ ہے مگر وہ پلید ہے اور امامِ عالی مقام حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُکا نام بھی زندہ ہے لیکن وہ پاک ہے ۔ پاک حالت میں نام زندہ ہونا بھی یقیناً خوبی ہے ورنہ فرعون، ہامان، نمرود اور قارون کے نام بھی زندہ ہیں لیکن ان کا زندہ ہونا عبرت کے لیے ہے اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں۔
جس کے تلووں کا دھوون ہے آبِ حیات
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی (حدائقِ بخشش)
”مسیحا“حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا لقب ہے ، اِس کا مطلب ہے طبیب۔ پہلے طبیب کو بھی ”مسیح“ کہہ دیا جاتا تھا لیکن اب یہ لفظ طبیب کے لیے بولنا رائج نہیں ہے ۔ جانِ مسیحا کا مطلب ہوگا کہ ہمارے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ایسے طبیب ہیں کہ آپ حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی بھی جان ہیں۔
اک دِل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جِلا دیئے ہیں (حدائقِ بخشش)
کافر چلتے پھرتے مُردہ ہیں، میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کو اِیمان کی دولت عطا کرکے ان چلتے پھرتے مُردوں کو حقیقت میں زندہ کر دیا ہے ۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ عرض گزار ہیں: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب آپ نے چلتے پھرتے مُردوں کو زندہ کردیا ہے تو ہمارے مَرے ہوئے دِلوں کی حقیقت آپ کے سامنے کیا ہے ، ان پر بھی ایک نظر ڈال دیجئے کہ یہ بھی زندہ ہوجائیں۔
سُوال:کیا یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر شہرت عزت نہیں ہوتی؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب:بے شک ایسا ہی ہے ورنہ شیطان کو کتنی شہرت حاصِل ہے مگر عزت نہیں ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع