اِخلاص پیدا کرنے کے گیارہ (11)طریقے:
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

نورانی قندیل اس کے سر پر ہے،  دونوں یہ منظر دیکھتے رہے  اور روتے رہے۔ صبح ہوئی تو انہوں نے غلام کو بلا کر کہا: ’’ تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر آزاد ہو تاکہ تم جو عذر پیش کر رہے تھے وہ دور ہوجائے اور یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالٰی کی‏عبادت کر سکو۔ ‘‘  غلام نے یہ سنا تواپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض کرنے لگا:  ’’ اے صاحبِ راز عَزَّ وَجَلَّ! راز تو کھل گیا، اب راز کھلنے کے بعد میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ ‘‘  پس اسی وقت وہ مخلص وعبادت گزار غلام گرا اور اس کی رُوح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔([1])

مِرا ہر عمل بس تِرے واسطے ہو …  کر اِخلاص ایسا عطا یاالٰہی

اِخلاص پیدا کرنے کے گیارہ (11)طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے : ‏کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  فرماتے ہیں : ’’ اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو،  تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔ ‘‘ ([2])لہٰذا خود کو اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔

(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے: ‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں ۔

البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تعالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا اِرادہ نہیں ۔([3])

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے: ‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے: کہ اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔

(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے: ‏نفس لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح اُسےشہرت،  تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں ،  لیکن تنہائی میں رِضائے الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔

(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے: ‏عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں ،  لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے،  نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

(7)اپنی نیکیوں کو چھپائیے : ‏کہ نیکیوں کا چرچا ہی نفس کوریاکاری،  حب مدح اور طلب شہرت جیسی باطنی بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے جو اخلاص کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہیں ،  بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن  بھی اپنی نیکیوں کو چھپایا کرتے تھے،  چنانچہ حضرت سیدنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگا ہ میں عرض کی گئی: ’’ رات میں آپ کی نماز کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ ‘‘ آپ اس بات سے سخت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!  رات کا ایک حصہ چھپ کر نماز پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے اس بات سے کہ میں ساری رات نماز ادا کروں ،  پھر لوگوں میں اسے بیان کرتا پھروں ۔ ‘‘ ([4]) اسی طرح حضرت سیدنا ابو بکر مروزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں :  ’’ میں چار ماہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی صحبت میں رہا،  آپ نہ تو رات کا قیام چھوڑتے،  نہ ہی دن کی قراءت چھوڑتے،  اس کے باوجود اُسے چھپا لیا کرتے۔ ‘‘ ([5])

(8) اِخلاص کے فضائل کو پیش نظر رکھیے: ٭اِخلاص کے ساتھ عمل کرنا مؤمن کی نشانی ہے۔٭جو بندہ چالیس دن خالص رِضائے الٰہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اُس کے دل سے اُس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں ۔٭جو شخص خالص رِضائے الٰہی کے لیے عمل کرتا ہے وہ شیطان کے مکروفریب سے بچ جاتاہے۔ ٭ اِخلاص کے ساتھ مانگی جانے والی دعائیں مقبول ہوتی ہیں ۔٭بعض بزرگانِ دِین کے نزدیک اِخلاص کے ساتھ کیا جانے والا عمل ستر حج سے بڑھ کر ہے۔٭ایک بزرگ فرماتے ہیں : ’’ خلوت میں اِخلاص کے ساتھ دو رکعت پڑھنا ستر یا سات سو اَحادیث عالی سند کے ساتھ لکھنے سے بہتر ہے۔ ‘‘ ٭ایک بزرگ فرماتے ہیں :  ’’ گھڑی بھر کے اِخلاص میں اَبدی نجات ہے۔ ‘‘  ٭اخلاص نیکیوں پراُبھارتا



   [1]   مکاشفۃ القلوب،  الباب الحادی عشر،  فی طاعۃ اللہ ومحبۃ رسولہ،  ص۳۹۔

   [2]   اتحاف السادۃ المتقین،  کتاب النیۃ و الاخلاص،  الباب الاول فی النیۃ،  ۱۳ / ۲۰۔

   [3]   منہاج العابدین،  ص۴۴۵ماخوذا۔

    [4] الزھد لاحمد بن حنبل ،  اخبار عبد اللہ بن عمر،  ص۲۱۵،  رقم:۱۱۰۶۔

    [5] صفۃ الصفوۃ،  احمد بن محمد بن حنبل،  ۲ / ۲۲۳،  رقم:۲۶۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن