30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب زاہد کو کچھ افاقہ ہوا، اس نے آنکھیں کھولیں اور پوچھا: تم نے مجھ سے کچھ کہا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ، میں نے تم کو کلمہ کی تلقین کی تھی مگر تم نے دومرتبہ منہ پھیر لیا اور تیسری مرتبہ کہا: ’’ میں نہیں کہتا۔ ‘‘ زاہد نے کہا: بات یہ ہے کہ میرے پاس شیطان پانی کا پیالہ لے کر آیا اور دائیں طرف کھڑا ہو کر مجھے وہ پانی دکھاتے ہوئے کہنے لگا تمہیں پانی کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: ہاں ! کہنے لگا: کہو: ’’ عیسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام )اللہ کے بیٹے ہیں ۔ ‘‘ میں نے منہ پھیر لیا تو دوسرے رخ کی طرف سے آکر کہنے لگا، میں نے منہ پھیر لیا، جب اس نے تیسری مرتبہ ’’ عیسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام ) اللہ کے بیٹے ہیں ۔ ‘‘ کہنے کو کہا تو میں نے کہا: ’’ میں نہیں کہتا۔ ‘‘ اس پر وہ پانی کا پیالہ زمین پر پٹخ کر بھاگ گیا۔ میں نے تو یہ لفظ شیطان سے کہے تھے، تم سے تو نہیں کہے تھے ۔پھر وہ کلمۂ شہادت کا ذکر کرنے لگا۔([1])
شیطان کی مخالفت پر اُبھارنے کے چھ (6)طریقے:
(1)شیطان کے مقاصد پر غور کیجئے: شیطان کی مخالفت پر کمربستہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اس کے مقاصد معلوم ہوں کیونکہ جب ہمیں اس کے ناپاک عزائم کا علم ہوگا تو ہمارے دل میں اس کے لیے نفرت پیدا ہوگی اور اس کی مخالفت کا ذہن بنے گا۔ شیطان کے چند مقاصد ہیں : (۱) بندے سے اس کا ایمان چھیننا تاکہ وہ دائمی طورپر جہنم کا حقدار بن جائے، اگر ایمان نہ چھین سکے تو پھر اس کا مقصد ہوتا ہے کہ (۲) بندے کو فسق و فجور میں مبتلا کرے، اگر یہ اپنے اس مقصد میں بھی کامیاب نہ ہوتو پھر اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ (۳) بندےکو نیک اعمال سے روکے تاکہ وہ اعلیٰ مرتبہ کو نہ پہنچ سکے۔ لہٰذا انسان کو شیطان کے مذموم مقاصد اپنے ذہن میں رکھنے چاہئیں تاکہ دل میں اس کی مخالفت کا جذبہ پیدا ہو۔([2])
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کیجئے: شیطان اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دُشمن ہے اسی لیے وہ ہمارا بھی دُشمن ہے اور ہمیں اس کی مخالفت کرنی ہے، جب ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّاور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے محبت کریں گے تو اُن کی اطاعت کریں گے اور اُن کی اطاعت ہی شیطان کی مخالفت ہے۔
(3)نیک لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے: صحبت انسان کی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے اگر بندہ گناہوں میں منہمک رہنے والے افراد کی صحبت میں بیٹھے گا تو اس کے لیے خود کو گناہوں سے بچانا اور اچھے اعمال کرکے شیطان کی مخالفت کرنا بہت دُشوار ہوگا لیکن اگر بندہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا تو اس کے لیے نیکیاں کرنا اور بُرائیوں سے بچ کر شیطان کی مخالفت کرنا آسان ہوگا۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ بُرے لوگوں کی صحبت سے بچتا رہے اور ہمیشہ نیک پرہیزگار لوگوں کی صحبت اختیار کرے۔
(4)شیطان کے فریب کو جاننے کی کوشش کیجئے: شیطان کی مخالفت کرنے کے لیے اس کے مکر و فریب کو جاننا بہت ضروری ہے، بعض اوقات شیطان نیکی کی آڑ میں بُرائی کو پیش کرتا ہے کیونکہ جب وہ بظاہر بندے کو گناہ کی طرف بلانے پر قادر نہیں ہوتا تو گناہ کو نیکی کی صورت میں پیش کرتا ہے اور بندے کو گناہ میں مشغول ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔ مثلاً عالم کو نصیحت کے پیرا ئے میں کہتا ہے: کیا تم خلق خدا کی طرف نظر نہیں کرتے کہ وہ جہالت کی وجہ سے تباہ ہوئے جارہے ہیں اور غفلت کی وجہ سے ہلاکت کے قریب پہنچ گئے ہیں ، کیا تم انہیں ہلاکت سے نہیں بچاؤ گے؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہیں علم، فصیح زبان اور بہترین انداز سے نوازا ہے تمہیں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنی چاہیے، اِس طرح پہلے وہ بندے کو نیکی دعوت دینے پر راضی کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ اس کے دل میں ریاکاری، خودپسندی، تکبر و غرور، حُبّ جاہ اور دیگر باطنی بُرائیاں پیدا کردیتا ہے اور اسے اس کا علم ہی نہیں ہوتا، بندہ اپنے گمان میں نیکی کررہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ گناہوں کے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے، لہٰذا شیطان کی مخالفت کرنے کے لیے اس کے مکر و فریب کا علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ اس سے بچا جاسکے۔
(5) اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کیجئے: شیطان کی مخالفت کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لیے اس کے وسوسوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے اور شیطانی وسوسوں سے نجات کا بہترین ذریعہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر ہے۔حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ شیطان اِبن آدم کے دل پر اپنی سونڈ رکھے ہوئے ہوتا ہے اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بھول جائے تو فورًا اُس کے دل پر غالب آجاتا ہے۔([3])حضرت سیدنا قیس بن حجاج رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میرے شیطان نے مجھ سے کہا: ’’ میں تم میں داخل ہوتے وقت فربہ اونٹنی کی مانند تھا اور اب چڑیا کی طرح ہو گیا ہوں ۔ ‘‘ میں نے پوچھا: ’’ ایسا کیوں ؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ تم ذِکرُاللہ کے ذریعے مجھے پگھلاتے رہتے ہو۔ ‘‘ ([4])
(6)بھوک سے کم کھائیے: پیٹ بھرکر کھانا شیطان کی مخالفت میں رُکاوٹ بنتا ہے کیونکہ کھانا اگرچہ حلال اور شبہ سے پاک ہو مگر اسے پیٹ بھرکر کھانے سے شہوات کو تقویت ملتی ہے اور شہوات شیطان کے ہتھیار ہیں ۔ منقول ہے کہ زیادہ کھانے میں چھ خرابیاں ہیں : (۱) دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف نکل جاتاہے۔ (۲) دل میں مخلوق کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا کیونکہ وہ سبھی کو پیٹ بھرا گمان کرتا ہے۔ (۳) عبادت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ (۴) علم و حکمت کی بات سن کر دل میں رقت پیدا نہیں ہوتی۔ (۵) خود حکمت و نصیحت کی بات کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں پر اس کا اثر نہیں ہوتا اور (۶) اس کے سبب کئی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔([5])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
| قرآن مجید | کلامِ الٰہی | ۔۔۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع