30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: (وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷)) (پ۲۱، الروم: ۴۷)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اورہمارے ذمۂ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔ ‘‘ ([1])
(2)مسلمان کی بے عزتی کرنے کی وعیدوں پر غور کیجئے: مسلمان کی بے عزتی کرنا بہت بُرا فعل ہے اور اُس کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے۔ بےعزتی کرنے کی مختلف صورتیں ہیں : مسلمان کا مذاق اُڑانا، گالی دینا، چغلی لگانا، بہتان تراشی کرنا، جہاں اس کی عزت کی جاتی ہو وہاں اسے ذلیل کرنا، غیبت کرنا یا اس کی غیبت ہورہی ہو تو قدرت کے باوجود نہ روکنا بھی بے عزتی میں شامل ہے۔ اگر کسی مسلمان کو ذلیل و رُسوا کیا جارہا ہو تو دوسرے مسلمان پر لازم ہے کہ اس کا دفاع کرے اگر قدرت کے باوجود اس کی حمایت نہیں کرے گا تو خود بھی گناہ گار ہوگا۔ (۱) حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ سود 70گناہوں کامجموعہ ہے اور ان میں سب سے کم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے بدکاری کرے اور سود سے بڑھ کرگناہ مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔ ‘‘ ([2]) (۲) فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’ جس کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس کی مدد پر قادِر ہو اور مدد کرے، اللہ تعالٰی دنیا اور آخِرت میں اس کی مدد کرے گا اور اگر باوُجُودِ قدرت اس کی مدد نہیں کی تو اللہ تعالٰی دنیا اورآخِرت میں اسے پکڑے گا۔ ‘‘ ([3])
(3)حقوق العباد ادا کرنےکا ذہن بنائیے: حقوق العباد کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے اور ان کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اِحترامِ مسلم صحیح طورپر بجالانے کے لیے مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی بہت ضروری ہے اور ان حقوق میں والدین، بہن بھائی، رشتہ دار، پڑوسی، دوست احباب کے حقوق بھی شامل ہیں اگر بندہ ان تمام حقوق کو کامل طورپر ادا کرنے کا ذہن بنائے تو اس کے سبب اس کے دل میں اِحترامِ مسلم کا جذبہ بیدار ہوگا کیونکہ یہ ہی وہ تمام حقوق ہیں جن کو پورا کرنے سے اِحترامِ مسلم ادا ہوتا ہے۔
(4)حُسن اخلاق اپنائیے: حُسن اخلاق ایسی صفت ہے کہ جو اِحترامِ مسلم کی اصل ہے کیونکہ حسن اخلاق اچھائیوں کی جامع ہے، حسن اخلاق سے متصف انسان ایثار، دل جوئی، سخاوت، بُردباری، تحمل مزاجی، ہمدردی، اخوت و رواداری جیسی اعلیٰ صفات سے متصف ہوتا ہے اور یہ ہی وہ صفات ہیں جن سے انسان میں اِحترامِ مسلم کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(39)…مُخالفتِ شیطان
اللہ تعالٰی کی عبادت کرکے شیطان سے دشمنی کرنا، اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں شیطان کی پیروی نہ کرنا اور صدقِ دِل سے ہمیشہ اپنے عقائدو اَعمال کی شیطان سے حفاظت کرنا مخالفت شیطان ہے۔([4])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے: ) وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)( (پ۲، البقرۃ: ۱۶۸) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بیشک وہ تمہارا کھلا دُشمن ہے۔ ‘‘ ایک اور مقام پرفرمانِ باری تعالٰی ہے: (اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ-) (پ۲۲، فاطر: ۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو۔ ‘‘
(حدیث)مبارکہ، شیطان کی مخالفت:
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہمیں سمجھانے کے لیے ایک لکیر کھینچی اور ارشاد فرمایا: ’’ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا راستہ ہے، پھر اس لکیر کے دائیں بائیں متعدد لکیریں کھینچیں اور ارشاد فرمایا: ’’ یہ مختلف راستے ہیں ، ان میں سے ہر ایک پر ایک شیطان ہے جو لوگوں کو اس پر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ ‘‘ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: (وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ))(پ۸، الانعام: ۱۵۳)ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور، اور راہیں نہ چلو۔([5])
علامہ عبد الرحمٰن بن علی جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ شیطان مردود کی مخالفت اللہ تعالٰی کے عذاب سے بچادیتی ہے اور اللہ تعالٰی کے اولیاء کے ساتھ جنت میں اعلیٰ مقام عطا کردیتی ہے اور اس مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ تم ربُّ العالمین کی زیارت کرسکو گے۔ ‘‘ ([6])
(41)(حکایت)موت کے وقت شیطان کی مخالفت:
زکریا نام کا ایک مشہور زاہد گزرا ہے، شدید بیماری کے بعد جب اس پر سکرات کا عالم طاری ہوا تو اس کے دوست نے اسے کلمہ کی تلقین کی مگر اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا، دوست نے دوسری مرتبہ تلقین کی لیکن اس نے اِدھر سے اُدھر منہ پھیر لیا، جب اس نے تیسری مرتبہ تلقین کی تو اس زاہد نے کہا: ’’ میں نہیں کہتا۔ ‘‘ دوست یہ سنتے ہی بیہوش ہوگیا، کچھ دیر بعد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع