30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرض کی: ’’ مؤمن کون ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ مؤمن وہ ہے کہ جس سے دوسرے مؤمن اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں ۔ ‘‘ ([1])
اِحترامِ مسلم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں ہر مسلمان کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جائے اور بلا اجازتِ شرعی کسی بھی مسلمان کی دِل شِکنی نہ کی جائے۔ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی کسی مسلمان کا دل نہ دُکھایا، نہ کسی پر طنز کیا، نہ کسی کا مذاق اڑایا، نہ کسی کو دُھتکارا، نہ کبھی کسی کی بے عزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا۔([2])
(40)(حکایت)اِحترامِ مسلم کا عظیم جذبہ:
حضرت سیدنا شیخ ابو عبداللہ خیاط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دُکان پر بیٹھ کر کپڑے سلائی کرتے تھے، ایک آتش پرست (آگ کی پوجا کرنے والا) آپ سے کپڑے سِلواتا اور ہر بار اُجرت میں کھوٹے سکے دے جاتا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموشی سے رکھ لیتے اور کھوٹے سکوں کے متعلق کچھ کہتے نہ ہی واپس لوٹا تے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کسی کام سے کہیں چلے گئے آپ کی غیر موجودگی میں وہ آتش پرست آیا، آپ کو نہ پاکر شاگرد کو کھوٹے سکے دے کر اپنا کپڑا مانگا۔ شاگرد نے کھوٹے سکے دیکھے تو لینے سے انکار کردیا۔ آپ واپس تشریف لائے تو شاگرد نے سارا ماجرا بیان کیا۔ یہ سُن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ تم نے بُرا کیا، یہ آتش پرست کئی سال سے مجھے کھوٹے سکے ہی دیتا آرہا ہے، میں اس نیت سے لے کر رکھ لیتا اور کنویں میں ڈال دیتا ہوں کہ کہیں وہ اِن سے دوسرے مسلمانوں کو دھوکا نہ دے۔ ‘‘ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِحترامِ مسلم بجالانے کے لیے مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی بہت ضروری ہے، مسلمانوں کے بعض حقوق ایسے ہیں جو ہر مسلمان سے تعلق رکھتے ہیں یعنی چاہے گھروالے ہوں ، رشتہ دار ہوں ، والدین ہوں یا دوست احباب ہوں ، ان کا تعلق ہر مسلمان سے ہے لہٰذا اِحترامِ مسلم کی ادائیگی کے لیے چند حقوق ملاحظہ کیجئے:
(1)جو اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے، جو اپنے لیے ناپسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے ناپسند کرے۔ (2)اپنے قول وفعل سے کسی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچائے۔ (3) ہر مسلمان کے ساتھ عاجزی سے پیش آئے اور کسی پر تکبر نہ کرے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی متکبر اور اِترانے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ (4) ایک دوسرے کے خلاف باتیں نہ سنے اور نہ ہی کسی کی بات دوسروں تک پہنچائے۔ (5)جس مسلمان کے ساتھ جان پہچان ہے اگر اس کے ساتھ ناراضی ہو جائے تو تین دن سے زیادہ بول چال ترک نہ کرے۔(6)جس قدر ممکن ہو ہر مسلمان کے ساتھ اچھا سلوک کرے خواہ وہ حُسن سلوک کا مستحق ہو یا نہ ہو۔(7)کسی مسلمان کے ہاں اجازت لیے بغیرداخل نہ ہو بلکہ تین بار اجازت طلب کرے اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جائے۔(8)ہر ایک سے حسن اخلاق کے ساتھ پیش آئے اور ان کے مقام و مرتبے کا خیال رکھتے ہوئے ان سے معاملات کرے کیونکہ اگر وہ جاہل کےساتھ علمی، ان پڑھ کے ساتھ فقہی اور کم پڑھے لکھے کے ساتھ فصاحت و بلاغت سے بھرپور گفتگو کرے گا تو انہیں بھی تکلیف دے گا اور خود بھی تکلیف اُٹھائے گا۔ (9)بڑوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئے اور بچوں پر شفقت و مہربانی کا معاملہ کرے۔ (10)تمام مخلوق کے ساتھ ہشاش بشاش نرم مزاج رہے۔ (11) کسی مسلمان کے ساتھ وعدہ کرے تو وفا کرے۔(12)لوگوں کے ساتھ اپنی طرف سے منصفانہ رویہ اپنائے اور انہیں وہ نہ دے جو خود نہیں لینا چاہتا۔(13)جس شخص کی ہیئت اور کپڑے اس کے بلند مرتبہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں اس شخص کی عزت و اکرام زیادہ کرے اور لوگوں کے ساتھ ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق پیش آئے۔ (14)جس قدر ممکن ہو مسلمانوں کے درمیان صلح کروائے۔ (15)مسلمانوں کی پردہ پوشی کرے۔ (16)تہمت کی جگہوں سے بچے تاکہ لوگوں کے دل اس کے بارے میں بدگمانی کا شکار نہ ہوں اور زبانیں اس کی غیبت کرنے سے محفوظ رہیں ، کیونکہ جب لوگ اس کی غیبت کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کے مرتکب ہوں گے تو وہ اس نافرمانی کا سبب ہونے کی وجہ سے اس میں شریک ہوگا۔(17)ہر حاجت مند مسلمان کی اپنی وجاہت کے باعث جائزسفارش کرے اور جس قدر ممکن ہو اس کی حاجت روائی کی کوشش کرے۔ (18)ہر مسلمان کے ساتھ بات کرنے سے پہلے سلام کرے اور سلام کے وقت مصافحہ کرے۔ (19)جہاں تک ممکن ہو اپنے مسلمان بھائی کی عزت اور اس کے جان و مال کو دوسروں کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھے۔ اپنی زبان اور ہاتھ کے ذریعے اس کا دفاع کرے اور اس کی مدد کرے کیونکہ اسلامی بھائی چارہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔ (20)مسلمان کی چھینک کا جواب دے۔ (21) اگر کسی شریر سے سامنا ہو جائے تو تحمل مزاجی سے کام لے اور اس کے شر سے بچے۔ (22) اغنیاء کے ساتھ میل جول سے اجتناب کرے، مساکین کے ساتھ میل رکھے اور یتیموں کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آئے۔ (23)ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرے اور اس کے دل میں خوشی داخل کرنے کی کوشش کرے۔(24)مسلمان کی عیادت کرے۔ (25)مسلمانوں کے جنازے میں شرکت کرے۔ (26)قبورِ مسلمین کی زیارت کرے۔([4])
احترامِ مسلم کا جذبہ پیدا کرنے کے چار (4)طریقے:
(1)احترامِ مسلم کی فضیلت پر غور کیجئے: مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا اور ان کا احترام کرنا بہت فضیلت کی بات ہے، ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ اسلامی رشتہ ہے جس کی وجہ سے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا اکرام کرے اور اس کی عزت کی حفاظت کرے اور ہمیشہ اس کی بے حرمتی سے بچتا رہے اور اگر کوئی دوسرا شخص مسلمان کی بےعزتی کرے یا اُسے تکلیف پہنچائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے اور اس کی عزت پامال نہ ہونے دے۔ چنانچہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی حفاظت کی اللہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن اس سے جہنم کا عذاب دور فرما دے گا۔ ‘‘ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع