30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ڈھیل ہے۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(۴۴)) (پ۷، الانعام: ۴۴)) ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب انہو ں نے بھلادیا جو نصیحتیں اُن کو کی گئیں تھیں ہم نے اُن پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملاتو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیااب وہ آس ٹو ٹے رہ گئے۔([1])
اللہ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کا حکم:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت پر بھروسہ کرتے ہوئے گناہوں میں مستغرق ہوجانا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہونا کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘ ([2]) لہٰذا ہر مسلمان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرنا واجب ہے۔
(39)(حکایت)اللہ کی خفیہ تدبیر سے پناہ:
حضرتِ سیدنا قاسم بن محمد بن ابوبکر عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْبَر سے منقول ہے کہ جنگ قادسیہ کے بعد حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین، خلیفۃالمسلمین حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف کسریٰ (یعنی ایران کے بادشاہ) کی تلوار، قمیص، تاج، پٹکا اور دیگر اشیاء بھیجیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کی طرف دیکھا تو ان میں حضرتِ سیِّدُناسُرَاقَہ بن مالِک بن جُعْشُم مُدْلِجِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی موجود تھے، وہ بہت طاقتوراور طویل القامت تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ اے سُرَاقَہ! اٹھو اور یہ لباس پہن کر دکھاؤ ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سُرَاقَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ میرے دل میں پہلے ہی خواہش تھی۔ چنانچہ میں کھڑا ہوا اور شاہِ ایران کا لباس پہن لیا۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے دیکھاتو فرمایا: ’’ اب دوسری جانب منہ کرو۔ ‘‘ میں نے ایسا ہی کیا۔ فرمایا: ’’ اب میری طرف منہ کرو۔ ‘‘ میں آپ کی طرف مُڑگیا توفرمایا: ’’ واہ بھئی واہ ! قبیلہ مُدْلِج کے اس جوان کی کیا شان ہے! دیکھو تو سہی، شاہِ ایران کا لباس پہن کر، اس کی تلوارگلے میں لٹکا کر کیسالگ رہا ہے! اےسُرَاقَہ! اب جس دن تونے شاہِ ایران کا لباس پہنا وہ دن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے شرف والا تصور کیا جائے گا، اچھا! اب یہ لباس اُتار دو۔ ‘‘ پھر امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ خدا وندی عَزَّ وَجَلَّ میں اس طرح عرض گزار ہوئے: ’’ اے میرے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ! تُونے اپنے نبی ورسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس (دُنیوی مال) سے منع فرمایا، حالانکہ وہ تیری بارگاہ میں مجھ سے کہیں زیادہ محبوب ہيں اور مجھ سے بہت زیادہ بلند وبالا ہیں ۔ پھر تُونے امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی اس (مال) سے منع فرمایا، حالانکہ وہ تیری بارگاہ میں مجھ سے زیادہ بلند مرتبے والے ہيں ۔پھر تُونے مجھے مال عطا فرما دیا۔ اے ميرے پاک پر وردگار عَزَّ وَجَلَّ! اگر تیری طر ف سے یہ خفیہ تدبیر ہے تومیں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘‘ یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا: ’’ شام سے قبل اس تمام مال کو غرباء میں تقسیم کردو۔ ‘‘ ([3])
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کا ذہن بنانے کے چھ (6)طریقے:
(1)انبیاء و اولیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے احوال پر غور کرنا چاہیے: اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے انبیاء کرام عَلَیْہِ السَّلَام ، فرشتے اور اولیاء کرام بھی خوف زدہ رہتے ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبی اور فرشتے معصوم ہیں ، ان سے اللہ تعالٰی کی نافرمانی ممکن نہیں جبکہ ہم سراپا خطا ہیں ، ہمارے جسم کا ہر ذرہ گناہوں سے آلودہ ہے، ہماری زندگی کا بہت بڑا حصہ غفلت میں گزر رہا ہے جبکہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام اور فرشتوں کا ہر لمحہ خدا کی بندگی میں بسر ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے غافل نہ ہوں اور ہم ہر وقت ربّ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی اور سرکشی میں منہمک ہونے کے باوجود اپنے بارے میں مطمئن رہیں ، بلاشبہ یہ ہمارے لیے نہایت خطرے کی بات ہے، ہمیں ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ چنانچہ منقول ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رو رہے تھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے وحی فرمائی کہ تم دونوں کیوں رو رہے ہو حالانکہ میں تمہیں امان دے چکا ہوں ؟ عرض کی: ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیری خفیہ تدبیر سے کون بے خوف ہوسکتا ہے؟ ‘‘ ([4])
(2)بُرے خاتمے کا خوف کیجئے: ہر مسلمان کو بُرے خاتمے سے ڈرنا چاہیے کہ بُرے خاتمے کا خوف دل میں بٹھانے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر کا خوف بھی دل میں بیٹھ جائے گا اور کوئی بھی اپنی موت کے معاملے میں کیسے مطمئن ہو سکتا ہے؟ کیونکہ کوئی شخص اس بات سے واقف نہیں کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا کفر پر اور انسان کی پوری زندگی کا دارو مدار خاتمے پر ہی ہے اسی لیے اگر کوئی شخص ساری زندگی کفر پر رہا مگر موت سے چند لمحے پہلے اسے ایمان کی دولت نصیب ہوگئی تو وہ بامُراد و کامیاب ہوگیا اور جو شخص ساری زندگی اسلام پر رہا اور خوب عبادت و ریاضت کرتا رہا لیکن مرنے سے کچھ دیر قبل مَعَاذَ اللّٰہ کافر و مرتد ہوگیا تو ایسا شخص تباہ و برباد اور ہمیشہ کے لیے نار جہنم کا مستحق ہے، برے خاتمے کا معاملہ تو اتنا نازک ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے معصوم نبی بھی اس سے خوف زدہ رہتے تھے اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے اُن کا ایمان محفوظ تھا مگر پھر بھی وہ اس بارے میں بےحد متفکر رہا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیدنا سَہل بن عبداللہ تُستری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : خواب میں خود کو میں نے جنت میں پایا، جہاں میں نے300انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے ملاقات کی اور ان سب سے یہ سوال کیا کہ آپ حضرات دنیا میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف زدہ تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ بُرے خاتمے سے۔ ‘‘ ([5])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع