30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے پہلے آپ کا انتقال ہوا۔([1])٭ایک مرتبہ حضرت سیدنا کَعْب قُرَظَی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کو بہت مال ملا تو آپ سے کہا گیا: کیاہی اچھا ہو اگر آپ اپنے بعد اپنی اولاد کے لیےاسے ذخیرہ کر لیں ؟ انہوں نے فرمایا: نہیں ! بلکہ میں اسے اپنے لئے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ذخیرہ کروں گا اور اپنی اولاد کو اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کروں گا۔([2])
(5)مال سے بے رغبتی حضور خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا طریقہ ہے: حضرت سیدنا ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھےمیرے ربّ نے اس بات کی پیشکش کی کہ وہ میرے لیے وادیٔ مکہ کو سونے کا بنادے لیکن میں نے عرض کی: اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ! میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن کھانا کھاؤں ، جس دن بھوکا رہوں اس دن تیری بارگاہ میں عاجزی اور دعا کروں اور جس دن کھانا کھاؤں اس دن تیری حمد وثنا اورشکربجا لاؤں ۔ ‘‘ ([3])
(6)مال سے بے رغبتی کے فوائد میں غور کیجئے: ٭مال سے بے رغبتی زہد وقناعت پیدا کرتی ہے۔٭مال سے بے رغبتی نیک اَعمال میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ ٭مال سے بے رغبتی کے باعث آدمی حرص وطمع سے بچ جاتا ہے۔٭مال سے بے رغبتی سادگی پیدا کرتی ہے۔٭مال سے بے رغبت شخص کو لوگ پسند کرتے ہیں ۔٭مال سے بے رغبتی تقویٰ پر اُبھارتی ہے۔٭مال سے بے رغبتی انبیائے کرام عَلَیْہِ السَّلَام اور بزرگانِ دِین کا طریقہ ہے۔٭مال سے بے رغبتی کے سبب آدمی بخل سے بچ جاتا ہے۔٭مال سے بے رغبتی کے باعث آدمی مال جمع کرنے کی آفت سے بچ جاتا ہے۔
(7)مال سے بے رغبتی کے لئے اس کی آفات اور ہلاکتوں میں غور کیجئے: ٭ مال آدمی کو گناہ کے راستے پر ڈال دیتا۔٭ عموماً مال کےسبب آدمی عیش وعشرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔٭مال آخرت سے غافل کردیتا ہے۔٭مال کے باعث اِنسان حرص وطمع میں پڑجاتا ہے۔٭مالدار آدمی کو اپنے مال کی حفاظت کی فکر لگی رہتی ہے۔٭مال کے سبب آدمی لمبی امیدوں اور خواہشات کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے۔٭زیادہ مال والے کو اپنے مال کا حساب بھی زیادہ دینا پڑے گا۔٭زیادہ دیر تک میدان محشر میں کھڑا رہنا پڑے گا۔٭اپنے مال کی زکوٰۃنہ دینے والے کو آخرت میں طرح طرح کے عذابات کا سامناہوگا۔٭مال کی رغبت آدمی کو فعل حرام میں بھی مبتلا کردیتی ہے۔٭مالدار کے ذمہ لوگوں کے بہت سے حقوق ہوتے ہیں ۔٭مالداری آدمی کو ناشکری میں ڈال دیتی ہے۔ ٭مالدار ی سرکشی کا باعث بھی بنتی ہے ۔
(8)مال ودولت کی حرص کا خاتمہ کیجئے: دُنیوی مال کی حرص مؤمن کے لئے بہت ہی خطرناک ہے اگر اس کی روک تھام نہ کی جائےتو بسا اوقات یہ دُنیوی بربادیوں کے ساتھ ساتھ اُخروی ہلاکتوں کی طرف بھی لے جاتی ہے ، لہٰذا اسے ختم کرکے مال سے بے رغبتی اور زُہد اختیار کیجئے۔
(9)قیامت کے حساب وکتاب سے خود کو ڈرایئے: ضرورت اور حاجت سے زائد مال کمانا اگرچہ جائز ہے لیکن یاد رکھیے جس کا مال جتنا زیادہ ہوگا قیامت کے روز اس کا حساب وکتاب بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔زیادہ مال ودولت والے کو کل بروزِ قیامت دُشواری اور تکلیف کا سامنا ہوگا اوراُسے دیر تک میدان محشر میں ٹھہرنا پڑے گا جبکہ کم مال والاجلدی جلدی حساب وکتاب سے فارغ ہوجائے گا، لہٰذا قیامت کے حساب وکتاب سے خود کو ڈرایئے ، اس سے بھی مال سے بے رغبتی اختیار کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(35)…غِبْطَہ (رشک)
کسی شخص میں کوئی خوبی یا اس کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ مجھے بھی یہ خوبی یا نعمت مل جائے اور اس شخص سے اس خوبی یا نعمت کے زوال کی خواہش نہ ہو تو یہ غبطہ یعنی رشک ہے۔([4])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن میں ارشاد فرماتا ہے: (وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ(۲۶)) (پ۳۰، المطففین: ۲۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے۔ ‘‘
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ دو آدمیوں کے علاوہ کسی پر حسد (یعنی رشک) کرنا جائز نہیں ، ایک وہ شخص جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا فرمایا اور اُسے صحیح راستے میں خرچ کرنے کی قدرت عطا فرمائی اور ایک وہ مرد جسے اللہ تعالٰی نے علم عطا کیا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اس کی تعلیم دے۔‘‘ ([5])
رشک بعض صورتوں میں واجب، بعض میں مستحب اور بعض میں مباح ہے۔٭ اگر کوئی نعمت دینی ہو اور واجب ہو مثلاً ایمان، نماز اور زکوٰۃ تو ایسی نعمت پر رشک کرنا بھی واجب ہے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع