30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔٭حق بات قبول کرنے والے کی لوگوں میں قدر ومنزلت بڑھ جاتی ہے۔٭حق بات قبول کرنے والا جھگڑے سے بچا رہتا ہے۔٭قبول حق کے سبب آدمی عنادِ حق اور اِصرارِ باطل سے بچ جاتا ہے۔
(2)حق بات قبول نہ کرنے کے نقصانات میں غور کیجئے: ٭حق بات قبول نہ کرنے والے کو لوگ حق کی تلقین کرنے سے رُک جاتے ہیں ۔٭حق بات قبول نہ کرنے والوں کو لوگ ناپسند کرتے ہیں ۔٭حق بات قبول نہ کرنے والا اصرارِ باطل اور عنادِ حق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔٭حق بات قبول نہ کرنے والا تکبر میں پڑ جاتا ہے۔ ٭حق بات نہ ماننے والا جھگڑے سے نہیں بچ پاتا۔٭حق بات قبول نہ کرنے والا فضول بحث ومباحثہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔٭حق بات نہ ماننے والے کو لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہونا پڑتا ہے۔
(3)قبولِ حق کے متعلق بزرگانِ دِین کے اَقوال واَحوال کا مطالعہ کیجئے: قبولِ حق کے متعلق دو فرامین بزرگانِ دِین: ٭حضرت سیدنا ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ”تین چیزیں عاجزی کی علامت ہیں : (۱)نفس کا عیب پہچان کراسے چھوٹا سمجھنا(۲)اسلام کی حرمت کے سبب لوگوں کی تعظیم کرنا اور(۳)ہر ایک سے حق بات اور نصیحت کو قبول کرنا۔ ‘‘ ([1]) ٭حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ عاجزی یہ ہے کہ تم حق کے آگے جھک جاؤاور اس کی پیروی کرو اور اگرتم سب سے بڑے جاہل سے بھی حق بات سنو تواسے بھی قبول کرلو۔ ‘‘ ([2])
(4)صالحین اور حق قبول کرنے والوں کی صحبت اختیار کیجئے: صالحین اور حق قبول کرنے والوں کی صحبت کی برکت سے قبول حق کا جذبہ ملے گااور باطل پر اِصرار سے آدمی بچ جائے گا۔
(5)ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھئے: جب بندہ یہ محسوس کرتا ہے کہ حق کی تائید کرنے سے ذاتی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گےجبکہ غلط کام پر اڑےرہنے سے میری ذات کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا تو وہ حق بات کو قبول کرنے سے رُک جاتا ہے لہٰذا قبول حق کے لیے ضروری ہے کہ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے۔
(6)تکبر کو ختم کیجئے: قبول حق میں ایک بڑی رکاوٹ تکبر ہے کہ متکبر انسان حق بات کو جان کر بھی اسے قبول کرنے سے کتراتا ہے اور اسے اپنی بے عزتی جانتا ہے لہٰذا قبولِ حق کے لیے ضروری ہے کہ تکبر کو ختم کیا جائے۔
(7)خود پسندی کو ختم کیجئے: جو اپنی رائے یا مشورے کو حتمی اور ناقابل رد سمجھتے ہیں بعض اوقات حق بات کی تائید کرنا اُن کے لیے مشکل ہوجاتا ہے اور وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بناکر حق بات کی مخالفت شروع کردیتے ہیں لہٰذا قبول حق کے لیے ضروری ہے کہ خودپسندی کو ختم کیا جائے۔
(8)حب جاہ اور طلب شہرت کو ختم کیجئے: کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بات کا حق ہونا روزِ روشن کی طرح واضح ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود مخالفت میں اپنا باطل اور غلط موقف پیش کیا جارہا ہوتا ہے جس کاسبب حب جاہ اور شہرت کا حصول ہوتا ہے لہٰذا قبولِ حق کے لیے حب جاہ اور طلب شہرت کو ختم کرنا ضروری ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(34)…مال سے بے رغبتی
مال سے محبت نہ رکھنا اور اس کی طرف رغبت نہ کرنا مال سے بے رغبتی کہلاتا ہے۔
حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ مال سے بے رغبتی کا کمال درجہ یہ ہے کہ بندے کے نزدیک مال اور پانی برابر ہوں ، ظاہر ہے کہ کثیر پانی کا انسان کے نزدیک ہونا اسے نقصان نہیں دیتا جیساکہ ساحل سمندر پر رہنے والا شخص اور نہ ہی پانی کا کم ہونا ضرر دیتا ہے جبکہ بقدرِ ضرورت پانی دستیاب ہو۔پانی ایک ایسی چیز ہے جس کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے ، انسان کا دل نہ تو کثیر پانی سے نفرت کرتا ہے اور نہ ہی راہِ فرار اختیار کرتا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ میں اس سے اپنی حاجت کے مطابق پیوں گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کو پلاؤں گااور اس میں بخل نہیں کروں گا۔ انسا ن کے نزدیک مال کی حالت بھی یہی ہونی چاہیے کہ اس کے ہونے نہ ہونے سے اسے کوئی فرق نہ پڑے۔ ‘‘ ([3])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: (كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ(۵)) (پ۳۰، التکاثر: ۵)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ ہاں ! ہاں ! اگریقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے۔ ‘‘
(حدیث مبارکہ)موت ناپسند کیوں ؟
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں موت کو پسند نہیں کرتا؟آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ کیا تمہارے پاس مال ہے؟ ‘‘ اُس نے کہا: جی ہاں ۔ فرمایا: ’’ اپنا مال آگے بھیج دو (یعنی آخرت کے لیے صدقہ کرو)، کیونکہ مؤمن کا دل اپنے مال کے ساتھ ہوتا ہے اگر اس نے اسے آگے بھیج دیا تو اس سے ملنا چاہتا ہےاور اگر پیچھے چھوڑ دے تو اس کے ساتھ پیچھے رہنا چاہتا ہے۔ ‘‘ ([4])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع