30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(33)…قبولِ حق
باطل پر نہ اَڑنا اور حق بات مان لینا قبولِ حق ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں فرماتا ہے: (اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا(۳)) (پ۲۹، الدھر: ۳) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بے شک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کرتا۔ ‘‘
(حدیث مبارکہ)قبول حق پر مجبور کرنا:
حضرت سیدنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! تم ضرور نیکی کی دعوت دیتے رہنا اوربُرائی سے منع کرتے رہنا۔ ظالم کاہاتھ پکڑکراسے حق کی طرف جھکا دینا اورحق بات قبول کرنے پر اسے مجبور کر دینا۔ ‘‘ ([1]) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ جب تک تم نیک لوگوں سے محبت رکھوگے بھلائی پر رہو گے اور تمہارے بارے میں جب کوئی حق بات بیان کی جائے تواسے مان لیاکروکہ حق کو پہچاننے والا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہوتاہے۔ ‘‘ ([2])
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حق بات قبول کرےکہ حق بات معلوم ہونے کے باوجود انانیت کی وجہ سے اسے قبول نہ کرنا فرعونیوں کا طریقہ ہے۔چنانچہ قرآنِ پاک میں فرعونیوں کے متعلق ہے: (فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۷۶)) (پ۱۱، یونس: ۷۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ تو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا بولے یہ تو ضرور کھلا جادو ہے۔ ‘‘ اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر ’’ صراط الجنان ‘‘ میں ہے: ’’ اس آیت سے معلوم ہوا کہ حق بات معلوم ہوجانے کے بعد نفسانیت کی وجہ سے اسے قبول نہ کرنا اور اس کے بارے میں ایسی باتیں کرنا جو دوسروں کے دلوں میں حق بات کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر دیں فرعونیوں کا طریقہ ہے، اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو حق جان لینےکے باوجود صرف اپنی ضد اور اَنا کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے اور اس کے بارے میں دوسرو ں سے ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے یوں لگتا ہے کہ ان کا عمل درست ہے اور حق بیان کرنے والا اپنی بات میں سچا نہیں ہے۔‘([3])
(35)(حکایت)قبولِ حق کی اعلٰی ترین مثال:
حضرت سیدنا عبداللہبن مُصْعَبْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ عورتوں کا حق مہر چالیس اَوقیہ سے زیادہ نہ کرو جو زیادہ ہوگا اسے بیت المال میں جمع کردیا جائے گا۔ ‘‘ ایک عورت بولی: ’’ اے امیر المؤمنین ! یہ آپ کیا فرمارہے ہیں حالانکہ قرآنِ پاک میں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّیوں ارشاد فرماتا ہے: اور تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو اور اُسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔‘‘ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبول حق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ ایک عورت نے صحیح کہا اور مرد نے خطا کی۔ ‘‘ ([4])
کاش ہم سیرتِ فاروقی پر عمل کرنے والے بن جائیں :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کاش! ہم بھی سیرتِ فاروقی پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اگر کوئی ہماری بات سے درست اختلاف کرے تو فوراً قبول کرلیں ۔اس معاملے میں امیر اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مبارک اَنداز دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کوئی آپ کی بات سے اختلاف رائے کرتا ہے اور بالفرض وہ درست رائے رکھتا ہے تو آپ فوراً اسے قبول فرمالیتے ہیں بلکہ اس کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اسے جزائے خیر کی دعاؤں سے بھی نوازتے ہیں ، اگر بالفرض اس کی رائے درست نہ ہوتو اَحسن طریقے سے اس کی ایسی اصلاح فرماتے ہیں کہ اسے اس بات کا اِحساس ہی نہیں ہوتا کہ میری بات کو قبول نہیں کیا گیا۔
قبول حق کاذہن بنانے اور اس کی رکاوٹوں کو دور کرنے کےآٹھ(8) طریقے:
(1)قبول حق کے فوائد پر نظر کیجئے: ٭حق بات قبول کرنے والے کو لوگ پسند کرتے ہیں ۔ ٭حق بات قبول کرنے والا تکبر سے دور ہوتا ہےکیونکہ کسی کو خود سے حقیر سمجھنا اور حق بات قبول نہ کرنا تکبر ہے۔([5]) ٭قبول حق عاجزی کی علامت ہے۔٭قبول حق صالحین اور نیک لوگوں کا طریقہ ہے۔ ٭قبول حق کے سبب آدمی فضول بحث ومباحثہ سے بچ جاتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع