30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(6) اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں میں غور کیجئے : انسان دیکھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو منعم حقیقی ہے تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور وہ ہر مخلوق کو اپنی نعمتوں سے نواز رہا ہے۔یہ اِحساس انسان کے اندر منعم حقیقی کی محبت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
(7)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عدل اور فضل ورحمت میں غور کیجئے: انسان غور کرے کہ تو اسے عدل وانصاف میں سب سے بڑھ کر ذات اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی دکھائی دے گی اور وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کافروں اور گناہ گاروں پر بھی اس کی رحمت جاری ہے باجود یہ کہ وہ اس کی نافرمانی اور سرکشی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ غوروفکر انسان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت پر اُبھارے گا۔
(8)محبت کی علامتوں میں غور کیجئے : علمائے کرام فرماتے ہیں : ’’ بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجس سے محبت کرتا ہے بندہ اسے اپنی محبوب ترین چیزپرترجیح دیتا ہے اوربکثرت اس کا ذکر کرتا ہے، اس میں کوتا ہی نہیں کرتا اور کسی دو سرے کام میں مشغول ہونے کے بجائے بندے کو تنہائی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مناجات کرنا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ ‘‘ ([1])
(9) اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کی صحبت اور اُن سے محبت: نیک بندوں کی صحبت اور ان سے محبت بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے کا ایک ذریعہ ہےکہ نیک بندے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کا درس دیتے ہیں اور ان کی صحبت سے دلوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت پیدا ہوتی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(30)…رِضائے اِلٰہی
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا چاہنا رضائے الٰہی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-) (پ۲، البقرۃ: ۱۶۵) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور ایمان والوں کو اللہکے برابر کسی کی محبت نہیں ۔ ‘‘اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر ’’ صراطُ الجنان ‘‘ میں ہے: ’’ اللہ تعالٰی کے مقبول بندے تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالٰی سے محبت کرتے ہیں ۔ محبت ِ الٰہی میں جینا اورمحبت ِ الٰہی میں مرنا ان کی حقیقی زندگی ہوتا ہے۔اپنی خوشی پر اپنے ربّ کی رضا کو ترجیح دینا، نرم وگداز بستروں کو چھوڑ کر بارگاہِ نیاز میں سربسجود ہونا، یادِ الٰہی میں رونا، رضائے الٰہی کے حصول کیلئے تڑپنا، سردیوں کی طویل راتوں میں قیام اور گرمیوں کے لمبے دنوں میں روزے ، اللہ تعالٰی کیلئے محبت کرنا، اسی کی خاطر دشمنی رکھنا، اسی کی خاطر کسی کو کچھ دینا اور اسی کی خاطر کسی سے روک لینا، نعمت پر شکر، مصیبت میں صبر، ہر حال میں خدا پر توکل، اپنے ہر معاملے کو اللہ تعالٰی کے سپرد کردینا، احکامِ الٰہی پر عمل کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا، دل کو غیر کی محبت سے پاک رکھنا، اللہ تعالٰی کے محبوبوں سے محبت اور اللہ تعالٰی کے دشمنوں سے نفرت کرنا، اللہ تعالٰی کے پیاروں کا نیاز مندرہنا، اللہ تعالٰی کے سب سے پیارے رسول و محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دل و جان سے محبوب رکھنا، اللہ تعالٰی کے کلام کی تلاوت، اللہ تعالٰی کے مقرب بندوں کو اپنے دلوں کے قریب رکھنا، ان سے محبت رکھنا، محبت ِ الٰہی میں اِضافے کیلئے اُن کی صحبت اِختیار کرنا، اللہ تعالٰی کی تعظیم سمجھتے ہوئے اُن کی تعظیم کرنا، یہ تمام اُمور اور ان کے علاوہ سینکڑوں کام ایسے ہیں جو محبت الٰہی کی دلیل بھی ہیں اور اس کے تقاضے بھی ہیں ۔([2])
(حدیث مبارکہ)جنت میں بھی رضائے الٰہی کا سوال:
حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسول اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّجنتیوں پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہےگا: مجھ سے مانگو۔جنتی کہیں گے: الٰہی! ہم تجھے سے تیری رضا کاسوال کرتے ہیں ۔ ‘‘ ([3]) ایک حدیث پاک میں ہے کہ رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے گروہِ فقراء! دل کی گہرائیوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے راضی رہو گے تو اپنے فقر کا ثواب پاؤگے ورنہ نہیں ۔ ‘‘ ([4])
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا والے کام کرے اور اس کی ناراضی والے کاموں سے بچے۔
(32)(حکایت)رضائے الٰہی پر راضی:
حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مستجاب الدعوات تھے (یعنی جو دعا کرتے قبول ہوتی)۔ ایک بار مکہ مکرمہ تشریف لائے اور اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نابینا تھے ۔لوگ دوڑتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور ہر ایک آپ سے دعا کی درخواست کرتا اور آپ سبھی کے لیے دعا کرتے۔حضرت سیدنا عبداللہ بن سائب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نوعمر تھا۔ میں نے ان سے اپنا تعارف کرایاتو وہ مجھے پہچان گئے اور فرمایا: تم مکہ والوں کے قاری ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں ۔ پھر کچھ اور باتیں ہوئیں ، آخر میں میں نے ان سے عرض کی: چچاجان! آپ لوگوں کےلیے دعا کرتے ہیں اپنے لیے بھی دعا کریں تاکہ اللہ عَزَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع