30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)مناسب یہی ہے کہ بندہ ہرچیز میں کچھ نہ کچھ نیت کرے حتی کہ کھانے، پینے، پہننے، سونے اورنکاح میں بھی نیت کرے کیوں کہ ان تما م کا تعلق ان اعمال سے ہے کہ جن کے بارے میں بروزِقیامت پوچھا جائے گا۔اگر نیت رِضائے الٰہی کی ہو تو یہ ہی عمل نیکیوں کے میزان میں وزنی ہوگا۔([1])
)1((حکایت) اچھی نیت کی وجہ سے بخشش ہوگئی:
خلیفہ ہارون الرشید کی زوجہ زبیدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کوکسی نے خواب میں دیکھکر پوچھا: ’’ مَا فَعَلَ اللہُ بِکِیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟ ‘‘ کہا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بخش دیا۔ ‘‘ پوچھا: ’’ کیامغفرت کاسبب وہ راستہ بنا جسے آپ نے بہت زیادہ مال خرچ کرکے مکہ مکرمہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کی طرف بنوایا تھا؟ ‘‘ کہا: ’’ نہیں ، اس راستے کا ثواب توکام کرنے والوں کوملا، مجھے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اچھی نیت کی وجہ سے بخش دیا۔ ‘‘ ([2])
’’ عامل نیت ‘‘ بننے کے آٹھ (8)طریقے:
(1)اچھی نیتیں کرنے کی نیت کرلیجیے: جس کام کی عادت نہ ہوتو اس کو معمولات ِزندگی میں شامل کرنا اَوّلاًدشوار ضرورہوتاہے لیکن ناممکن نہیں ، یہی معاملہ جائز کاموں سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کابھی ہے، لیکن بندہ اگرکسی جائزکام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا پختہ عزم کرلے تو پھر اس کے اِرادوں کو کمزور کرنا بہت مشکل ہے، لہٰذا اپنے جائزاعمال کو اچھی اچھی نیتوں کے ذریعے عبادات بنانے اور اس پر رحمت الٰہی سے اجر وثواب پانے کی یوں نیت کرلیجئےکہ ’’ آئندہ ہر جائز کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کروں گا۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
(2)نیت کی اہمیت ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیے : کہ کسی بھی چیز کی اہمیت اور فوائد اگر پیش نظر ہوں تو اس پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے، علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام اچھی نیت کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔حضرت سیدنا یحییٰ بن کثیر عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز فرماتے ہیں : ’’ علم نیت حاصل کرو کیوں کہ نیت کی اہمیت عمل سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ‘‘ ([3]) حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اچھی نیت کےبغیرگفتگو بھی نہ کرو۔ ‘‘ ([4]) حضرت سیدنا داود طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے تمام بھلائیوں پر غور کیا، صرف اچھی نیت کو ان کا جامِع پایا۔ ‘‘ ([5])
(3)دن کی ابتداء اچھی اچھی نیتوں سے کیجئے: شیخ طریقت، امیراہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ’’ ہرصبح یہ نیت کرلیجئے : آج کا دن آنکھ، کان ، زبان اور ہر عضو کو گناہوں اور فضولیات سے بچاتے ہوئے، نیکیوں میں گزاروں گا۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
(4)عاملین نیت کی صحبت اختیار کیجیے: کہ صحبت اثر رکھتی ہے، اچھوں کی صحبت اچھا اور بروں کی صحبت برا بنادیتی ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ شیخ طریقت، امیراہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکو دیکھا گیا ہے کہ آپ ہر جائز اور نیک کام سے قبل اچھی اچھی نیتیں کرنے کے نہ صرف خود عامل ہیں بلکہ دیگر اسلامی بھائیوں کو ترغیب بھی دلاتے رہتے ہیں ، لہٰذاعامل نیت بننے میں آپ کی صحبت اختیار کرنا بہت معاون ہے۔
(5)نیت سے متعلقہ کتب ورسائل کا مطالعہ کیجئے: اس سلسلے میں حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ ناز تصنیف ’’ احیاء العلوم ‘‘ ، علامہ ابن حاج مکی رَحمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کی کتاب ’’ المدخل ‘‘ اور امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتب ورسائل، خصوصاً رسالہ ’’ ثواب بڑھانے کے نسخے ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے کہ اس میں نیت کی دیگر معلومات کے ساتھ ساتھ کم وبیش72جائز کاموں کی اچھی اچھی نیتوں کا تفصیلی بیان موجود ہے، اس کے علاوہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مدنی مذاکروں کو سننا بھی بہت مفید ہے۔
(6)نیتیں لکھنے کی عادت بنالیجیے: کئی جائز کام ایسے بھی ہیں جنہیں روزانہ کیا جاتا ہے، بعض کام ایسے بھی ہیں جنہیں کبھی کبھی سرانجام دیاجاتا ہے، اگر دونوں طرح کے کاموں کی کچھ نہ کچھ نیتیں لکھنے کی عادت بنالی جائے تو یہ امر بھی عامِلِ نیت بننے میں بہترین معاون ہوسکتا ہے، شیخ طریقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو بھی دیکھا گیا ہے کہ کئی جائز کاموں کی اچھی اچھی نیتیں کرنے کے بعد آپ نے انہیں لکھ کر محفوظ فرمالیا ہےاور دوبارہ انہیں پڑھ کر نیتیں فرماتے رہتے ہیں ۔
(7)ہر جائز اور نیک کام سے پہلے نیتوں پر غور کرلیجئے: کہ اس کام میں کوئی اچھی نیت ہوسکتی ہے یا نہیں ، اگر ہوسکتی ہے تو پہلے نیت کرلیجئے اور پھر اس کام کو کیجئے، یہ عمل بھی عامل نیت بننے میں بہت معاون ہے بلکہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے بالوں میں کنگھی کرنا چاہتے تھے، اپنی اہلیہ کو آواز دی اور فرمایا: ’’ کنگھی لے آؤ۔ ‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’ عالی جاہ! شیشہ بھی لاؤں ؟ ‘‘ اس پر وہ بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ’’ ہاں لے آؤ۔ ‘‘ اس تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا کہ ’’ کنگھی کے لئے تو میری نیت موجود تھی لیکن شیشے کے بارے میں اُس وقت کوئی اچھی نیت موجودنہیں تھی، چنانچہ میں شیشہ منگوانے سے باز رہا پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے شیشے کیلئے میری اچھی نیت کو حاضر فرمادیا تو میں نے منگوا لیا۔ ‘‘ ([6])
(8)بدنیتی کی ہلاکتوں پر غور کیجیے : کہ جس طرح اچھی نیت کا پھل اچھا ہوتا ہے اسی طرح بری نیت کا انجام بھی برا ہوتا ہے ، اچھی نیت دنیاو آخرت میں ذریعۂ نجات ہے تو بر ی نیت سبب ہلاکت و آفات بن سکتی ہے ۔منقول ہے کہ اِبنِ مُقْلَہ نامی ایک خطاط اپنے فن میں مہارت کی وجہ سے کافی مشہور تھا، بادشاہِ وقت بھی اُس کے فن کو دیکھ کر متاثر ہوا تو اسے اپنا وزیر مقرر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع