رِجا کی اقسام اور اُن کے احکام:
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

پر پانی اور کھاد دیتا رہے پھر اس بات کا امیدوار ہوکہ   اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کھیتی کو آسمانی آفات سے محفوظ رکھے گا تو میں خوب غلہ حاصل کروں گا تو ایسی آس اور امید کو  ’’ رَجَا ‘‘  کہتے ہیں۔([1])

حقیقی امید:

حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی  ’’ احیاء العلوم ‘‘  میں فرماتے ہیں : ’’ جب بندہ ایمان کا بیج بوتا ہے اور اس کو عبادات کے پانی سے سیراب کرتاہے اور دل کو بُری عادات کے کانٹوں سے پاک کرتا ہے تو پھر وہ   اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے فضل یعنی ان چیزوں پر مرتے دم تک قائم رہنے اور مغفرت کا سبب بننے والے حُسنِ خاتمہ کا منتظر رہتا ہے تو اس کا یہ انتظار حقیقی اُمید ہے جو فی نفسہٖ قابلِ تعریف ہے۔ ‘‘ ([2])

رِجا کی اقسام اور اُن کے احکام:

حضرت سیدنا ابنِ خُبَیق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : رَجا تین طرح کی ہے: (۱)کوئی شخص اچھا کام کرے اس کی قبولیت کی اُمید رکھے۔ (۲)کوئی شخص بُرا کام کرے پھر توبہ کرے اور وہ مغفرت کی اُمید رکھتا ہو۔ (۳)جھوٹا شخص جو گناہ کرتا چلا جائے اور کہے میں مغفرت کی اُمید رکھتا ہوں ۔([3])

پہلی دوقسم کی رَجا محمود جبکہ آخری قسم کی رجا مذموم ہے جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:  ’’ اَلْاَ حْمَقُ مَنْ اَ تْبَعَ نَفْسَہُ ھَوَاھَا وَ تَمَنّٰی عَلَی اللہِ الْجَنَّةَ یعنی احمق وہ ہے جو اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرے پھر   اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے جنت کی تمنّا رکھے۔ ‘‘ ([4])

آیت مبارکہ:

  اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ( (پ۲۴،  الزمر: ۵۳)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ۔ ‘‘ اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’ مشرکین میں سے چند آدمی سیّد عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ آپ کا دِین توبے شک حق اور سچاہے لیکن ہم نے بڑے بڑے گناہ کئے ہیں بہت سی معصیتوں میں مبتلا رہے ہیں کیا کسی طرح ہمارے وہ گناہ معاف ہوسکتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ‘‘ ([5])

(حدیث مبارکہ) اچھا گمان رکھتے ہوئےمرنا:

حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے  ہیں کہ میں نے رسولُ ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ کی وفات سےتین دن پہلے یہ فرماتے سناکہ: ’’ تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس طرح کہ سے اچھی اُمید رکھتا ہو۔ ‘‘ ([6])

مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت صوفیاء کے حوالے سے فرماتے ہیں :  ’’ نیک بختی کی نشانی یہ ہے کہ بندے پر زندگی میں خوفِ خدا غالب ہو اورمرتے وقت امید، نیک کار نیکیاں قبول ہونے کی امید رکھیں اور بدکارمعافی کی۔ امید کی حقیقت یہ ہے کہ انسان نیکیاں کرے اور اس کے فضل کا امیدوار رہے،  بدکاری کے ساتھ امید رکھنا دھوکا ہے امید نہیں ،  اس حدیث کی بنا پربعض بزرگوں نے کہا کہ خوف کی عبادت سے امیدکی عبادت بہتر ہے۔ ‘‘ ([7])

رجا کا حکم:

  اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اچھا گمان رکھنا واجب ہے۔([8])

(30)(حکایت)اچھی امید کے سبب مغفرت:

حضرت سیِّدُنا قاضی یحییٰ بن اَکثم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم  کےوصال کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھ كر پوچھا: مَا فَعَلَ اللہ بِکَ یعنی   اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ انہوں نے کہا:   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھےاپنی بارگاہِ عالی میں کھڑا کر کے فرمایا:  ’’ اے بد عمل بوڑھے!  تو نے فلاں فلاں کام کیا۔ ‘‘ فرماتے ہیں : مجھ پر اس قدر رُعب طاری ہوگیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی جانتا ہے۔ پھر میں نے عرض کی:  ’’ اے میرے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ!  مجھے تیرایہ حال نہیں بتایاگیا ہے۔ ارشاد فرمایا:  ’’ پھر میرے بارے میں کیابیان کیا گیا؟ ‘‘  میں نے عرض كی: مجھ سے حضرت عبد الرزاق نے ، ان سے حضرت معمر نے، ان سےحضرت امام زُہری نے اور ان سے حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اور وہ تیرے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے اور انہوں نے حضرتِ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کے حوالے سے بیان فرمایا کہ تُو فرماتا ہے: ’’ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں تو وہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے۔ ‘‘ ([9]) میرا گمان یہ تھا کہ تُو مجھے عذاب نہیں دے گا،  تو   اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:  ’’ جبریل نے سچ کہا،  میرے نبی نے سچ کہا،  انس، زُہری، معمر ، عبد الرزاق نے بھی سچ کہا اور میں نے بھی سچ کہا۔ ‘‘  



     [1] احیاء علوم الدین،  کتاب الخوف والرجاء،  بیان حقیقۃ الرجا،  ۴ / ۱۷۴،  ا۷۵ ملخصاً۔کیمائے سعادت،  اصل سیم  در  خوف ورجاہ،  حقیقت رجا،  ۲ / ۸۱۰ ملخصاً۔

     [2] احیاء علوم الدین،  کتاب الخوف والرجاء،  بیان حقیقۃ الرجا،  ۴ / ۱۷۵۔

     [3] الرسالۃ القشیریۃ،  باب الرجا،  ص۱۶۸۔

     [4] غریب الحدیث لابن سلام،  دین،  ۱ / ۴۳۸۔

     [5] خزائن العرفان،  پ۲۴،  الزمر،  تحت الآیۃ: ۵۳۔

     [6] مسلم،  کتاب الجنة،  وصفة نعیمھا،  باب امر بحسن الظن باللّٰہ تعالٰی عند الموت،  ص ۱۵۳۸،  حدیث: ۲۸۷۷۔

     [7] مرآۃ المناجیح،  ۲ / ۴۳۹$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن