ہمدردی کا ذہن بنانےاور ہمدردی کی عادت اپنانے کے(7)طریقے:
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

(29)(حکایت)مفتی اعظم ہند اور دکھیاروں کی غمخواری:

امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی کتاب  ’’ فیضان سنت ‘‘  جلداول صفحہ111پر فرماتے ہیں : حضور مفتیٔ اعظم (محمد مصطفےٰ رضا خان) رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  مسلمانوں کی غمخواری اور دلجوئی کرنے میں اپنی مثال آپ تھے،  مسلمان کا دل توڑنے سے ہر دم اجتناب فرماتے،  ان کو فائدہ پہنچانے کے بے حد حریص تھے اور حریص کیوں نہ ہوتے کہ جس مدنی آقا میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے والہانہ عشق تھا انہی کا اِرشادِ حقیقت بنیاد ہے: ’’ خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُھُمْ لِلنَّاسِیعنی بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ‘‘ (1) اس حدیث پاک پر عمل کی مدنی جھلک پیش کرتی ہوئی ایک انوکھی حکایت ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ حضور مفتی اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ایک خاص موقع پر مدرسہ فیض العلوم (دھتکی ڈیہہ جمشید پور،  جھار کھنڈ الہند)میں مدعو کیے گئے۔ واپسی پر ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے حضور مفتی اعظم ہند رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  رکشہ میں تشریف فرما ہوئے ہی تھے کہ اتنے میں ایک شخص نے حاضر ہوکرعرض کی: حضور!  فلاں پریشانی سے دوچار ہوں ،  تعویذ مرحمت فرمادیجئے،  مدرسہ کے مہتمم رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری صاحب نے اس شخص سے فرمایا: گاڑی کا ٹائم ہو چکا ہے اور تم ابھی تعویذ کے لیے بول رہے ہو!  حضور مفتی اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم نے علامہ زید مجدہ کو اس شخص کو روکنے سے منع فرمایا۔ علامہ صاحب نے عرض کی: حضور!  گاڑی چھوٹ جائے گی۔ اس پر حضور مفتی اعظم ہند قُدِّسَ  سِرُّہ نے خوفِ خدا  عَزَّ وَجَلَّسے سرشار اوردکھیاری امت کی دلجوئی میں بے قرار ہوکر جو جواب دیا وہ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔چنانچہ فرمایا:  ’’ چھوٹ جانے دو، دوسری ٹرین سے چلا جاؤں گا۔ کل قیامت کے دن اگر خداوند کریم جَلَّ جَلَالُہ نے پوچھ لیا کہ تونے میرے فلاں بندے کی پریشانی میں کیوں مدد نہیں کی؟ تو میں کیا جواب دوں گا!  ‘‘ یہ فرما کر رکشہ سے سارا سامان اتروا لیا۔([1]) اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین

ہمدردی کا ذہن بنانےاور ہمدردی کی عادت اپنانے کے(7)طریقے:

(1)مسلمانوں سے ہمدردی کے فوائد کو پیش نظر رکھیے: فطری طور پرجب بندے کے سامنے کسی چیز کے فوائد ہوتے ہیں تو وہ اسے پانے میں جلدی کرتا ہے،  مسلمانوں سے ہمدردی کرنے کے چند فوائد یہ ہیں : ٭اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کا حصول ٭ دل جوئی ٭مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا ٭ حوصلہ افزائی کرنا ٭حسن سلوک کرنا ٭خیر خواہی کرنا٭پریشان حال کی دعاؤں کی برکت سے تکالیف وپریشانی سے نجات ملنا٭رحمت الٰہی کے سبب حصولِ جنت۔وغیرہ وغیرہ

(2)حُسن اَخلاق کوپیش نظر رکھیے: کسی مسلمان سے ہمدردی کرنا اس کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے اَخلاق کا مظاہرہ ہے۔فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:  ’’ میزانِ عمل میں حسن اَخلاق سے وزنی کوئی اورعمل نہیں ۔ ‘‘ ([2])

(3) صلۂ رحمی کو پیش نظر رکھیے: عزیزواَقارِب،  رشتہ دار تکلیف وپریشانی میں آجائیں تو اُن کے دکھ درد میں شامل ہونا ان کے ساتھ صلۂ رحمی کرنا ہے اوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا گیا ہے،  لہٰذا بندے کو چاہیے کہ صلۂ رحمی کا مدنی ذہن بنائے اور جب بھی کوئی رشتہ دار تکلیف وپریشانی میں مبتلا ہوجائے تو اس کے ساتھ ہمدردی کرکے صلۂ رحمی کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ اسلام میں صلۂ رحمی کے بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔

(4)اِحترامِ مسلم کو پیش نظر رکھیے: ایک عام مسلمان کے ساتھ ہمدردی کرنے میں احترامِ مسلم بھی ہے،  اسلام میں ایک مسلمان مؤمن کی حرمت کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے،  لہٰذا اپنے اندر احترامِ مسلم کا جذبہ بیدار کیجئے،  کسی مسلمان کےتکلیف وپریشانی میں مبتلا ہونے کا پتا چلے تو اسی جذبے کے تحت اس کی ہمدردی کی سعادت حاصل کیجئے۔

(5)حق مسلم کی ادائیگی کی نیت سے ہمدردی کیجئے: فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:  ’’ ایک مؤمن کے دوسرے مؤمن پر چھ6حق ہیں : (۱)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے (۲)جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں حاضر ہو(۳) جب وہ بلائے توحاضر ہو (۴)جب اس سے ملے تو سلام کرے (۵)جب چھینکے تو جواب دے اور (۶) موجودگی وغیر موجودگی میں اس کی خیر خواہی کرے۔ ‘‘ ([3])

(6)بیمار کی عیادت کرکے ہمدردی کیجئے: فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہے:  ’’ جو کسی مریض کی عیادت کرتاہے یا رضائے الٰہی کے لئے اپنے کسی بھائی سے ملنے جاتاہے تو ایک منادی اسے مخاطب کرکے کہتاہے کہ خوش ہو جاکیونکہ تیرا یہ چلنا مبارک ہے اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنالیا ہے ۔ ‘‘ ([4])

(7)مریض کی دعائیں لینے کے لیے اس سے ہمدردی کیجئے: مریض کی دعا بھی مقبول ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:  ’’ جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہوتی ہے۔ ‘‘ ([5])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (28)رَجَا(رَحمتِ اِلٰہی سے اُمید)

رجا کی تعریف:

آئندہ کے لئے بھلائی اور بہتری کی اُمید رکھنا ’’  رَجَا ‘‘ ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص اچھا بیج حاصل کرکے نرم زمین میں بودے اور اس زمین کو گھاس پھوس وغیرہ سے صاف کردے اور وقت



      [1] مفتئ اعظم کی استقامت و کرامت،  ص۱۲۰ ،  ۱۲۱۔

      [2] الادب المفرد ،  باب حسن الخلق،  ص۹۱،   حدیث:۲۷۳۔

     [3] نسائی،  کتاب الجنائز،  باب النھی عن سب الاموات،  ص ۳۲۸،  حدیث:۱۹۳۵۔

     [4] تر مذی ،  کتاب البر والصلۃ ،  باب ماجاء فی زیارۃ الاخوان ،  ۳ /  ۴۰۶،  حدیث: ۲۰۱۵۔

     [5] ابن ماجہ،  کتاب الجنائز،  باب ما جاء فی عیادۃ المریض،  ۲ / ۱۹۱،  حدیث: ۱۴۴۱۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن