30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(7)اپنے دِل میں احترامِ مسلم پیدا کیجئے: کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے کاروباری معاملات میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں ، اس کی ایک وجہ اِحترامِ مسلم کا نہ ہونا بھی ہے، جب بندے کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کا احترام پیدا ہوجاتا ہے توہ ان سے جھوٹ بولنے، دھوکہ دہی سے کام لینے اور خیانت کرنے میں عار محسوس کرتا اور سچ بولتا ہے، لہٰذا دل میں احترام مسلم پیدا کیجئے کہ اس کی برکت سے جھوٹ سے بچنے اور سچ بولنے میں مدد ملے گی۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ
(8)کسی کی ملامت کی پرواہ مت کیجئے: بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندہ اپنی عزت بچانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے کہ اگر سچ بولے گا تو لوگ ملامت کریں گے، برا بھلا کہیں گے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دُنیوی ذلت کے مقابلے میں جہنم کی اُخروی ذلت اور عذابات کو پیش نظر رکھے کہ دُنیوی ذلت تو چند لمحوں کی ہے اور عنقریب ختم ہوجائے گی لیکن اُخروی ذلت تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے، لہٰذا کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کیجئے، ہمیشہ سچ بولیے۔
(9)اُخروی فائدے کو دُنیوی نقصان پر ترجیح دیجئے: بسا اوقات بظاہر تھوڑے سے دُنیوی فائدے کے پیش نظر بھی بندہ جھوٹ بول لیتا ہے لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جھوٹ بولنا فقط پہلی بار آسان ہوتا ہے اس کے بعد اس میں مشکل ہی مشکل ہوتی ہے، نقصان ہی نقصان ہوتا ہے، جبکہ سچ بولنا فقط پہلی بار مشکل ہوتا ہے بعد میں اس میں آسانیاں ہی آسانیاں ہوتی ہیں ، جھوٹ بولنے میں بعض وقتی دُنیوی فوائد مگر آخرت کے بہت نقصانات ہیں ، جبکہ سچ بولنے میں کبھی ہوسکتا ہے کہ تھوڑا سا دُنیوی نقصان ہو مگر اس میں اُخروی طور پر فائدے ہی فائدے ہیں ، لہٰذا ہمیشہ سچ بولیے، اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل وکرم اور اپنی رحمت سے سچ بولنے کی برکت سے بظاہر تھوڑے سے دُنیوی نقصان کو بھی نفع میں تبدیل فرمادے گا۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(27)…ہمدردیٔ مسلم
کسی مسلمان کی غمخو اری کرنا اور اس کے دکھ درد میں شریک ہونا ’’ ہمدردیٔ مسلم ‘‘ کہلاتاہے۔ہمدردیٔ مسلم کی کئی صورتیں ہیں ، بعض یہ ہیں : (۱)بیمار کی عیادت کرنا (۲)انتقال پر لواحقین سے تعزیت کرنا (۳)کاروبار میں نقصان پر یا مصیبت پہنچنے پر اِظہارِ ہمدردی کرنا (۴)کسی غریب مسلمان کی مدد کرنا (۵)بقدرِ استطاعت مسلمانوں سے مصیبتیں دور کرنا اور اُن کی مدد کرنا(۶)علم دِین پھیلانا (۷)نیک اَعمال کی ترغیب دینا (۸) اپنے لیے جو اچھی چیز پسند ہو وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیےبھی پسند کرنا۔ (۹)ظالم کو ظلم سے روکنا اور مظلوم کی مدد کرنا (۱۰) مقروض کو مہلت دینا یا کسی مقروض کی مدد کرنا(۱۱) دکھ درد میں کسی مسلمان کو تسلی اور دلاسہ دینا۔ وغیرہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: (وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ)(پ۲۸، الحشر: ۹)ترجمہ کنزالایمان: ’’ اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو۔ ‘‘
صدرُالافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک بھوکا شخص آیا، حضور نے ازواجِ مطہرات کے حجروں پر معلوم کرایا کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ معلوم ہوا کسی بی بی صاحبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے، تب حضور نے اصحاب سے فرمایا: جو اس شخص کو مہمان بنائے ، اللہ تعالٰی اس پر رحمت فرمائے۔ حضرت ابوطلحہ انصاری کھڑے ہوگئے اور حضور سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے ، گھر جا کر بی بی سے دریافت کیا: کچھ ہے ؟ انہوں نے کہا: کچھ نہیں ، صرف بچّوں کےلئے تھوڑا سا کھانا رکھا ہے۔ حضرت ابوطلحہ نے فرمایا: بچّوں کو بہلا کر سُلادو اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ وہ اچھی طرح کھا لے۔ یہ اس لیے تجویز کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھارہے ہیں کیونکہ اس کو یہ معلوم ہوگا تو وہ اصرار کرے گا اور کھانا کم ہے بھوکا رہ جائے گا۔ اس طرح مہمان کو کھلایا اور آپ ان صاحبوں نے بھوکے رات گذاری۔ جب صبح ہوئی اور سیّدِعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حُضورِ اَقدس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’ رات فلاں فلاں لوگوں میں عجیب معاملہ پیش آیا، اللہ تعالٰی ان سے بہت راضی ہے۔ ‘‘ اور یہ آیت نازل ہوئی۔([1])
(حدیث مبارکہ)مصیبت زدہ سے غمخواری کی فضیلت:
حضرت سیدنا جابربن عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ جو کسی غمزدہ شخص سے غمخواری کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا اور روحو ں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے غمخواری کرےگا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے عطا کرےگا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہو سکتی۔([2])
اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’ ہر فردِ اسلام کی خیرخواہی ہرمسلمان پرلازم ہے۔ ‘‘ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع