30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہوں نے اپنے سردار کو میرے بارے میں بتایا تو مجھے وہاں بلا لیا گیا۔ وہ مال کی تقسیم کرنے میں مصروف تھے۔ ڈاکوؤں کا سردار مجھ سے مخاطب ہوا: ’’ تمہارے پاس کیا ہے؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ چالیس دینار ہیں ۔ ‘‘ ڈاکوؤں کے سردار نے ڈاکوؤں کو حکم دیتے ہوئے کہا: ’’ اس کی تلاشی لو۔ ‘‘ تلاشی لینے پر جب سچائی کا اظہار ہوا تو اس نے تعجب سے سوال کیا کہ ’’ تمہیں سچ بولنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ والدہ ماجدہ کی نصیحت نے۔ ‘‘ سردار بولا: ’’ وہ نصیحت کیا ہے؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ میری والدہ محترمہ نے مجھے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی تھی اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ سچ بولوں گا۔ ‘‘ تو ڈاکوؤں کا سردار رو کر کہنے لگا: ’’ یہ بچہ اپنی ماں سے کیے ہوئے وعدے سے منحرف نہیں ہوا اور میں نے ساری عمر اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّسے کیے ہوئے وعدے کے خلاف گزار دی ہے۔ ‘‘ اسی وقت وہ ان ساٹھ ڈاکوؤں سمیت میرے ہاتھ پر تائب ہوا اور قافلے کا لوٹا ہوا مال واپس کردیا۔([1])
سچ بولنے کا ذہن بنانے اور سچ بولنے کے نو(9)طریقے:
(1)سچ کے فضائل کا مطالعہ کیجئے: تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ٭ ’’ سچائی کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں (لے جانے والے)ہیں اور جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ یہ گناہ کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں (لے جانے والے )ہیں ۔ ‘‘ ([2])٭ ’’ جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب نیکی کرتا ہے محفوظ ہوجاتا ہے اور جب محفوظ ہوجاتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘ ([3]) ٭ ’’ تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں : (۱) جب بولو تو سچ بولو(۲) جب وعدہ کرو تو اسے پورا کرو(۳) جب امانت لو تو اسے ادا کرو (۴) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو (۵)اپنی نگاہیں نیچی رکھا کرو اور (۶) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو ۔ ‘‘ ([4])
(2)سچ سے متعلق بزرگانِ دِین کے اَقوال کا مطالعہ کیجئے: چنداَقوال یہ ہیں : ٭ حضرت سیدنا عبدُاللہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں ہوں گی وہ نفع پائے گا: (۱)صدق(یعنی سچ) (۲) حیا (۳)حسن اخلاق اور (۴) شکر۔ ‘‘ ٭ حضرت سیدنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ صدق (یعنی سچ) کو اپنی سواری، حق کو اپنی تلوار اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکو اپنا مطلوب ومقصود بنالو۔ ‘‘ ٭ حضرت سیدنا محمد بن علی کتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دِین کو تین اَرکان پر مبنی پایا: (۱)حق (۲) صدق (یعنی سچ)اور (۳)عدل۔ پس حق اَعضاء پر، عدل دِلوں پر اور صدق عقلوں پر ہوتا ہے۔ ‘‘ ([5])
(3)سچ کے دُنیوی واُخروی فوائد پر غور کیجئے: چندفوائد یہ ہیں : ٭سچ بولنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر عمل کرتا ہے۔٭سچ بولنے والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا حاصل ہوتی ہے۔ ٭سچ بولنے والے کی روزی میں برکت ہوتی ہے۔٭سچ بولنے والے کو مؤمن قرار دیا گیا ہے۔ ٭ سچ بولنے والا نفاق سے دُور ہوجاتا ہے۔٭سچ بولنے والے کا دِل روشن ہو جاتاہے۔ ٭سچ بولنے والے کا ضمیر مطمئن ہوتاہے۔٭سچ بولنے والے کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔٭سچ بولنے والے کا رحمت الٰہی سے خاتمہ بالخیر ہوگا۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ٭سچ بولنے والے کو رحمت الٰہی سے قبر وحشر کی تکلیفوں سے امان ملے گی۔اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ٭سچ بولنے والے کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ
(4)جھوٹ بولنے کی وعیدوں کو پیش نظر رکھیے: تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ٭ ’’ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتاہے اورجب گناہ کرتاہے توناشکری کرتا ہے اور جب ناشکری کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہوجاتاہے۔ ‘‘ ([6])٭ ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور (۳)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ ‘‘ ([7]) ٭کتنی بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات کہو جس میں وہ تمہیں سچا سمجھ رہا ہو حالانکہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔ ‘‘ ([8])
(5)جھوٹ بولنے کے دُنیوی واُخروی نقصانات پر غور کیجئے: چندنقصانات یہ ہیں : ٭جھوٹ بولنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نافرمان ہے۔٭جھوٹ بولنے والے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی لعنت ہے۔٭جھوٹ بولنا منافق کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔٭جھوٹ بولنے والے کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا۔٭جھوٹ بولنے والا مسلمانوں کو دھوکا دینے والا ہے۔ ٭ جھوٹ بولنے والے کا ضمیر مطمئن نہیں ہوتا۔٭جھوٹ بولنے والے کی روزی سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ ٭جھوٹ بولنے والے کا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔٭جھوٹ بولنے والے کو قبروحشر کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
(6)اپنے دل میں خوفِ خدا پیدا کیجئے: خوفِ خدا تمام گناہوں سے بچنے کی اصل ہے، جب بندے کے دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف پیدا ہوجاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو تمام گناہوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے، خوفِ خدا پیدا کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۶۰صفحات پر مشتمل کتاب ’’ خوفِ خدا ‘‘ اور حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیکی مایہ ناز تصنیف ’’ اِحیاء العلوم ‘‘ جلد۴، صفحہ ۴۵۱ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع