دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

ایک گڑھا، یہ تو وہی جگہ ہے کہ جہاں دوخوف ناک شکلوں والے فرشتے سر سے پاؤں تک بال لٹکائے،  آنکھوں سے شعلے نکالتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں مجھ سے تین سوال کریں گے،  آہ!  گناہوں کی نحوست کے سبب کہیں میری قبر دوزخ کا گڑھا نہ بنا دیا جائے۔ آہ !  میرا کیا بنے گا ؟ پھراپنے آپ سے مخاطب ہوکرکہیں کہ ابھی تومیں زندہ ہوں ، ابھی میری سانسیں چل رہی ہیں ، میں اُن حسرت آمیز لمحات کے آنے سے پہلے پہلے اپنی قبر کو جنت کا باغ بنانے کی کوشش میں لگ جاؤں گا،  خوب نیکیاں کروں گا ،  گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کروں گا تاکہ کل مجھے پچھتانا نہ پڑے،  لمبی لمبی امیدیں باندھنے کی بجائے فکر آخرت میں مشغول ہوجاؤں گا ۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ

(9)حشریعنی قیامت کی ہولناکیوں کا تصور کیجئے: یوں تصور کیجئے کہ میں نے قبر سے نکل کر بارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّمیں حاضری کے لئے میدانِ محشر کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے،  سورج آگ برسا رہا ہے،  لیکن اس کی تپش سے بچنے کے لئے کوئی سایہ میسر نہیں ،  ہر ایک کو پسینوں پر پسینے آرہے ہیں جس کی بدبو سے دماغ پھٹا جارہا ہے، ہر کوئی پیاس سے نڈھال ہے،  زندگی بھر کی جانے والی نافرمانیوں کا سوچ کردل ڈوبا جارہا ہے، ان کے نتیجے میں ملنے والی جہنم کی ہولناک سزاؤں کے تصور سے کلیجہ کانپ رہا ہے،  آہ صد آہ !  اپنے رب عزوجل کی نافرمانی کرکے اسی کی بارگاہ میں حاضر ہو کرزندگی بھر کے اعمال کا حساب کیسے دوں گا؟ دوسری طرف اپنی مختصر سی زندگی میں نیک اعمال اختیار کرنے والوں کو ملنے والے انعامات دیکھ کر اپنے کرتوتوں پرشدید افسوس ہو رہا ہے کہ وہ خوش نصیب تو سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال لے کر شاداں وفرحاں جنت کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں ،  لیکن نہ جانے میرا کیا بنے گا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے جہنم میں جانے کا حکم سناکر الٹے ہاتھ میں اَعمال نامہ تھما دیا جائے اور سارے عزیز واقارب کی نظروں کے سامنے مجھے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے،  ہائے میری ہلاکت! آہ میری رسوائی(مَعَاذَاللّٰہ) یہاں پہنچ کراپنی آنکھیں کھول دیجئے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یوں کہے کہ گھبراؤ نہیں ! ابھی مجھ پریہ وقت نہیں آیا ،  ابھی میں زندہ ہوں ،  یہ زندگی میرے لئے غنیمت ہے ، مجھے لمبی لمبی امیدیں لگانے کی بجائے اپنی آخر ت سنوارنے کی کوشش میں لگ جانا چاہے،  میں اپنے ربّ تعالٰی کا اطاعت گزار بندہ بننے کے لئے اس کے اَحکامات پر ابھی اور اسی وقت عمل شروع کر دوں گا تاکہ کل میدانِ محشر میں مجھے پچھتانا نہ پڑے۔اِنْ شَآءَاللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (26)صِدق (سچ بولنا)

صدق کی تعریف :

حضرت علامہ سید شریف جرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی صدق یعنی سچ کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’ صدق کا لغوی معنی واقع کے مطابق خبر دینا ہے۔ ‘‘ ([1])

آیت مبارکہ:

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتاہے: (وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۳۳)) (پ۲۴،  الزمر: ۳۳) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں ۔ ‘‘ اس آیت مبارکہ میں سچ لے کر تشریف لانے والے سے مراد حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں اور تصدیق کرنے والے سے مراد امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیا تمام مؤمنین ہیں ۔([2])٭ایک اور مقام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے: (مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-) (پ۲۱،  الاحزاب: ۲۳) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہد اللہسے کیا تھا۔ ‘‘

(حدیث مبارکہ)سچ جنت کی طرف لے جاتا ہے:

اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،  دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک صدق (سچ)نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بے شک آدمی سچ بولتا رہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں صدیق (بہت بڑا سچا)لکھ دیا جاتا ہے اور بے شک کذب (جھوٹ) گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بے شک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ ‘‘ ([3])

سچ بولنے کا حکم:

ہرمسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دِینی ودُنیوی تمام معاملات میں سچ بولے کہ سچ بولنا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔

(28)(حکایت)سچ بولنے کی برکت:

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۰۶صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حالات ‘‘  صفحہ ۳۷ پر ہے: سرکار بغداد،  حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ جب میں علم دین حاصل کرنے کے لیے جیلان سے بغداد قافلے کے ہمراہ روانہ ہوا اور جب ہمدان سے آگے پہنچے تو ساٹھ (60)ڈاکو قافلے پر ٹوٹ پڑے اور سارا قافلہ لوٹ لیا لیکن کسی نے مجھ سے تعرض نہ کیا۔ ایک ڈاکو میرے پاس آکر پوچھنے لگا:  ’’ اے لڑکے!  تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ ‘‘  میں نے جواب میں کہا:  ’’ ہاں ۔ ‘‘  ڈاکو نے کہا:  ’’ کیا ہے؟ ‘‘  میں نے کہا:  ’’ چالیس دینار۔ ‘‘  اس نے پوچھا:  ’’ کہاں ہیں ؟ ‘‘  میں نے کہا:  ’’ گدڑی کے نیچے۔ ‘‘  ڈاکو اس راست گوئی کو مذاق تصور کرتا ہوا چلا گیا۔ اس کے بعد دوسرا ڈاکو آیا اور اس نے بھی اسی طرح کے سوالات کیے اور میں نے یہی جوابات اس کو بھی دیے اور وہ بھی اسی طرح مذاق سمجھتے ہوئے چلتا بنا۔ جب سب ڈاکو اپنے سردار کے پاس جمع ہوئے تو



    [1] التعریفات للجرجانی،  باب الصاد،  ص۹۵۔

    [2] خزائن العرفان،  پ۲۴،  الزمر،  تحت الآیۃ: ۳۳۔

    [3] مسلم،  کتاب البروالصلۃ والآداب،  باب قبح الکذب ۔۔۔الخ،  ص۱۴۰۵،  حدیث: ۲۶۰۷۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن