30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)چھوٹی امید سے متعلق روایات کا مطالعہ کیجئے: چندروایات یہ ہیں : ٭ حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت عبدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ارشاد فرمایا: ’’ جب تم صبح کرو تو تمہارے دل میں شام کا خیال نہ آئے اور جب شام کرو تو صبح کی اُمید نہ رکھو اور اپنی تندرستی سے بیماری کے لیے اور زندگی سے موت کے لیے کچھ توشہ لے لو۔ اے عبدُاللہ! تم نہیں جانتے کہ کل کس نام سے پکارے جاؤ گے۔ ‘‘ ٭ حضرت سیدنا عبدُاللہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے طبعی حاجت سے فراغت حاصل کی اور پانی بہایا، پھر تیمم فرمایا تو میں نے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پانی تو قریب ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ میں پانی تک پہنچنے کی از خود امید نہیں رکھتا۔ ‘‘ ٭ایک بار حضور نبی کریم رءوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے پوچھا: ’’ کیا تم سب جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو؟ ‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ تو ارشاد فرمایا: ’’ اپنی امیدوں کو چھوٹا کرو، موت کو آنکھوں کے سامنے رکھو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنے کا حق ادا کرو۔ ‘‘ ([1])
(2)لمبی امیدوں کی ہلاکتوں پر غور کیجئے: تین روایات ملاحظہ کیجئے: ٭ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین لکڑیاں لیں ، ایک اپنے سامنے گاڑی، دوسری اس کے برابر میں جبکہ تیسری کچھ دور۔ پھر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ارشاد فرمایا: ’’ تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ‘‘ انہوں نے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں ۔ارشاد فرمایا: ’’ ایک لکڑی انسان اور دوسری موت ہے، جبکہ دور والی امید ہے، انسان امید کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہے مگر امید کی بجائے موت اسے اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ ‘‘ ٭آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے مگر اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں ، ایک حرص اور دوسری (لمبی) امید۔٭اس امت کے پہلوں نے یقین کامل اور پرہیزگاری کے سبب نجات پائی جبکہ آخری زمانے والے بخل اور (لمبی) امید کے سبب ہلاک ہوں گے۔([2])
(3) اُمیدوں کی کمی سے متعلق اَقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے: چنداقوال یہ ہیں :
٭ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ میں اس شخص کی مانند ہوں جس کی پھیلی ہوئی گردن پر تلوار رکھی جاچکی ہے اور اسے انتظار ہے کہ کب اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا داود طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اگر میں ایک مہینہ زندہ رہنے کی امید کروں تو تم دیکھو کے کہ یقیناً میں نے بڑا گناہ کیا اور میں یہ اُمید بھی کیسے رکھ سکتا ہوں حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ مصیبتوں نے دن ورات ہر گھڑی میں لوگوں کو گھیرا ہوا ہے۔ ‘‘ ([3])٭حضرت سیدنا قعقاع بن حکیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں : ’’ میں موت کے لیے 30سال سے تیاری کررہا ہوں ، اگر وہ آجائے تو اتنی تاخیر بھی برداشت نہ کروں گا جتنی تاخیر کوئی چیز آگے پیچھے کرنے میں ہوتی ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا عبدُاللہ بن ثعلبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’ حیرت ہے کہ تم ہنستے ہو جبکہ تمہارا کفن دھوبی کے پاس سے آچکا ہوتا ہے۔ ‘‘ ([4])
(4) اپنے اندر خوفِ خدا پیدا کیجئے: امیدوں کی کمی کا یہ ایک بہترین علاج ہے، کیونکہ جس کا دل خوف خدا سے معمور ہوتا ہے وہ لمبی لمبی امیدیں لگانے کی بجائے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت واطاعت میں مصروف ہوجاتا ہے، جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کے لیے تیاری کرتا ہے، اَحکامات شرعیہ کی پابندی کرتا ہے، گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔
(5)دل کو حب دنیا سے پاک کیجئے: لمبی امیدوں کا ایک بہت بڑا سبب دنیا کی محبت بھی ہے، جب بندے کے دل میں دنیا کی محبت گھرکرجاتی ہے تو وہ لمبی لمبی امیدیں لگانے کی آفت میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس کے اندر طویل عرصے تک زندہ رہنے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے، لہٰذا دل کو حب دنیا سے پاک کیجئےکہ جو جتنا زیادہ لذَّتِ نفس کی خاطر راحتوں میں زندگی گزارتا ہے مرنے کے بعد اسےان آسائشوں کے چھوٹنے کا صدمہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
(6)امیدوں کی کمی وزیادتی، فوائد ونقصانات کی معلومات حاصل کیجئے: لمبی امیدوں کا ایک سبب جہالت بھی ہے کہ بندہ اپنی جوانی پر بھروسا کرکے یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ جوانی میں موت نہیں آئے گی اور بے چارہ اس بات پر غور نہیں کرتا کہ زیادہ تر لوگ جوانی میں ہی مَرجاتے ہیں ، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ لمبی امیدوں کے نقصانات اور چھوٹی امیدوں کے فضائل وغیرہ کی تفصیلی معلومات حاصل کرے، اس سلسلے میں مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ، حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ نازتصنیف ’’ احیاء العلوم ‘‘ جلد۵، صفحہ ۴۸۴سے مطالعہ بہت مفید ہے۔
(7)ہر وقت موت کو پیش نظررکھیے: موت کی یاد اُمیدوں کی کمی کا بہت بڑا سبب ہے۔اِس کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے جوان رشتہ داروں ، دوستوں اورمحلے داروں کو یاد کرے جو ہنستے کھیلتے اچانک موت کا شکار ہو کر قبر کی اندھیری کوٹھری میں چلے گئے، وہ لوگ بھی موت کا شکار ہوگئے جنہوں نے کبھی موت کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا، مجھے بھی اچانک موت کا مزہ چکھنا ہوگا اور اندھیری قبر میں اترنا ہوگا اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا ہوگا، امید ہے یوں امیدوں کی کمی کا مدنی ذہن بنے گا۔
(8) نزع وقبر کے وحشت ناک ماحول کا تصور کیجئے: یوں تصور کیجئے کہ میری موت کا وقت آپہنچاہے، مجھ پر غشی طاری ہو چکی ہے، زبان خاموش ہوچکی ہے، مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی ہے، میرے گرد کھڑے لوگ مجھے بے بسی کے عالم میں دیکھ رہے ہیں ، پھر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرے جسم میں سوئیاں چبھودی گئی ہوں ، میرے جسمانی اَعضاء ٹھنڈے ہونا شروع ہوگئے، میرے دل کی دھڑکن آہستہ ہوتے ہوتے بند ہوگئی، میری سانس بھی ختم ہوگئی، آہ میری موت واقع ہوگئی، مجھے غسل وکفن دیا گیا، جنازہ گاہ پہنچ کر میری نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور قبرستان لے جایا گیا، یہ وہی قبرستان ہے کہ جہاں دن کے اُجالے میں تنہا آنے کے تصور سے ہی میرا کلیجہ کانپتا تھا، یہ وہی قبر ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ جنت کا ایک باغ ہے یا دوزخ کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع