30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو) سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی۔دنیاعنقریب ختم ہونے والی ہے، اگربالفرض یہ ایک لاکھ سال تک باقی رہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بالکل صاف شَفّاف بھی ہو اس میں کوئی میل کچیل نہ ہوتو بھی اسے آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے کوئی نسبت نہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کی عُمر قلیل اور دُنیوی لذات آلودہ اور میلی ہوتی ہیں ، بھلا ایسی چیز کو آخرت سے کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ ‘‘ ([1])
(9)زُہدکے مختلف درجات کی معلومات حاصل کرکے عمل کی کوشش کیجئے: ٭ زُہدکے تین درجات یہ ہیں : (۱)پہلا درجہ: بندے کا مقصد عذابِ جہنم، عذابِ قبر، حساب کی سختی، پل صراط سے گزرنا اور ان دیگر مصائب وآلام سے چھٹکارے کا حصول ہو جن کا احادیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے، یہ سب سے ادنیٰ درجے کا زُہد ہے۔(۲) دوسرا درجہ: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ملنے والے ثواب، نعمتوں اور جنت میں جن انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے، مثلاً: محلات وغیرہ ان پر نظر رکھتے ہوئے زُہد اختیار کیا جائے۔ (۳) تیسرا درجہ: بندہ صرف اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کے سبب اور اس کے دیدار کی دولت پانے کے لیے زُہد اختیار کرے، نہ تو اس کا دل اُخروی عذابوں کی طرف متوجہ ہو اور نہ ہی جنتی نعمتوں کی طرف متوجہ ہو، یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(25)…اُمیدوں کی کمی
نفس کی پسندیدہ چیزوں یعنی لمبی عمر، صحت اور مال میں اضافے وغیرہ کی امید نہ ہونا ’’ اُمیدوں کی کمی ‘‘ کہلاتاہے۔([3]) اگر لمبی عمر کی خواہش مستقبل میں نیکیوں میں اضافے کی نیت کے ساتھ ہوتو اب بھی ’’ اُمیدوں کی کمی ‘‘ ہی کہلائے گی۔([4])
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے: ( ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(۳)) (پ۱۴، الحجر: ۳) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں اور امید انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں ۔ ‘‘ تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’ اس میں تنبیہ ہے کہ لمبی امیدوں میں گرفتار ہونا اور لذاتِ دنیا کی طلب میں غرق ہو جانا ایماندار کی شان نہیں ۔ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : لمبی امیدیں آخرت کو بُھلاتی ہیں اور خواہشات کا اِتباع حق سے روکتا ہے۔ ‘‘ ([5])
(حدیث مبارکہ)امیدوں میں کمی دخول جنت کا سبب:
سرکارِ دوعالم نورِ مجسم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک بار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے دریافت فرمایا: ’’ کیا تم سب جنت میں داخل ہونا پسند کرتے ہو؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ جی ہاں ، یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ امیدیں کم کرو اوراپنی موت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرو جیسےاس سے حیا کرنے کا حق ہے۔ ‘‘ ([6])
اُمیدوں کی کمی دنیا سے بے رغبتی اور فکرِآخِرت میں مشغول رکھنے، نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے، لہٰذا ہرمسلمان کو چاہیے کہ لمبی لمبی امیدیں باندھنے کی بجائے جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیاری میں مشغول رہے۔
(27)(حکایت)صحت دھوکے میں مبتلا نہ کرے:
حضرت سیدنا عُبَیْدُاللہ بن شُمَیْط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’’ اے لمبی صحبت سے دھوکا کھانے والو! کیا تم نے کسی کو بیماری کے بغیر مرتے نہیں دیکھا؟ اے لمبی مہلت ملنے سے دھوکا کھانے والو! کیا تم نےبغیر مہلت کے کسی کو گرفتار ہوتے نہیں دیکھا؟اگر تم اپنی لمبی عمر کے بارے میں سوچو گے تو پچھلی لذتیں بھول جاؤ گے، تمہیں صحت نے دھوکے میں ڈالا ہے یا لمبا عرصہ عافیت سے گزرنے پر اتراتے ہو یا موت سے بے خوف ہوچکے ہو یا پھر موت کے فرشتے پر دلیر ہو چکے ہو؟ جب موت کا فرشتہ آئے گا تو اسے تمہارا ڈھیر سارا مال روک سکے گا نہ لوگوں کی کثرت روک سکے گی، کیا تم نہیں جانتے کہ موت کا وقت انتہائی تکلیف دہ، سخت اور نافرمانیوں پر نادم ہونے کا ہے۔ ‘‘ پھر فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے پر رحم فرمائے جو موت کے بعد کام آنے والے اَعمال کرے اور اس پر بھی رحم فرمائے جو موت آنے سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کرلے۔ ‘‘ ([7])
امیدوں میں کمی کا ذہن بنانے اور کمی کرنے کے نو(9)طریقے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع