30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2)زُہدسے متعلق اَقوال بزرگانِ دِین پر غور کیجئے: چند اَقوال یہ ہیں : ٭ حضرت سیدنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’ دنیا سے زُہد اس چیز کا نام ہے کہ لوگوں سے بے رغبتی اختیار کی جائے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ زُہد تو درحقیقت قناعت ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی
فرماتے ہیں : ’’ لمبی امید نہ لگانا زُہد ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ زاہد وہ شخص ہے جو کسی کو دیکھے تو کہے کہ یہ مجھ سے افضل ہے۔ ‘‘ ٭ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ رزقِ حلال کی تلاش زُہد ہے۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ جو شخص تکلیفوں پر صبر کرے، شہوات کو ترک کردے اورحلال غذا کھائے تو بے شک اس نے حقیقی زُہد کو اختیار کرلیا۔ ‘‘ ([1])
(3) زُہد سے متعلق بزرگانِ دِین کے اَحوال کا مطالعہ کیجئے: اس سلسلے میں حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ ناز تصنیف ’’ احیاء العلوم ‘‘ جلد چہارم، صفحہ ۶۹۱ سے مطالعہ بہت مفید ہے۔
(4)فضیلتِ زُہد پر اَقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے: چنداقوال یہ ہیں : ٭ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ دنیا سے بے رغبتی بدن اور دل کی راحت کا سبب ہے۔ ‘‘ ٭ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ ہم نے تمام اعمال کو کرکے دیکھا لیکن آخرت کے معاملے میں دنیا سے بے رغبتی سے زیادہ کسی عمل کو مؤثر نہ پایا۔ ‘‘ ٭حضرت سیدنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، جب اہل جنت ان میں سے داخل ہونا چاہیں گے تو دروازوں پر مقرر فرشتے کہیں گے: ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّکی عزت کی قسم! جنت کے عاشقوں اور دنیا سے بے رغبت رہنے والوں سے پہلے کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا۔ ‘‘ ٭ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ جس شخص کو زُہد کی دولتحاصل ہواس کا دو رکعت نماز ادا کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّکو (غیرزاہد) عبادت گزاروں کی ہمیشہ کی عبادت سے زیادہ پسند ہے۔ ‘‘ ([2])
(5) سچے زاہد کی صفات اپنانے کی کوشش کیجئے: حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں کہ سچے زاہد کی غذا وہ ہے جو مل جائے، لباس وہ جو سترپوشی کردے اور مکان وہ جہاں اسے رات ہو جائے۔ دنیا اس کے لیے قیدخانہ، قبر اس کا بچھونا، تنہائی اس کی مجلس، حصول عبرت اس کی فکر، قرآن اس کی گفتگو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا انیس، ذکر اس کا رفیق، زہد اس کا ساتھی، غم اس کا حال، حیا اس کی نشانی، بھوک اس کا سالن، حکمت اس کا کلام، مٹی اس کا فرش، تقویٰ اس کا زادِ راہ، خاموشی اس کا مال، صبر اس کا تکیہ، توکل اس کا نسب، عقل اس کی دلیل، عبادت اس کا پیشہ اور جنت اس کی منزل ہوگی۔ اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ([3])
(6) زُہد کی علامات پیداکرنے کی کوشش کیجئے: جب علامات پیدا ہوجائیں گی تو زُہد بھی خود بخود پیدا ہوجائے گا۔ زُہد کی تین علامتیں ہیں : ٭پہلی علامت: جو چیز موجود ہے اس پر خوش نہ ہو اور جو موجود نہیں اس پر غمگین نہ ہو۔٭دوسری علامت: زاہد کے نزدیک مذمت اور تعریف کرنے والا برابر ہو۔٭تیسری علامت: زاہد کو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت ہو، اس کے دل پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت واطاعت کی حَلاوَت ومِٹھاس غالِب ہو کیونکہ کوئی بھی دل محبت کی حَلاوَت سے خالی نہیں ہوتا تو اس میں محبتِ دنیا کی حَلاوَت ہوتی ہے یا پھر محبت اِلٰہی کی حَلاوَت۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے زُہد کی کئی اور علامات بھی بیان فرمائی ہیں ، تفصیل کے لیے احیاء العلوم، جدچہارم، صفحہ ۷۲۹ کا مطالعہ کیجئے۔
(7) دنیا کوآخرت پرترجیح دینے کے نقصانات پر غور کیجئے: کہ جب بندے پر کسی چیز کا نقصان ظاہر ہوجاتا ہے تو عموماً اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، جب بندہ دنیا کو آخرت پرترجیح نہیں دے گا تو یقیناً آخرت کو دنیا پر ترجیح دے گا اور یہی زُہد ہے۔ حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجور سلطانِ بحروبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے تین باتوں میں مبتلا فرمادے گا: (۱) ایسا غم جو کبھی اس کے دل سے جدا نہ ہوگا۔ (۲)ایسا فقر جس سے کبھی نجات نہ ملے گی اور (۳) ایسی لالچ جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ ‘‘ ([4])
(8)آخرت کے لیے دنیا کو ترک کردینے کی اس مثال میں غوروتفکر کیجئے: اس سے بھی زُہد اختیار کرنے میں معاونت نصیب ہوگی۔حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ آخرت کےلئے دنیا کو ترک کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ کے دروازے پر موجود کتا اندر جانے سے روک دے، یہ شخص اس کتے کےآگے روٹی کا ایک لقمہ ڈال دے اورجب وہ اسے کھانے میں مشغو ل ہو تو یہ اندر داخل ہوجائے، پھر اسے بادشاہ کا قُرب نصیب ہوجائے یہاں تک کہ پوری سلطنت میں اس کا حکم جاری ہوجائے۔کیاتمہارے خیال میں وہ شخص بادشاہ پر اپنا احسان سمجھے گا کہ اس کا قرب پانے کے عوض میں نے اس کے کتےکے آگے روٹی کا لقمہ ڈالا تھا۔شیطان بھی ایک کتے کی طرح ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دروازے پر موجود ہے اور لوگوں کو اندر داخل ہونے سے روکتا ہے اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کا دروازہ کھلا ہوا ہے، پردے اٹھادئیے گئے ہیں اور ہر کسی کو داخلے کی اجازت ہے۔دنیا اپنی تمام تر نعمتوں سمیت روٹی کے ایک لقمے کی مانند ہے، اگر تم اسے کھالوتو اس کی لذت صرف چبانے کے وقت تک محدود ہے، حلق سے نیچے اترتے ہی اس کی لذت ختم ہوجاتی ہے، معدے میں اس کا بوجھ باقی رہتا ہے اور آخر کار یہ گندگی اور نجاست کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور انسان اسے اپنے جسم سے باہر نکالنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔جو شخص ایسی حقیر چیز کو بادشاہ کا قرب پانے کے لئے ترک کردے بھلا وہ دوبارہ اس کی طرف کیسے متوجہ ہوسکتا ہے؟کوئی شخص اگرچہ سو (100) سال تک زندہ رہے لیکن اسے دی جانے و الی دنیا کو آخرت میں ملنے والی نعمتوں سے وہ نسبت بھی نہیں ہے جو روٹی کے ٹکڑے اور بادشاہ کے قرب کی نعمت کے درمیان ہےکیونکہ متناہی چیز(یعنی جس کی کوئی انتہاہو)کو لامتناہی چیز(یعنی جس کی کوئی انتہا نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع