30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّقارون کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے: (فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖؕ-قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُۙ-اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۷۹)وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًاۚ-وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ(۸۰))(پ۲۰، القصص: ۷۹، ۸۰) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ تو اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں ، بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے ، اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللہکا ثواب بہتر ہے اس کے لئے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں ۔ ‘‘ حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ اِس آیت مقدسہ میں زُہد کو علماء کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور زاہدین کا وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ علم کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں اور یہ بات زُہد کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ ‘‘ ([1])
(حدیث مبارکہ)زُہد اختیار کرنے والے کی فضیلت:
ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ہم نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ ہر وہ مؤمن جو دل کا صاف اور زبان کا سچا ہو۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ صاف دل والے سے کیا مراد ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ وہ متقی اور مخلص شخص جس کے دل میں خیانت، دھوکا، بغاوت اور حسد نہ ہو۔ ‘‘ پھر عرض کی گئی: ’’ ایسے شخص کے بعد کون افضل ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ وہ شخص جو دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت کرنے والا ہو۔ ‘‘ ([2])
زُہد نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں : ’’ اَحکام کے اعتبار سے زُہد کی تین اَقسام ہیں : (۱)فرض کہ بندہ اپنے آپ کو حرام چیزوں سے بچائے۔ (۲)نفل کہ بندہ اپنے آپ کو حلال چیزوں سے بھی بچائے۔(۳)احتیاط کہ بندہ شبہات سے اپنے آپ کو بچائے۔([3]) پھر زُہدکے تین درجات ہیں : (۱)جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر چیز حتی کہ جنت الفردوس سے بھی بے رغبتی اختیار کرے، صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرے وہ زاہد مطلق ہے جو کہ زُہد کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔(۲) جو شخص تمام دُنیوی لذات سے بے رغبت ہو لیکن اُخروی نعمتوں مثلاً جنتی حوروں ، محلات وباغات، نہروں اور پھلوں وغیرہ کی لالچ کرے وہ بھی زاہد ہے لیکن اس کا مرتبہ زاہد مطلق سے کم ہے۔(۳) جو شخص دُنیوی لذات میں سے بعض کو ترک کرے اور بعض کو نہیں مثلاً مال ودولت کو ترک کرے، مرتبے اور شہرت کو نہیں یا کھانے پینے میں وسعت کو ترک کردے زینت وآرائش کو نہیں ، اس کو مطلقاً زاہد نہیں کہا جاسکتا۔ زاہدین میں ایسے شخص کا وہی مرتبہ ہے جیسے توبہ کرنے والوں میں اس شخص کا جو بعض گناہوں سے توبہ کرے اور بعض سے نہ کرے، جس طرح ایسے تائب کی توبہ صحیح ہے کیونکہ ممنوعہ چیزوں کو ترک کرنے کا نام توبہ ہے یوں ہی ایسے زاہد کا زُہد بھی صحیح ہے کیونکہ مباح لذتوں کا ترک کرنا زُہد کہلاتا ہے اور جس طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بعض ممنوعات کو ترک کرپاتا ہو اور بعض کو نہیں ، اسی طرح جائز چیزوں میں بھی یہ ہوسکتا ہے۔ ‘‘ ([4])
(26)(حکایت)رسول خدا کا اختیار ی زُہد:
امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تودیکھا کہ دوجہاں کے سلطان رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھجور کی چھال سے بُنی ہوئی چارپائی پر آرام فرماتھے، جس کے سبب مبارک پہلوؤ ں پرنشانات پڑگئےتھے۔یہ منظر دیکھ کرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اشک بار ہو گئے۔ حضور نبی کریم، رءوف رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا: ’’ اے عمر! کیوں روتے ہو؟ ‘‘ عرض کی: ’’ مجھے اس بات نے رُلادیا کہ قیصر وکسریٰ جیسے بادشاہ تو دنیوی آسائشوں میں زندگی گزار رہے ہیں اورآپ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب وچنے ہوئے بندے اوررسول ہونے کے باوجود کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ایک چارپائی پر آرام فرما ہیں ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے عمر! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا اور ہمارے لئے آخرت ہو؟عرض کی: ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اس بات پر راضی ہوں ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ تو پھر ایسا ہی ہے۔ ‘‘ ([5])(یعنی ان کے لئے دنیا اور ہمارے لئے آخرت ہے)
زُہد کا ذہن بنانے اور اختیار کرنے کے نو(9)طریقے:
(1) زُہد کے فضائل وفوائد پر غور کیجئے: چندفضائل وفوائد یہ ہیں : ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّزُہد اختیار کرنے والے کے ارادوں کو مضبوط فرمادیتا ہے۔٭زاہد کے مال واسباب کی حفاظت فرماتا ہے۔٭زاہد کے دل میں دنیا سے بے نیازی پیدا فرمادیتا ہے۔ ٭زاہد کے پاس دنیا ذلیل ہوکر آتی ہے۔٭زاہد کو حکمت عطا کردی جاتی ہے۔ ٭زاہد سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ محبت فرماتا ہے۔جس دل میں ایمان اور حیا موجود ہوں اس میں زُہدا ورتقویٰ قیام کرتے ہیں ۔٭زاہد کے دل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّایمان سے منور فرمادیتا ہے۔٭زاہد کی زبان پر بھی حکمت جاری ہوجاتی ہے۔٭زاہد کو اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا کی بیماری اور اس کے علاج کی پہچان عطا فرمادیتا ہے۔٭زاہد کو اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا سے صحیح سلامت نکال کر سلامتی کے گھر یعنی جنت کی طرف لے جاتا ہے۔٭زُہد اختیار کرنا انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور امام الانبیاء احمد ٘مجتبےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔٭زاہد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محبوب ہے۔٭زاہد کو بغیر سیکھے علم اور بغیر کوشش کے ہدایت نصیب ہوجاتی ہے۔ ٭ زاہد پر دنیا کی مصیبتیں آسان ہوجاتی ہیں ۔([6])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع