30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ایسی رقت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔ ٭ حضرت سیدنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے۔ ٭ حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوفِ خدا سے اتنا روتے تھے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آپ کی اکثر بینائی رخصت ہوگئی۔([1])
٭ایک بار حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک جنازے میں شریک تھے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اَقدس (مبارک آنکھوں )سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی نم ہوگئی، پھر فرمایا: اے بھائیو! اس قبر کے لیے تیاری کرو۔([2])
٭حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک بار بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: جب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جہنم کو پیدا فرمایا ہے، میری آنکھیں اس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں نہ ڈال دیا جاؤں ۔([3])
(7)خود اِحتسابی کی عادت اپناتے ہوئے فکرمدینہ کیجئے: اپنی ذات کا محاسبہ کرلینے کی عادت اپنا لینے سے بھی خوفِ خدا کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے، فکرمدینہ کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات زندگی کا محاسبہ کرے، پھر جو کام اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں ، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو اُمور اُخروی اِعتبار سے نفع بخش نظر آئیں ، اِن میں بہتری کے لیے اِقدامات کرے، مدنی اِنعامات پر عمل کرے۔
(8)خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اِختیار کیجئے: ایسے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی بندے کے دل میں خوفِ خدا بیدار کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے گا ، تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیارکرے گا جن کے دل خوفِ خدا سے معمور ہوں ، اُن کی آنکھیں اللہ تعالٰی کے ڈر سے روئیں تو امید ہے کہ یہی کیفیات اس کے دل میں بھی سرایت کر جائیں گی ۔اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(24)…زُھد(دنیا سے بے رغبتی)
دنیا کو ترک کرکے آخرت کی طرف مائل ہونے یا غیرُاللہ کو چھوڑ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونے کا نام زُہدہے۔([4])اور ایسا کرنے والے کو زاہد کہتے ہیں ۔زُہد کی مکمل اور جامع تعریف حضرت سیدنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کا قول ہے، آپ فرماتے ہیں : ’’ زُہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز کو ترک کردے جو اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دور کرے۔‘‘ ([5])
حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الوَالی فرماتے ہیں : ’’ حقیقی زاہد تو وہ ہے جس کی پاس دنیا ذلت کے ساتھ حاضر ہو، اس کے حصول کے لئے مشقت بھی نہ اٹھانی پڑےاور وہ کسی بھی قسم کا نقصان اٹھائے بغیر دنیا کو استعمال کرنے پر قادر ہو۔ مثلاً عزت میں کمی ، بدنامی یا کسی خواہِشِ نفس کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو لیکن وہ اس خوف سے دنیا کو ترک کردے کہ اسے اختیار کرکے میں اس سے مانوس ہوجاؤں گا اور یوں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ کسی اور سے مانوس ہونے اور محبت کرنے والوں نیز اس کی محبت میں غیر کو شریک کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں گا۔آخرت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ملنے والے ثواب کو حاصل کرنے کی نیت سے دنیا کو ترک کرنے والا شخص بھی حقیقی زاہد ہے۔ جو شخص جنتی مشروبات کو پانے کے لئے دنیوی مشروبات سے نفع اٹھانے کو ترک کردے، حورانِ جنت کے اشتیاق میں دنیوی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو، جنتی باغات اوران کے درختوں پر نظر رکھتے ہوئے دنیا کے باغات سے نفع نہ اٹھائے، جنت میں زیب وزینت کے حُصُول کے لئے دنیا میں آرائش وزیبائش سے منہ موڑلے، جنتی میوہ جات کو پانے کیلئے دنیا کی لذیذ غذاؤں کو ترک کردےاس خوف سےکہ کہیں روزِ قیامت یہ نہ کہہ دیا جائے: (اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ- )(پ۲۶، الاحقاف: ۲۰) ترجمۂ کنز الایمان: ’’ تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے۔ ‘‘ ۔ الغرض جو شخص اس بات پر نظر رکھتے ہوئے کہ آخرت دنیا سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے اور اس کے علاوہ دیگر ہر چیز دنیا ہے جس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہے، جنتی نعمتوں کو ان تمام چیزوں پر ترجیح دے جو اسے دنیا میں بغیر کسی مَشَقَّت کے بآسانی دستیاب ہیں حقیقت میں ایسا شخص زاہد کہلانے کا حق دار ہے۔([6])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع