30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(22)…اللہ کی رضا پر راضی رہنا
اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی تعریف :
خوشی، غمی، راحت، تکلیف، نعمت ملنے ، نہ ملنے، الغرض ہراچھی بری حالت یا تقدیر پر اس طرح راضی رہنا، خوش ہونا یا صبر کرنا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی شکوہ یا واویلا وغیرہ نہ ہو ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہنا ‘‘ کہلاتا ہے۔
٭دعا مانگنا، گناہوں سے نفرت کرنا، گناہوں سے بچنے کی دعا کرنا، مغفرت طلب کرنا، گناہ کے مرتکب سے ناراض ہونا، اسباب گناہ کو برا جاننا، اس پر راضی نہ ہونا، امربالمعروف ونہی عن المنکر کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا، گناہوں والی سرزمین سے بھاگنا اور اس کی مذمت کرنا، دِین پر معاونت کرنے والے اسباب کو اختیار کرنا، یہ تمام امور رضا کے خلاف نہیں ۔٭شکوہ کے طور پر مصیبت کا اظہار کرنا، دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّپر ناراض ہونا، کھانے کی اشیاء کو برا کہنا اور ان میں عیب نکالنا، یہ تمام امور رضا کے خلاف ہیں ۔ ٭اس طرح کہنا کہ ’’ فقر آزمائش ہے، اہل وعیال غم اور تھکاوٹ کا باعث ہیں ، پیشہ اختیار کرنا تکلیف اور مشقت ہے۔ ‘‘ یہ تمام باتیں رضا میں خلل ڈالتی ہیں بلکہ بندے کو چاہیے کہ وہ تدبیر اور مملکت کو اس کے مدبر اور مالک کے سپرد کردے اور وہ کہے جو امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا تھاکہ: ’’ مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تونگری (مالداری)کی حالت میں صبح کروں یا فقر کی حالت میں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے میرے لیے کونسی حالت بہتر ہے۔ ‘‘ ([1])
٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ) رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۱۹)( (پ۷، المائدہ: ۱۱۹)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ ہے بڑی کامیابی ۔ ‘‘ ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: (هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰)) (پ۲۷، الرحمن: ۶۰)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔ ‘‘ حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’ اِحسان کی انتہا یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندے سے راضی ہو اور یہ وہ ثواب ہے جو بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے راضی ہونے کی صورت میں ملتا ہے۔ ‘‘ ([2])
(حدیث مبارکہ)رِضائے الٰہی پر راضی رہنے والے مؤمن:
رسولِ اَکرم شفیع معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت سے استفسار فرمایا: ’’ تم لوگ کیا ہو؟ ‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’ ہم مؤمن ہیں ۔ ‘‘ اِستفسار فرمایا: ’’ تمہارے اِیمان کی کیا نشانی ہے؟ ‘‘ عرض کی: ’’ ہم آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں ، آسودگی میں شکر الٰہی بجالاتے ہیں اور ربّ تعالٰی کی تقدیر پر راضی رہتے ہیں ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ ربّ کعبہ کی قسم! تم مؤمن ہو۔ ‘‘ ([3])
اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا حکم:
ہرمسلمان پر لازم ہے کہ ہرحال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی رہے، رضائے الٰہی پر راضی رہنا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔
(24)(حکایت)صبرورضا نے گرفتاری سے بچالیا:
حضرت سیدنا ابوعکاشہ مسروق کوفی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جنگل میں رہتا تھا، اس کے پاس ایک کتا، ایک گدھا اور ایک مرغ تھا۔ مرغ تو گھروالوں کو نماز کے لیے جگایاکرتا تھا اور گدھے پر وہ پانی بھرکر لاتا اور خیمے وغیرہ لادا کرتا اور کتا ان کی پہرہ داری کرتا تھا۔ ایک دن لومڑی آئی اور مرغ کو پکڑ کر لے گئی، گھروالوں کو اس بات کا بہت رنج ہوا مگر وہ شخص نیک تھا، اس نے کہا: ’’ ہوسکتا ہے اسی میں بہتری ہو۔ ‘‘ پھر ایک دن بھیڑیا آیا اور گدھے کا پیٹ پھاڑ کر اس کو مار دیا، اس پر بھی گھروالے رنجیدہ ہوئے مگر اس شخص نے کہا: ’’ ممکن ہے اسی میں بھلائی ہو۔ ‘‘ پھر ایک دن کتا بھی مرگیا تو اس شخص نے پھر بھی یہی کیا: ’’ ممکن ہے اسی میں بہتری ہو۔ ‘‘ ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ایک صبح انہیں معلوم ہوا کہ اُن کے اَطراف میں آباد تمام لوگوں کو قید کرلیا گیا ہے اور صرف یہ ہی محفوظ رہے ہیں ۔ حضرت سیدنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ دیگر تمام لوگ کتوں ، گدھوں اور مرغوں کی آوازوں کی وجہ سے ہی پکڑے گئے۔ پس تقدیر الٰہی کے مطابق اُن کے حق میں بہتری اِن جانوروں کی ہلاکت میں تھی۔‘‘ ([4])
اللہ کی رضا پر راضی رہنے کے نو (9)طریقے:
(1)رضائے الٰہی پر راضی رہنے کے فضائل پر غور کیجئے: تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : (۱) ’’ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کو اسلام کی ہدایت دی گئی اور اس کا رزق بقدر کفایت ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ ‘‘ (۲) ’’ جو شخص تھوڑے رزق پر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے راضی رہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتا ہے۔‘‘ (۳) ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پس اگر بندہ صبر کرے تو وہ اس کو چن لیتا ہے اور اگر راضی رہے تو اس کو برگزیدہ بنالیتا ہے۔ ‘‘ ([5])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع