دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Najat Dilane Wale Aamal Ki Malomat Ma 41 Hikayat | نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

book_icon
نجات دِلانے والے اعمال کی معلومات مع 41 حکایات

شفیع اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے درودِ پاک کے فضائل بیان فرمائے ہیں ،  درودِ پاک پڑھنے والے کو دنیا وآخرت کی بے شمار بھلائیاں عطا کردی جاتی ہیں ،  درود شریف پڑھنے والے کو تمام اوراد ووظائف سے کفایت کردی جاتی ہے،  کل بروزِ قیامت اسے شفاعت نصیب ہوگی،  جنت میں داخلہ نصیب ہوگا۔ مزید فضائل کے لیے حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی مایہ ناز تصنیف  ’’ احیاء العلوم ‘‘  جلداول،  صفحہ ۹۲۴کا مطالعہ کیجئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (21)راہِ خُدا میں خرچ کرنا

راہِ خدا میں خرچ کرنے کی تعریف :

اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِضا اور اَجروثواب کے لیے اپنے گھروالوں ،  رشتہ داروں ،  شرعی فقیروں ،  مسکینوں ،  یتیموں ،  مسافروں ،  غریبوں و دیگر مسلمانوں پر اور ہرجائز ونیک کام یا نیک جگہوں میں حلال وجائز مال خرچ کرنا  ’’ راہِ خدا میں خرچ کرنا ‘‘  کہلاتا ہے۔

آیت مبارکہ:

اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ ((پ۳،  البقرہ: ۲۵۴) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اے ایمان والو اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو ۔ ‘‘

(حدیث مبارکہ)راہِ خدا میں خرچ کرنے والاقابل رشک ہے:

حضرت سیدنا سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ حسد (یعنی رشک) نہیں مگر فقط دو آدمیوں کے معاملے میں : پہلا وہ شخص جسے   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن عطا فرمایا اور وہ دن رات اس کے ساتھ قائم رہے۔ دوسرا وہ شخص جسے   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مال عطا فرمایا اور وہ دن رات (راہِ خدا میں )خرچ کرتا رہے۔ ‘‘ ([1])

راہِ خدا میں خرچ کرنے کا حکم:

راہِ خدا میں اپنا جائز اور حلال مال خرچ کرنا بعض صورتوں میں فرض،  بعض میں واجب اور بعض میں مستحب ہے۔

(23)(حکایت)سیدنا صدیق اکبر کاراہ خدا میں مال خرچ کرنا:

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۷۲۳صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضانِ صدیق اکبر ‘‘  صفحہ۲۶۹سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے راہِ خدا میں خرچ کرنے کے حوالے سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے: غزوۂ تبوک کے موقع پر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’ اپنا مال راہِ خدا میں جہاد کے لیے صدقہ کرو۔ ‘‘ اس فرمانِ عالیشان کی تکمیل میں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے حسب توفیق اپنا اپنا مال راہِ خدا میں تصدق کیا۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دس ہزار مجاہدین کا سازو سامان تصدق کیا اور دس ہزار دینار خرچ کیے،  اس کے علاوہ نو سو اونٹ اور سو گھوڑے مع سازوسامان فرمانِ حبیب خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر لبیک کہتے ہوئے بارگاہِ رِسالت میں پیش کر دیے۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ میرے پاس بھی مال تھا،  میں نے سوچا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہردفعہ ان معاملات میں مجھ سے سبقت لے جاتے ہیں ،  اس بار زیادہ سے زیادہ مال صدقہ کرکے ان سے سبقت لے جاؤں گا۔ ‘‘  چنانچہ وہ گھر گئے اور گھرکا سارا مال اکٹھا کیا ،  اس کے دو حصے کیے،  ایک گھروالوں کے لیے چھوڑا اور دوسرا حصہ لے کر بارگاہِ رسالت میں پیش کردیا۔ سرکار نامدار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا:  ’’ اے عمر!  گھروالوں کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہو؟ ‘‘  عرض کیا:  ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  آدھا مال گھروالوں کے لیے چھوڑ آیا ہوں ۔ ‘‘  اتنے میں عاشق اکبر،  یارِ غارِ مصطفےٰ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنا مال لے کر بارگاہ رسالت میں اس طرح حاضر ہوئے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بالکل سادہ سی قبا پہنی ہوئی تھی،  جس پر ببول کے کانٹوں کے بٹن لگائے ہوئے تھے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور استفسار فرمایا:  ’’ اے ابوبکر!  گھروالوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟  ‘‘ بس محبوب کا یہ پوچھنا تھا کہ گویا عاشق صادق کا دل عشق ومحبت کی مہک سے جھوم اٹھا،  فورا ہی سمجھ گئے کہ بات کچھ اور ہے،  کیونکہ محبوب تو جانتا ہے کہ میرے عاشق صادق نے تو اس وقت بھی اپنی جان،  مال،  آل اولاد سب کچھ قربان کردیا تھا جب مکہ مکرمہ میں حمایت کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے بلکہ اکثر لوگ جانی دشمن بن گئے تھے اور محبوب کے کلام کو کیوں نہ سمجھتے کہ یہ تو وہ عاشق تھے جو ہر وقت اس موقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ بس محبوب فرمائیں !  سب کچھ قدموں میں لا کر قربان کردیں ،  گویا:

کیا پیش کریں جاناں کیا چیز ہماری ہے

یہ دل بھی تمہارا ہے یہ جاں بھی تمہاری ہے

یہ تو وہ عاشق صادق تھے،  جنہوں نے کبھی اپنے مال کو اپنا سمجھا ہی نہیں ،  بلکہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا اسے محبوب کی عطا سمجھتے اور کیوں نہ سمجھتے کہ:

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب

 



     [1] مسلم،  کتاب صلاۃ المسافرین،  باب فضل من یقوم بالقرآن۔۔۔الخ،  ص۴۰۷،  حدیث: ۸۱۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن